کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کے چچا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمراہ ان کی اولاد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15467
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يُكَنَّى أَبَا الْفَضْلِ ، وَأُمُّهُ : نَتِيلَةُ بِنْتُ جَنَابِ بْنِ كُلَيْبِ بْنِ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْخَزْرَجِ بْنِ تَيْمِ اللَّاتِ بْنِ نَمِرِ بْنِ قَاسِطِ بْنِ أَفْصَى بْنِ جَدِيلَةَ بْنِ أَسَدِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ نِزَارِ بْنِ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ۔ ان کی کنیت ” ابوالفضل “ تھی ، اُن کی والدہ کا نام نتیلہ بنت جناب بن كليب بن مالک بن عبدمناف بن عمرو بن عامر بن زيد بن عبدمناة بن عامر بن سعد بن خزرج بن تیم بن لات بن نمر بن قاسط بن افصی بن جدیلہ بن اسد بن ربیعہ بن نزار بن معد بن عدنان ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15468
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلْعَبَّاسِ : أَسْلِمْ ; فَوَاللَّهِ لَأَنْ تُسْلِمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُسْلِمَ الْخَطَّابُ . وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِأَنَّهُ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلِمْ يَكُنْ لَكَ سَبْقُكَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اسلام قبول کر لیں ، اللہ کی قسم ! آپ کا اسلام قبول کرنا میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ ( میرے والد ) ” خطاب “ مسلمان ہو جاتے ، اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ بات زیادہ محبوب ہے ، تو آپ اسلام قبول کر لیں ، اس طرح آپ کو سبقت حاصل ہو جائے گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابان ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15469
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّهُ بَشَّرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْلَامِ الْعَبَّاسِ ، فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی خوشخبری سنائی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15470
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ : " هَذَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَجْوَدُ قُرَيْشٍ كَفًّا ، وَأَوْصَلُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَقِيعِ الْخَيْلِ ، فَأَقْبَلَ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُجَهِّزُ جَيْشًا ، فَنَظَرَ إِلَى الْعَبَّاسِ فَقَالَ . وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا : ” یہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب ہیں ، جو قریش میں سب سے زیادہ سخی ہیں ، اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند اور نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ روایت کیے ہیں : ہم ” بقیع الخیل “ کے مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران سیدنا عباس : تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اُس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث روایت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لشکر کی تیاری کے سلسلے میں نکلے ، آپ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ارشاد فرمایا : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس کے بعد سابقہ روایت ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن طلحہ تیمی ہے ، جس کو ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند اور نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ روایت کیے ہیں : ہم ” بقیع الخیل “ کے مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران سیدنا عباس : تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اُس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث روایت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لشکر کی تیاری کے سلسلے میں نکلے ، آپ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ارشاد فرمایا : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس کے بعد سابقہ روایت ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن طلحہ تیمی ہے ، جس کو ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15471
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ لَهُ : " يَا عَمِّ ، أَقِمْ مَكَانَكَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَخْتِمُ بِكَ الْهِجْرَةَ كَمَا خَتَمَ بِيَ النُّبُوَّةَ " . رَوَاهُ أَبِي يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مُصْعَبٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کرنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اے چچا جان ! آپ اپنی اس جگہ پر مقیم رہیں ، جہاں آپ ہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے ہجرت کو ختم کرے گا ، جس طرح اس نے میرے ذریعے نبوت کو ختم کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومصعب اسماعیل بن قیس ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومصعب اسماعیل بن قیس ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15472
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : كَانَ الْعَبَّاسُ أَسْلَمَ ، وَأَقَامَ عَلَى سِقَايَتِهِ وَلَمْ يُهَاجِرْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تھا اور وہ ” سقایہ “ ( یعنی حاجیوں کو آب زم زم پلانے ) کی ذمہ داری سرانجام دیتے رہے ، انہوں نے ہجرت نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15473
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " احْفَظُونِي فِي الْعَبَّاسِ ; فَإِنَّهُ بَقِيَّةُ آبَائِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، میری حفاظت کرنا ( یعنی میری وجہ سے ان کا خیال رکھنا ) کیونکہ وہ میرے آباؤ اجداد کا بقیہ ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15474
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَوْصُوا بِعَمِّي الْعَبَّاسِ خَيْرًا ; فَإِنَّهُ بَقِيَّةُ آبَائِي ; فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھلائی کی تلقین قبول کرو ! کیونکہ وہ میرے آباؤ اجداد کا بقیہ ہیں ، اور آدمی کا چچا ، اُس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 15475
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : دَخَلَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ، فَنَظَرَ إِلَى الْكَرَاهِيَةِ فِي وُجُوهِهِمْ ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي إِذَا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ أَرَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وُجُوهِ النَّاسِ ؟ ! فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النَّاسِ ، لَنْ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَلَنْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ حَتَّى تُحِبُّوا عَبَّاسًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے ، انہوں نے لوگوں کو سلام کیا ، انہیں لوگوں کے چہرے پر ناگواری کا احساس ہوا ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے گھر تشریف لے گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وجہ ہے ؟ جب میں مسجد میں داخل ہوا ، تو مجھے لوگوں کے چہرے پر ناگواری کا احساس ہوا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ مسجد میں آئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگوں کے گروہ ! تم اُس وقت تک اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے شمار نہیں ہو گے ، اور مومن شمار نہیں ہو گے ، جب تک تم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے محبت نہیں رکھتے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15476
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : أَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزَاةٍ لَهُ فِي يَوْمٍ حَارٍّ ، فَوُضِعَ لَهُ مَاءٌ يَتَبَرَّدُ بِهِ ، فَجَاءَ الْعَبَّاسُ فَوَلَّاهُ ظَهْرَهُ ، وَسَتَرَهُ بِكِسَاءٍ كَانَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " . قَالُوا : عَمُّكَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى طَلَعَتْ عَلَيْنَا مِنَ الْكِسَاءِ قَالَ : " سَتَرَكَ اللَّهُ يَا عَمِّ وَذُرِّيَّتَكَ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مُصْعَبٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ، ایک گرم دن میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگ سے واپس تشریف لائے ، آپ کے لئے پانی رکھا گیا ، تاکہ آپ اس کے ذریعے ٹھنڈک حاصل کریں ، اسی دوران سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت کی طرف ایک چادر پردے کے طور پر لٹکا دی ، جو ان کے جسم پر تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یا رسول اللہ ! آپ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ہیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر کے فارغ ہوئے ، تو آپ نے اس چادر سے باہر آ کر دونوں ہاتھ بلند کر کے یہ دعا کی : ” اے چچا جان ! اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی ذریت کو جہنم سے بچا کے رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومصعب اسماعیل بن قیس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومصعب اسماعیل بن قیس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15477
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَمِّهِ الْعَبَّاسِ : " أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ ، وَأَبْنَاءِ الْعَبَّاسِ ، وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْعَبَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاتِمٍ الْمُرَادِيِّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” میں انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور یہ فرمایا : ” اے اللہ ! تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بیٹوں کی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بیٹوں کے بیٹوں کی مغفرت فرما دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبدالرحمن بن حاتم مرادی سے روایت کی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبدالرحمن بن حاتم مرادی سے روایت کی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15478
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْغَسِيلِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَّ بِالْعَبَّاسِ وَقَالَ : " يَا عَمِّ ، اتْبَعْنِي بِبَنِيكَ " . فَانْطَلَقَ بِسِتَّةٍ مِنْ بَنِيهِ : الْفَضْلُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَقُثَمُ ، وَمَعْبَدٌ ، فَأَدْخَلَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْتًا وَغَطَّاهُمْ بِشَمْلَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ مُخَطَّطَةٍ بِحُمْرَةٍ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي وَعِتْرَتِي ، فَاسْتُرْهُمْ مِنَ النَّارِ كَمَا سَتَرْتُهُمْ بِهَذِهِ الشَّمْلَةِ " . ¤ قَالَ : فَمَا بَقِيَ فِي الْبَيْتِ مُدَرٌ وَلَا بَابٌ إِلَّا أَمَّنَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن غسیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، آپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو آپ نے ارشاد فرمایا : چچا جان ! آپ اپنے بیٹوں کو لے کر میرے پاس آئیں ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ گئے اور اپنے چھ بیٹوں کو ساتھ لائے ، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ، سیدنا قثم رضی اللہ عنہ اور سیدنا معبد رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو گھر لے گئے ، آپ نے اپنی سرخ کڑھائی والی سیاہ چادر کے ذریعے انہیں ڈھانپ لیا اور یہ دعا کی : ” اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت اور میری عترت ہیں ، تو انہیں جہنم سے اُس طرح ڈھانپ لے ( یعنی بچا لے ) جس طرح میں نے انہیں اس چادر کے ذریعے ڈھانپا ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : گھر میں جو بھی اینٹ اور دروازہ موجود تھا انہوں نے اس پر آمین کہا: ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15479
وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : " لَا تَرْمِ مَنْزِلَكَ وَبُنُوكَ غَدًا حَتَّى آتِيَكُمْ ; فَإِنَّ لِي فِيكُمْ حَاجَةً " . فَانْتَظَرُوهُ حَتَّى بَعْدَمَا أَضْحَى ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ " . قَالُوا : عَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . قَالَ : " كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ ؟ " . قَالُوا : بِخَيْرٍ ، نَحْمَدُ اللَّهَ . قَالَ : " تُقَارَبُوا بِزَحْفِ بَعْضِكُمْ إِلَى بَعْضٍ " . حَتَّى إِذَا أَمْكَنُوهُ اشْتَمَلَ عَلَيْهِمْ بِمُلَاءَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا رَبِّ ، هَذَا عَمِّي وَصِنْوُ أَبِي وَهَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي ، فَاسْتُرْهُمْ مِنَ النَّارِ كَسِتْرِي إِيَّاهُمْ بِمُلَاءَتِي هَذِهِ " . فَأَمَّنَتْ أُسْكُفَّةُ الْبَابِ وَحَوَائِطُ الْبَيْتِ ، فَقَالَتْ : آمِينَ ، آمِينَ ، آمِينَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ فِي الْأَدَبِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” کل آپ نے اور آپ کے صاحبزادوں نے گھر سے باہر نہیں جانا ، جب تک میں آپ لوگوں کے پاس نہیں آ جاتا ، کیونکہ مجھے آپ لوگوں سے ایک کام ہے ، اگلے دن وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے ، یہاں تک کہ دن چڑھ جانے کے بعد ، نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : السلام علیکم ! انہوں نے جواب دیا : وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : آپ لوگوں کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : کہ ٹھیک ہے ، ہم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آپ لوگ ایک دوسرے کے قریب آ کر مل جائیں ، جب ان لوگوں نے ایسا کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ان پر ڈالی اور پھر یہ فرمایا : ” اے میرے پروردگار ! یہ میرے چچا ہیں اور یہ میرے والد کی جگہ ہیں اور یہ میرے اہل بیت ہیں ، تو انہیں جہنم سے اُس طرح ڈھانپ کے رکھنا ( یعنی بچا کے رکھنا ) جس طرح میں نے ان لوگوں کو اپنی اس چادر کے ذریعے ڈھانپ کے رکھا ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو دروازے کی چوکھٹ نے اور گھر کی دیواروں نے اس پر آمین کہتے ہوئے آمین آمین امین کہا:
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے کتاب الادب میں اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے کتاب الادب میں اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15480
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ مَجْلِسٌ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَقُومُ عَنْهُ إِلَّا لِلْعَبَّاسِ ، فَكَانَ يُسِرُّ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ الْعَبَّاسُ يَوْمًا فَزَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ عَنْ مَجْلِسِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكَ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَمُّكَ قَدْ أَقْبَلَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَقْبَلُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مُبْتَسِمًا ، فَقَالَ : " هَذَا الْعَبَّاسُ قَدْ أَقْبَلَ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ ، وَسَيَلْبَسُ وَلَدُهُ مِنْ بَعْدِهِ السَّوَادَ ، وَيَمْلِكُ مِنْهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا " . ¤ فَلَمَّا جَاءَ الْعَبَّاسُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ لِأَبِي بَكْرٍ ؟ فَقَالَ : " مَا قُلْتُ إِلَّا خَيْرًا " . قَالَ : صَدَقْتَ بِأَبِي وَأُمِّي ، وَلَا تَقُولُ إِلَّا خَيْرًا قَالَ : " قُلْتُ : قَدْ أَقْبَلَ الْعَبَّاسُ عَمِّي وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بَيَاضٌ ، وَسَيَلْبَسُ وَلَدُهُ مِنْ بَعْدِهِ السَّوَادَ ، وَيَمْلِكُ مِنْهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب بیٹھے ہوئے ہوتے تھے تو آپ کے پاس سے اُٹھتے نہیں تھے ، البتہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی ، ایک دن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آ رہے تھے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے لیے اپنی جگہ سے ہٹ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے چچا تشریف لا رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” یہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لا رہے ہیں ، انہوں نے سفید لباس پہنا ہوا ہے ، حالانکہ ان کے بعد ان کی اولاد سیاہ لباس پہنے گی اور ان لوگوں میں سے بارہ افراد بادشاہ بنیں گے ۔ “ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ابوبکر سے کچھ کہا: ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے صرف بھلائی کی بات کہی ہے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، آپ صرف بھلائی کی بات کہتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے یہ کہا: تھا کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لا رہے ہیں ، جو میرے چچا ہیں انہوں نے سفید لباس پہنا ہوا ہے ، اور ان کے بعد عنقریب ان کی اولاد سیاہ لباس پہنے گی اور ان میں سے بارہ افراد بادشاہ بنیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15481
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ الْجُمَحِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى مَنْ نَزَلْتَ يَا أَبَا وَهْبٍ ؟ " . قَالَ : نَزَلْتُ عَلَى الْعَبَّاسِ . قَالَ : " عَلَى أَشَدِّ قُرَيْشٍ لِقُرَيْشٍ حُبًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب صفوان بن امیہ جمحی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : اے ابووہب ! آپ کہاں ٹھہرے ہیں ؟ انہوں نے بتایا : میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ ایک ایسے فرد کے ہاں ٹھہرے ہیں ، جو قریش میں ، قریش سے سب سے زیادہ محبت رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15482
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ : قِيلَ لِلْعَبَّاسِ : أَيُّمَا أَكْبَرُ ، أَنْتَ أَمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : هَذَا أَكْبَرُ مِنِّي ، وَأَنَا وُلِدْتُ قَبْلَهُ . وَكَانَ الْعَبَّاسُ أَسَنُّ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; وُلِدَ قَبْلَ الْفِيلِ بِثَلَاثِ سِنِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : کون بڑا ہے ؟ آپ ، یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ؟ انہوں نے جواب دیا : وہ مجھ سے بڑے ہیں ، لیکن میں اُن سے پہلے پیدا ہوا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی عمر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھی ، وہ عام الفیل سے تین سال پہلے پیدا ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15483
وَعَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ : هَلَكَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَابْنُ مَسْعُودٍ ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ ، لِتِسْعِ سِنِينَ مَضَتْ مِنْ إِمَارَةِ عُثْمَانَ ، وَبَعْضُ النَّاسِ يَقُولُ : هَلَكَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - . ¤
محمد محی الدین
ہیثم بن عدی بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس بن عبدالمطلب ، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہم کا انتقال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے 9 سال گزرنے کے بعد ہوا ۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں : اُن کا انتقال 34 میں ہوا تھا اور سیدنا عثمان غنی نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ۔
حدیث نمبر: 15484
- وَبَلَغَنِي أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ كَفَّ بَصَرُهُ ، وَكَفَّ بَصَرُ الْعَبَّاسِ ، وَكَفَّ بَصَرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ . ¤
محمد محی الدین
وہ بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ جناب عبدالمطلب کی بینائی رخصت ہو گئی تھی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی بینائی بھی رخصت ہو گئی تھی ، اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی بھی رخصت ہو گئی تھی ۔
حدیث نمبر: 15485
- وَبَلَغَنِي أَنَّ الْعَبَّاسَ كَانَ لَهُ عَشَرَةُ أَوْلَادٍ ذُكُورٌ سِوَى الْإِنَاثِ ، فَمِنْ وَلَدِهِ : الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ ، وَقُثَمُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَمَعْبَدٌ ، وَأُمُّ حَبِيبٍ . وَأُمُّ وَلَدِ الْعَبَّاسِ هَؤُلَاءِ : أُمُّ الْفَضْلِ الصُّغْرَى ، وَاسْمُهَا : لُبَابَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنِ بْنِ قَيْسِ غِيلَانَ ، وَكَانَتْ قَدِيمَةَ الْإِسْلَامِ ، أَسَلَمَتْ بِمَكَّةَ ، وَفِي أُمِّ الْفَضْلِ يَقُولُ الشَّاعِرُ : ¤ مَا وَلَدَتْ نَجِيبَةٌ مِنْ فَحْلِ بِجَبَلٍ نَعْلَمُهُ أَوْ سَهْلِ كَسِتَّةٍ مِنْ بَطْنِ أُمِّ الْفَضْلِ ¤ أَكْرِمْ بِهَا مِنْ كَهْلَةٍ وَكَهْلِ عَمُّ النَّبِيِّ الْمُصْطَفَى ذِي الْفَضْلِ ¤ وَخَاتَمِ الرُّسُلِ وَخَيْرِ الرُّسْلِ . ¤ وَالْحَارِثُ بْنُ الْعَبَّاسِ أُمُّهُ : حُجَيْلَةُ بِنْتُ جُنْدُبِ بْنِ رَبِيعَةَ ، مِنْ وَلَدِ تَمِيمِ بْنِ سَعْدِ بْنِ هُذَيْلِ بْنِ مُدْرِكَةَ . ¤ وَأُمُّهُ بِنْتُ الْعَبَّاسِ ، تَزَوَّجَهَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ . ¤ وَصَفِيَّةُ هِيَ أُخْتُ الْحَارِثِ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ ، وَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ : لَا ، بَلْ أُمُّهَا غَيْرُ أُمِّ الْحَارِثِ . ¤ وَكَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَعَوْنُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَرُوحٌ ، وَتَمَّامُ بْنُ الْعَبَّاسِ - وَكَانَ أَصْغَرَ وَلَدِ أَبِيهِ - يُقَالُ : إِنَّ تَمَّامًا أَخُو كَثِيرٍ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ ، وَفِي تَمَّامٍ يَقُولُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : ¤ تَمُّوا بِتَمَامٍ فَصَارُوا عَشَرَةْ يَا رَبُّ فَاجْعَلْهُمْ كِرَامًا بَرَرَةْ ¤ اجْعَلْهُمْ ذِكْرَى وَأَنْمِ الثَّمَرَةْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادیوں کے علاوہ ، آپ کے دس بیٹے تھے ، آپ کی اولاد میں سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ ، سیدنا قثم رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ، سیدنا معبد رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام حبیب رضی اللہ عنہا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ان بچوں کی والدہ سیدہ ام فضل صغریٰ رضی اللہ عنہا ہیں ، اُس خاتون کا نام لبابہ بنت حارث بن حزن بن قیس غیلان ہے ، انہوں نے قدیم زمانے میں ، مکہ میں اسلام قبول کر لیا تھا ۔ سیده ام فضل رضی اللہ عنہ کے بارے میں شاعر نے یہ کہا: ہے : ” ہمارے علم کے مطابق ، پہاڑ پر یا ہموار جگہ پر ، کسی معزز خاتون نے ایسے بیٹوں کو جنم نہیں دیا جیسے سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کے چھ بیٹے ہیں ، ان کے حوالے سے بڑھاپے اور بوڑھے فرد کی عزت افزائی ہوئی ( اس خاتون کے شوہر ) نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں ( وہ نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ) جو فضیلت والے ہیں ، رسولوں ( کی بعثت کے سلسلے کو ) ختم کرنے والے ہیں اور سب رسولوں سے بہتر ہیں ۔ “ ( سیدنا عباس کے صاحبزادوں میں ) ایک سیدنا حارث بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں ، اُن کی والدہ حجیلہ بنت جندب بن ربیعہ ہیں ، جو تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ کی اولاد میں سے ہے اور امیمہ بنت عباس ہیں ، جن کے ہاتھ عباس بن عتبہ بن ابولہب نے شادی کی تھی ، ایک صفیہ ہیں ، یہ دونوں حارث کی سگی بہنیں تھیں ، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے : اس خاتون کی والدہ حارث کی والدہ سے الگ ہیں ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی دیگر اولاد ، سیدنا کثیر بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا عون بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا روح رضی اللہ عنہ ، سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں ۔ جو اپنے والد کی اولاد میں ، سب سے چھوٹے ہیں ، یہ بات بیان کی جاتی ہے : سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا کثیر بن عباس رضی اللہ عنہما کے سگے بھائی تھے ، سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب نے یہ شعر کہے ہیں : ” تمام کے ذریعے وہ مکمل ہو گئے اور وہ دس ہو گئے ، تو اے پروردگار ! تو انہیں معزز اور نیک بنا دے ، تو انہیں نصیحت اور سب سے زیادہ پھل پھول والا بنا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ہیثم بن عدی نامی راوی متروک ہے ۔
یہ روایت پہنچی ہے : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادیوں کے علاوہ ، آپ کے دس بیٹے تھے ، آپ کی اولاد میں سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ ، سیدنا قثم رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ، سیدنا معبد رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام حبیب رضی اللہ عنہا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ان بچوں کی والدہ سیدہ ام فضل صغریٰ رضی اللہ عنہا ہیں ، اُس خاتون کا نام لبابہ بنت حارث بن حزن بن قیس غیلان ہے ، انہوں نے قدیم زمانے میں ، مکہ میں اسلام قبول کر لیا تھا ۔ سیده ام فضل رضی اللہ عنہ کے بارے میں شاعر نے یہ کہا: ہے : ” ہمارے علم کے مطابق ، پہاڑ پر یا ہموار جگہ پر ، کسی معزز خاتون نے ایسے بیٹوں کو جنم نہیں دیا جیسے سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کے چھ بیٹے ہیں ، ان کے حوالے سے بڑھاپے اور بوڑھے فرد کی عزت افزائی ہوئی ( اس خاتون کے شوہر ) نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں ( وہ نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ) جو فضیلت والے ہیں ، رسولوں ( کی بعثت کے سلسلے کو ) ختم کرنے والے ہیں اور سب رسولوں سے بہتر ہیں ۔ “ ( سیدنا عباس کے صاحبزادوں میں ) ایک سیدنا حارث بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں ، اُن کی والدہ حجیلہ بنت جندب بن ربیعہ ہیں ، جو تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ کی اولاد میں سے ہے اور امیمہ بنت عباس ہیں ، جن کے ہاتھ عباس بن عتبہ بن ابولہب نے شادی کی تھی ، ایک صفیہ ہیں ، یہ دونوں حارث کی سگی بہنیں تھیں ، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے : اس خاتون کی والدہ حارث کی والدہ سے الگ ہیں ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی دیگر اولاد ، سیدنا کثیر بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا عون بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا روح رضی اللہ عنہ ، سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں ۔ جو اپنے والد کی اولاد میں ، سب سے چھوٹے ہیں ، یہ بات بیان کی جاتی ہے : سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا کثیر بن عباس رضی اللہ عنہما کے سگے بھائی تھے ، سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب نے یہ شعر کہے ہیں : ” تمام کے ذریعے وہ مکمل ہو گئے اور وہ دس ہو گئے ، تو اے پروردگار ! تو انہیں معزز اور نیک بنا دے ، تو انہیں نصیحت اور سب سے زیادہ پھل پھول والا بنا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ہیثم بن عدی نامی راوی متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15486
وَعَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ : هَلَكَ الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ قَبْلَ أَبِيهِ بِأَرْبَعِ سِنِينَ ، سَنَةَ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ . ¤ وَقَدِ اخْتَلَفُوا فِي مَوْتِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : اسْتُشْهِدَ بِالشَّامِ يَوْمَ أَجْنَادِينَ ، وَقِيلَ : يَوْمَ مَرْجِ الصُّفَّرِ ، وَكَانَ الْيَوْمَانِ جَمِيعًا سَنَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ ، وَيُقَالُ : اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ سَنَةَ خَمْسَ عَشْرَةَ ، وَيُقَالُ : مَاتَ فِي طَاعُونِ عَمَوَاسٍ سَنَةَ ثَمَانِ عَشْرَةَ ، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ سَنَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْهَيْثَمُ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ہیثم بن عدی بیان کرتے ہیں : سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال اپنے والد کے انتقال سے چار سال پہلے 28 ہجری میں ہو گیا تھا ، سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کے انتقال کے بارے میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے ، بعض کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے جنگ ” اجنادین “ میں شام میں جام شہادت نوش کیا تھا ، ایک قول یہ ہے : جنگ “” “” مرج صفر “ میں جام شہادت نوش کیا تھا ، یہ دونوں واقعات 13 ہجری میں پیش آئے تھے ، ایک قول کے مطابق انہوں نے جنگ ” یرموک “ میں 15 ہجری میں جام شہادت نوش کیا ، یہ بات بھی بیان کی گئی ہے : کہ ان کا انتقال ” عمواس “ کے طاعون میں 18 ہجری میں ہوا ، انتقال کے وقت ان کی عمر 21 سال تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ہیثم نامی راوی متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ہیثم نامی راوی متروک ہے ۔