مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - . باب: حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اشْتَكَى ، فَاشْتُرِيَ لَهُ عُنْقُودُ عِنَبٍ بِدِرْهَمٍ ، فَجَاءَ مِسْكِينٌ ، فَقَالَ : أَعْطُوهُ إِيَّاهُ ، ثُمَّ خَالَفَ إِنْسَانٌ فَاشْتَرَاهُ بِدِرْهَمٍ ، ثُمَّ جَاءَ بِهِ إِلَيْهِ ، فَجَاءَ الْمِسْكِينُ يَسْأَلُ ، فَقَالَ : أَعْطَوْهُ إِيَّاهُ ، ثُمَّ خَالَفَ إِنْسَانٌ فَاشْتَرَاهُ مِنْهُ بِدِرْهَمٍ ، فَأَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ حَتَّى مُنِعَ ، وَلَوْ عَلِمَ بِذَلِكَ الْعُنْقُودِ مَا ذَاقَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نُعَيْمِ بْنِ حَمَّادٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہو گئے ، ان کے لئے ایک درہم کے عوض میں انگوروں کا گچھا خریدا گیا ، ایک غریب آیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ اسے دے دو ، پھر ایک شخص اس کے پیچھے گیا ، اس نے وہ گچھا اس سے ایک درہم کے عوض میں خریدا اور ان کے پاس لے آیا ، اسی دوران وہ مسکین پھر آیا ، اس نے مانگا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ اسے دے دو ، پھر ایک اور انسان اس کے پیچھے گیا اس نے وہ گچھا اس سے ایک درہم کے عوض میں خرید لیا ، اس مسکین نے دوبارہ مانگنے کا ارادہ کیا تو اسے منع کر دیا گیا ، اگر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس گچھے کا پتہ چل جاتا ، تو انہوں نے اسے چکھنا بھی نہیں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نعیم بن حماد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔