حدیث نمبر: 15495
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ وَأَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ قَرِيبَةٌ مِنْهُ إِذْ رَدَّ السَّلَامَ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَسْمَاءُ هَذَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمَا - مَرُّوا فَسَلَّمُوا عَلَيْنَا ، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمُ السَّلَامَ ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، فَأُصِبْتُ فِي جَسَدِي مِنْ مَقَادِيمِي ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ بَيْنَ طَعْنَةٍ وَضَرْبَةٍ ، ثُمَّ أَخَذْتُ اللِّوَاءَ بِيَدِيَ الْيُمْنَى فَقُطِعَتْ ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِي الْيُسْرَى فَقُطِعَتْ ، فَعَوَّضَنِي اللَّهُ مِنْ يَدَيَّ جَنَاحَيْنِ أَطِيرُ بِهِمَا مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ فِي الْجَنَّةِ ، أَنْزِلُ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُ ، وَآكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا مَا شِئْتُ " . فَقَالَتْ أَسْمَاءُ : هَنِيئًا لِجَعْفَرٍ مَا رَزَقَهُ اللَّهُ مِنَ الْخَيْرِ ، وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يُصَدِّقَنِي النَّاسُ ، فَاصْعَدِ الْمِنْبَرَ فَأَخْبِرِ النَّاسَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ ، لَهُ جَنَاحَانِ عَوَّضَهُ اللَّهُ مِنْ يَدَيْهِ ، يَطِيرُ بِهِمَا فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَ ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ " . فَأَخْبَرَ كَيْفَ كَانَ أَمْرُهُمْ حِينَ لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ ، فَاسْتَبَانَ لِلنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ أَنَّ جَعْفَرًا لَقِيَهُمْ ، فَسُمِّيَ جَعْفَرَ الطَّيَّارَ فِي الْجَنَّةِ . ¤
محمد محی الدین

اسی سند کے ساتھ انہوں نے یہ بات نقل کی ہے : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور پھر یہ بتایا : اے اسماء ! یہ جعفر بن ابوطالب ، جبرائیل اور میکائیل کے ساتھ موجود ہے ، انہوں نے گزرتے ہوئے ہمیں سلام کیا ، تو میں نے انہیں سلام کا جواب دیا ، اس نے مجھے بتایا : فلاں فلاں دن اُس کا مشرکین سے سامنا ہوا تھا ( اس نے بتایا ) مجھے جسم پر آگے کے حصے پر تہتر زخم اور ضربیں لگی ہیں ، میں نے جھنڈا دائیں ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا ، وہ ہاتھ کٹ گیا تو میں نے اسے بائیں ہاتھ میں پکڑ لیا ، وہ ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا ، تو اللہ تعالیٰ نے میرے دونوں بازوؤں کی جگہ مجھے دو پر عطا کیے ہیں ، اور ان دونوں پروں کے ذریعے میں جنت میں سیدنا جبرائیل اور سیدنا میکائیل کے ہمراہ اڑ کر جا سکتا ہوں ، میں جہاں چاہوں وہاں پڑاؤ کر سکتا ہوں اور اس کے پھلوں میں سے جو چاہوں کھا سکتا ہوں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ نے انہیں جو بھلائی عطا کی ہے ، اُس کے حوالے سے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے لیے مبارکباد ہے ، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ لوگ میری اس بات کی تصدیق نہیں کریں گے ، اس لئے یا رسول اللہ ! آپ منبر پر چڑھ کر لوگوں کو بتائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! جعفر بن ابوطالب ، جبرائیل اور میکائیل کے ساتھ ہے ، اس کے دو پر ہیں ، جو اللہ تعالیٰ نے اس کے دونوں بازوؤں کے عوض میں اُسے عطا کئے ہیں ، اور وہ اُن دونوں پروں کے ذریعے جنت میں جہاں چاہے وہاں جا سکتا ہے ، اُس نے مجھے سلام کیا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا : جب اُن کا مشرکین سے سامنا ہوا تھا تو اُن لوگوں کا کیا معاملہ تھا ؟ اس کے بعد لوگوں کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے دشمن کا سامنا کیا تھا ( راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” اس کو جنت میں ” جعفر طیار “ کا نام دیا گیا ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15495
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف