مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ مَرَّ مَعَ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمِيكَائِيلَ ، لَهُ جَنَاحَانِ عَوَّضَهُ اللَّهُ مِنْ يَدَيْهِ - فَسَلَّمَ ثُمَّ أَخْبَرَنِي كَيْفَ كَانَ أَمْرُهُ حَيْثُ لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ ، فَلِذَلِكَ سُمِّيَ جَعْفَرٌ الطَّيَّارَ فِي الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جعفر بن ابوطالب ، جبرائیل اور میکائیل کے ہمراہ گزرا ہے ، اُس کے دو پر ہیں ، یہ ” پر “ اللہ تعالیٰ نے اُسے اس کے دونوں بازؤں کے بدلے میں عطا کیے ہیں ، اس نے سلام کیا ، اور پھر اس نے مجھے بتایا : کہ جب وہ مشرکین کے مدمقابل آیا تھا ، تو اس کو کیا معامله درپیش ہوا تھا ؟ اسی وجہ سے جنت میں اس کا نام ” جعفر طیار “ رکھا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔