حدیث نمبر: 15867
وَعَنِ الْمُطْعَمِ بْنِ مِقْدَامٍ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ : كَتَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ : بَلَغَنِي أَنَّكَ تَطْلُبُ ،وَإِنَّ الْخِلَافَةَ لَا تَصْلُحُ لِعَيِيٍّ ، وَلَا بَخِيلٍ ، وَلَا غَيُورٍ . ¤ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عُمَرَ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَمْرِ الْخِلَافَةِ أَنِّي أَطْلُبُهَا ، فَمَا طَلَبْتُهَا ، وَمَا هِيَ مِنْ بَالِي . وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مَنْ أَمْرِ الْعَيِيِّ وَالْبُخْلِ وَالْغَيْرَةِ ، فَإِنَّ مَنْ جَمَعَ كِتَابَ اللَّهِ فَلَيْسَ بِعَيِيٍّ ، وَمَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَلَيْسَ بِبَخِيلٍ . وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْغَيْرَةِ ، فَإِنَّ أَحَقَّ مَا غِرْتُ فِيهِ وَلَدِي أَنْ يُشْرِكَنِي فِيهِ غَيْرِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ ؛ الْمُطْعَمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین

مطعم بن مقدام صنعانی بیان کرتے ہیں : حجاج بن یوسف نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خط لکھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ حکومت کے طلبگار ہیں ، حالانکہ خلافت کسی ایسے شخص کے لئے موزوں نہیں ہے ، جو کمزور ہو یا بخیل ہو ، یا زیادہ غصے والا ہو ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے خط میں لکھا : تم نے جہاں تک خلافت کے معاملے کا ذکر کیا ہے کہ میں اس کا طلبگار ہوں تو میں اس کا طلبگار نہیں ہوں ، اور نہ ہی یہ میرا کام ہے ، اور جہاں تک تم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ کمزوری ہے ، کنجوسی ہے ، اور مزاج کی تیزی ہے ، تو جس شخص نے اللہ کی کتاب کو جمع کیا ہو ( یعنی حفظ کیا ہو ) وہ کمزور نہیں ہوتا ، جس شخص نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کی ہوئی ہو ، وہ بخیل نہیں ہوتا اور جہاں تک مزاج کی تیزی کا تم نے ذکر کیا ہے ، تو جس چیز کے بارے میں ، میں مزاج کی تیزی دکھاؤں گا ، اس میں سب سے زیادہ حق دار میری اولاد ہے کہ کوئی اس میں میرا شریک ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ
یہ روایت مطعم نامی راوی کی نقل کردہ مرسل روایت ہے کیونکہ اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15867
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطيراني فى المعجم الكبير (13048)»