کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الطَّيَّارُ فِي الْجَنَّةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، وَأُمُّهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَسَدِ بْنِ هَاشِمٍ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر فتح ہونے کی اطلاع ملی ، تو آپ کو بتایا گیا : سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نجاشی کے پاس سے تشریف لے آئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اندازہ نہیں ہو رہا کہ ان دونوں میں سے کس چیز کی زیادہ خوشی ہو رہی ہے ؟ جعفر کے آنے کی ، یا خیبر فتح ہونے کی ؟ “ جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15487
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : قَدِمَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَقَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَقَالَ : " مَا أَدْرِي أَنَا بِقُدُومِ جَعْفَرٍ أَسَرُّ أَمْ بِفَتْحِ خَيْبَرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِي رِجَالِ الْكَبِيرِ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور ارشاد فرمایا : ” مجھے اندازہ نہیں ہو رہا کہ مجھے جعفر کی آمد سے زیادہ خوشی ہو رہی ہے ، یا خیبر فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہے ؟ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور معجم کبیر کی سند میں ایک راوی انس بن سالم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15488
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : لَمَّا أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتْحَ خَيْبَرَ ، قِيلَ لَهُ : قَدْ قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَنَا أَشَدُّ فَرَحًا بِقُدُومِ جَعْفَرٍ ، أَوْ فَتْحِ خَيْبَرَ " . فَأَتَاهُ فَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ "أَنَّهُ قَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ" فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر فتح ہونے کی اطلاع ملی ، تو آپ کو بتایا گیا : سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نجاشی کے پاس سے تشریف لے آئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اندازہ نہیں ہو رہا کہ ان دونوں میں سے کس چیز کی زیادہ خوشی ہو رہی ہے ؟ جعفر کے آنے کی ، یا خیبر فتح ہونے کی ؟ “ جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15489
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنَ الْحَبَشَةِ عَانَقَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ سے تشریف لائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ معانقہ کیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15490
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1876)»
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ تَلَقَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا نَظَرَ جَعْفَرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَجَلَ إِعْظَامًا مِنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَقَالَ : " يَا حَبِيبِي أَشْبَهَ النَّاسِ بِخَلْقِي وَخُلُقِي ، وَخُلِقْتَ مِنَ الطِّينَةِ الَّتِي خُلِقْتُ مِنْهَا " ، قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَكِّيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّعَيْنِيُّ ، وَهَذَا مِنْ مَنَاكِيرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین سے تشریف لائے ، تو ان کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کے پیش نظر تیزی سے آگے بڑھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور ارشاد فرمایا : ” اے میرے محبوب فرد ! تم ظاہری شکل و صورت اور اخلاق کے اعتبار سے ، میرے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہو ، تمہیں اُسی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ، جس سے مجھے پیدا کیا گیا ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے کتاب ” الخلافہ “ میں گزر چکی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مکی بن عبداللہ رعینی ہے اور یہ روایت اُس کی نقل کردہ ” منکر “ روایات میں سے ایک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15491
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِجَعْفَرٍ : " أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن اسلم رضی اللہ عنہ ۔ یہ سیدنا اسلم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں ۔ عبداللہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرمایا : ” ظاہری شکل و صورت اور اخلاق کے حوالے سے تم میرے ساتھ مشابہت رکھتے ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15492
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (432/4)»
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِجَعْفَرٍ : " خَلْقُكَ كَخَلْقِي ، وَأَشْبَهَ خَلْقَكَ خَلْقِي ، فَأَنْتَ مِنِّي ، وَأَنْتَ يَا عَلِيُّ فَمِنِّي وَأَبُو وَلَدِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَقَّالٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” تمہاری ظاہری شکل و صورت ، میری شکل و صورت کی مانند ہے ، اور تمہارے اخلاق ، میرے اخلاق کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ، تم مجھ سے ہو اور اے علی ! تم بھی مجھ سے ہو ، اور تم میرے بچوں کے باپ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد أحمد بن عبدالرحمن بن عقال کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15493
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (378) اخرجه احمد فى المسند (204/5)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ مَرَّ مَعَ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمِيكَائِيلَ ، لَهُ جَنَاحَانِ عَوَّضَهُ اللَّهُ مِنْ يَدَيْهِ - فَسَلَّمَ ثُمَّ أَخْبَرَنِي كَيْفَ كَانَ أَمْرُهُ حَيْثُ لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ ، فَلِذَلِكَ سُمِّيَ جَعْفَرٌ الطَّيَّارَ فِي الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جعفر بن ابوطالب ، جبرائیل اور میکائیل کے ہمراہ گزرا ہے ، اُس کے دو پر ہیں ، یہ ” پر “ اللہ تعالیٰ نے اُسے اس کے دونوں بازؤں کے بدلے میں عطا کیے ہیں ، اس نے سلام کیا ، اور پھر اس نے مجھے بتایا : کہ جب وہ مشرکین کے مدمقابل آیا تھا ، تو اس کو کیا معامله درپیش ہوا تھا ؟ اسی وجہ سے جنت میں اس کا نام ” جعفر طیار “ رکھا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15494
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ وَأَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ قَرِيبَةٌ مِنْهُ إِذْ رَدَّ السَّلَامَ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَسْمَاءُ هَذَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا - مَرُّوا فَسَلَّمُوا عَلَيْنَا ، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمُ السَّلَامَ ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، فَأُصِبْتُ فِي جَسَدِي مِنْ مَقَادِيمِي ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ بَيْنَ طَعْنَةٍ وَضَرْبَةٍ ، ثُمَّ أَخَذْتُ اللِّوَاءَ بِيَدِيَ الْيُمْنَى فَقُطِعَتْ ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِي الْيُسْرَى فَقُطِعَتْ ، فَعَوَّضَنِي اللَّهُ مِنْ يَدَيَّ جَنَاحَيْنِ أَطِيرُ بِهِمَا مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ فِي الْجَنَّةِ ، أَنْزِلُ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُ ، وَآكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا مَا شِئْتُ " . فَقَالَتْ أَسْمَاءُ : هَنِيئًا لِجَعْفَرٍ مَا رَزَقَهُ اللَّهُ مِنَ الْخَيْرِ ، وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يُصَدِّقَنِي النَّاسُ ، فَاصْعَدِ الْمِنْبَرَ فَأَخْبِرِ النَّاسَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ ، لَهُ جَنَاحَانِ عَوَّضَهُ اللَّهُ مِنْ يَدَيْهِ ، يَطِيرُ بِهِمَا فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَ ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ " . فَأَخْبَرَ كَيْفَ كَانَ أَمْرُهُمْ حِينَ لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ ، فَاسْتَبَانَ لِلنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ أَنَّ جَعْفَرًا لَقِيَهُمْ ، فَسُمِّيَ جَعْفَرَ الطَّيَّارَ فِي الْجَنَّةِ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ انہوں نے یہ بات نقل کی ہے : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور پھر یہ بتایا : اے اسماء ! یہ جعفر بن ابوطالب ، جبرائیل اور میکائیل کے ساتھ موجود ہے ، انہوں نے گزرتے ہوئے ہمیں سلام کیا ، تو میں نے انہیں سلام کا جواب دیا ، اس نے مجھے بتایا : فلاں فلاں دن اُس کا مشرکین سے سامنا ہوا تھا ( اس نے بتایا ) مجھے جسم پر آگے کے حصے پر تہتر زخم اور ضربیں لگی ہیں ، میں نے جھنڈا دائیں ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا ، وہ ہاتھ کٹ گیا تو میں نے اسے بائیں ہاتھ میں پکڑ لیا ، وہ ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا ، تو اللہ تعالیٰ نے میرے دونوں بازوؤں کی جگہ مجھے دو پر عطا کیے ہیں ، اور ان دونوں پروں کے ذریعے میں جنت میں سیدنا جبرائیل اور سیدنا میکائیل کے ہمراہ اڑ کر جا سکتا ہوں ، میں جہاں چاہوں وہاں پڑاؤ کر سکتا ہوں اور اس کے پھلوں میں سے جو چاہوں کھا سکتا ہوں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ نے انہیں جو بھلائی عطا کی ہے ، اُس کے حوالے سے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے لیے مبارکباد ہے ، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ لوگ میری اس بات کی تصدیق نہیں کریں گے ، اس لئے یا رسول اللہ ! آپ منبر پر چڑھ کر لوگوں کو بتائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! جعفر بن ابوطالب ، جبرائیل اور میکائیل کے ساتھ ہے ، اس کے دو پر ہیں ، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے دونوں بازوؤں کے عوض میں اُسے عطا کئے ہیں ، اور وہ اُن دونوں پروں کے ذریعے جنت میں جہاں چاہے وہاں جا سکتا ہے ، اُس نے مجھے سلام کیا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا : جب اُن کا مشرکین سے سامنا ہوا تھا تو اُن لوگوں کا کیا معاملہ تھا ؟ اس کے بعد لوگوں کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے دشمن کا سامنا کیا تھا ( راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” اس کو جنت میں ” جعفر طیار “ کا نام دیا گیا ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15495
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَيْتُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ مَلَكًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ ذَا جَنَاحَيْنِ يَطِيرُ بِهِمَا حَيْثُ شَاءَ مَقْصُوصَةً قَوَادِمُهُ بِالدِّمَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَأَحَدُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے جعفر بن ابوطالب کو فرشتے کی طرح کی حالت میں دیکھا ، وہ جنت میں اُڑ رہا تھا ، اس کے دو ” پر “ تھے ، جن کے ذریعے وہ جہاں چاہتا تھا ، اُڑ کر چلا جاتا تھا ، اس کے پاؤں خون میں رنگے ہوئے تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15496
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1467)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، فَوَضَعَ عَبْدَ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدًا ابْنَيْ جَعْفَرٍ عَلَى فَخِذِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ اسْتَشْهَدَ جَعْفَرًا ، وَأَنَّ لَهُ جَنَاحَيْنِ يَطِيرُ بِهِمَا مَعَ الْمَلَائِكَةِ فِي الْجَنَّةِ " . ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے انتقال کی اطلاع آئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے ، آپ نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے دونوں صاحبزادوں عبداللہ اور محمد کو اپنے زانو پر بٹھایا اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” ابھی جبرائیل نے مجھے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جعفر کو شہادت سے سرفراز کیا ہے ، اور اس کے دو پر ہیں ، جن کے ہمراہ وہ فرشتوں کے ساتھ جنت میں اُڑ کر جاتا ہے “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! جعفر کی اولاد کی دیکھ بھال کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15497
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12020)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَنِيئًا لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، أَبُوكَ يَطِيرُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ فِي السَّمَاءِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عبداللہ بن جعفر ! تمہیں مبارک ہو ، تمہارا باپ آسمان میں فرشتوں کے ساتھ اُڑتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15498
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1468)»
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ : أُرِيَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّوْمِ ، فَرَأَى جَعْفَرًا مَلَكًا ذَا جَنَاحَيْنِ مُضَرَّجَيْنِ بِالدِّمَاءِ ، وَزَيْدٌ مُقَابِلُهُ عَلَى السَّرِيرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي فَضْلِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، وَفِيهِ فَضْلُ جَعْفَرٍ وَعَلِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سالم بن ابی الجعد بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں وہ لوگ دکھائے گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ایک فرشتے کی طرح ہیں ، اُن کے دو پر ہیں ، جو خون میں ڈوبے ہوئے ہیں ، اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ ان کے مدمقابل پلنگ پر موجود تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا زید بن حارثہ کی سند کے فضائل سے متعلق باب میں ایسی حدیث آئیں گی ، جس میں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ ہو گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15499
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ جَعْفَرًا قُتِلَ يَوْمَ مُؤْتَةَ بِالْبَلْقَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ ” جنگ موتہ “ میں ” بلقاء “ کے مقام پر ، شہید ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ روایت ” مرسل “ ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15500
درجۂ حدیث محدثین: مرسل، ولکن رجالُہ رجالُ الصحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1457)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلِيٌّ أَصْلِي ، وَجَعْفَرٌ فَرْعِي - أَوْ جَعْفَرٌ أَصْلِي وَعَلِيٌّ فَرْعِي - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” علی میری اصل ہے اور جعفر میری فرع ہے ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) - جعفر میری اصل ہے ، اور علی میری فرع ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15501
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف