مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - . باب: حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15864
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : إِنْ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لِيَقْسِمُ فِي الْمَجْلِسِ ثَلَاثِينَ أَلْفًا ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَيْهِ شَهْرٌ مَا يَأْكُلُ فِيهِ مُزْعَةَ لَحْمٍ . قَالَ بُرْدٌ : قُلْتُ لِنَافِعٍ : هَلْ كَانَ يَأْكُلُ اللَّحْمَ ؟ قَالَ : كَانَ إِذَا صَامَ أَوْ سَافَرَ فَإِنَّهُ أَكْثَرُ طَعَامِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک محفل میں تیس ہزار کی رقم تقسیم کر دی اور پھر ایک مہینہ ان پر ایسا گزرا کہ انہیں اس دوران گوشت کا ایک ٹکڑا بھی کھانے کے لئے نہیں ملا ۔ برد نامی راوی کہتے ہیں : میں نے نافع سے دریافت کیا : کیا وہ گوشت کھایا کرتے تھے ؟ نافع نے بتایا : جب انہوں نے روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا ، یا جب وہ سفر کر رہے ہوتے تھے ، تو وہ زیادہ تر گوشت ہی کھاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف برد بن سنان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔