حدیث نمبر: 15870
وَعَنْ مَكْحُولٍ قَالَ : بَيْنَا أَنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ وَهُوَ يَمْشِي إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَعَهُ رُمْحٌ ، فَوَضَعَ زُجَّ الرُّمْحِ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْإِبْهَامِ مِنْ قَدَمِ ابْنِ عُمَرَ ، فَحَمَلَ الشَّيْخُ ، فَأَدْخَلَ فَوَرِمَتْ سَاقُهُ ، فَأَتَاهُ الْحَجَّاجُ يَعُودُهُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَنْ أَصَابَكَ بِهَذَا حَتَّى آخُذَ لَكَ مِنْهُ ؟ قَالَ : اللَّهُ ، لَيَأْخُذَنَّ مِنْهُ اللَّهُ ، لَيَأْخُذَنَّ مِنْهُ . قَالَ : مَا بَالُ حَرَمِ اللَّهِ وَأَمْنِهِ يُحْمَلُ فِيهِ السِّلَاحُ ؟ ! ! قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ هَذَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

مکحول بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ وہ پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اسی دوران ایک سیاہ فام ان کے پاس سے گزرا ، جس کے پاس نیزہ تھا ، اس نے اس کا نیچے والا دھاری دار حصہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آگے ان کے پاؤں کے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی کے درمیان رکھا ( اور انہیں زخمی کر دیا ) انہیں اُٹھا کر گھر لایا گیا ، ان کی پنڈلی ورم آلود ہو گئی ، حجاج ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن ! آپ کو یہ تکلیف کس نے پہنچائی ہے ؟ میں اس سے آپ کا بدلہ لیتا ہوں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے گا ، پھر انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے حرم اور اس کی مقرر کردہ امان والی جگہ کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہاں ہتھیار اُٹھائے جاتے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15870
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13040)»