عَنْ عُرْوَةَ قَالَ : طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ ، وَكَانَ بِالشَّامِ ، فَقَدِمَ وَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَهْمِهِ فَضَرَبَ لَهُ سَهْمَهُ قَالَ : وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَأَجْرُكَ " . يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ حَسَنُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : ( آپ کا نام و نسب یہ ہے : ) ” طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ۔ “ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ شام میں تھے ، یہ آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے حصے کے بارے میں بات چیت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے ان کا حصہ مقرر کیا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور میرا اجر ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں اجر بھی ملے گا ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر ایسا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ،
یہ روایت مرسل ہے ، اور سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ،
یہ روایت مرسل ہے ، اور سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : تَذَاكَرْنَا يَوْمَ أُحُدٍ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَلَمَّا فَرَغَ وَانْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ الْتَفَتَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ يَوْمِ أُحُدٍ وَمَا مَعِي إِلَّا جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِي وَطَلْحَةُ عَنْ يَسَارِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْقَعْقَاعُ بْنُ زَكَرِيَّا الطَّلْحِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ غزوہ احد کا تذکرہ کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کرنے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں غزوہ احد کے دن کے بارے میں بتاؤں ؟ اس وقت میرے ساتھ صرف میرے دائیں طرف جبرائیل تھا اور بائیں طرف طلحہ تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قعقاع بن زکریا طلحی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قعقاع بن زکریا طلحی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ - أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - قَالَتْ : وَاللَّهِ إِنِّي لَفِي بَيْتٍ ذَاتَ يَوْمٍ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ فِي الْفِنَاءِ ، وَالسِّتْرُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ ، إِذْ أَقْبَلَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ يَمْشِي عَلَى [ ظَهْرِ ] الْأَرْضِ قَدْ قَضَى نَحْبَهُ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اللہ کی قسم ! میں ایک دن اپنے گھر میں موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب صحن میں موجود تھے میرے اور ان کے درمیان پردہ موجود تھا اسی دوران سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ کسی ایسے شخص کی طرف دیکھے جو زمین پر چل رہا ہو اور اس نے اپنی نذر کو پورا کر دیا ہو ، تو اسے طلحہ کو دیکھ لینا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَآنِي قَالَ : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ الطَّلْحِيُّ وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے ملاحظہ کیا تو ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ زمین پر چلتے ہوئے کسی شہید کو دیکھ لے تو اسے طلحہ بن عبیداللہ کو دیکھ لینا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ایوب طلحی ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، اسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ایوب طلحی ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، اسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : كَانَ يَوْمَ أُحُدٍ ، جَعَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ظَهْرِي حَتَّى اسْتَقَلَّ وَصَارَ عَلَى الصَّخْرَةِ ، وَاسْتَتَرَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا ، وَأَوَّمَأَ بِيَدِهِ إِلَى وَرَاءِ ظَهْرِي : " هَذَا جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَخْبَرَنِي أَنَّهُ لَا يَرَاكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي هَوْلٍ إِلَّا أَنْقَذَكَ مِنْهُ " . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : ” غزوہ اُحد کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے کر لیا یہاں تک کہ آپ چھپ گئے آپ چٹان پر آ گئے اور مشرکین سے چھپ گئے ، تو آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا یعنی آپ نے اپنی پشت کی طرف اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے یہ فرمایا کہ یہ جبرائیل ہے ، اور اس نے مجھے یہ بتایا ہے کہ یہ قیامت کے دن تمہیں جس بھی ہولناکی میں دیکھے گا ، تو تمہیں اس سے بچا لے گا ۔ “
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَصَابَنِي السَّهْمُ ، قُلْتُ : حَسْ . فَقَالَ : " لَوْ قُلْتَ بِسْمِ اللَّهِ لَطَارَتْ بِكَ الْمَلَائِكَةُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ " . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے دن مجھے ایک تیر لگا ، تو میں نے کہا: اوہ ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم بسم اللہ کہہ لیتے تو فرشتے تمہیں لے کے اڑتے اور لوگ تمہیں دیکھ رہے ہو ۔
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَآنِي قَالَ : " سَلَفِي فِي الدُّنْيَا ، وَسَلَفِي فِي الْآخِرَةِ " . ¤
محمد محی الدین
اس سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے ملاحظہ کیا تو ارشاد فرمایا : ” یہ دنیا میں میرا سلف ہے ، اور آخرت میں میرا سلف ہے ۔ “
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : كَانَتْ رَاحِلَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَطِيئَةً إِلَيَّ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ إِحْدَاهُمَا ، فَقَالَ : " ذَاكَ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ " . فَأَتَانِي فَأَعْلَمَنِي فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ ، فَعَادَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْلَمَهُ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَأَتَانِي فَأَعْلَمَنِي فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ ، فَعَادَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَرَجَعَ إِلَيَّ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : مَا بَعَثَهُ إِلَّا ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَكَادُ يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا فَعَلَهُ . فَقُلْتُ : لَأَنْ أَلِيَ بَشْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلِيَ رَحْلَتَهُ ، فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَفَرًا فَأَرَادَ أَنْ يُرَحِّلَ لَهُ ، فَأَتَانِي فَقَالَ : أَيُّ الرَّاحِلَتَيْنِ كَانَتْ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقُلْتُ : الطَّائِفِيَّةُ ، فَرَحَّلَهَا لَهُ ثُمَّ قَرَّبَهَا إِلَيْهِ ، فَلَمَّا سَارَتْ بِهِ انْكَبَّتْ . فَقَالَ : " مَنْ رَحَّلَ هَذِهِ ؟ " . قَالُوا : فُلَانٌ قَالَ : " رُدُّوهَا إِلَى طَلْحَةَ " . فَرُدَّتْ إِلَيَّ . قَالَ طَلْحَةُ : وَاللَّهِ مَا غَشَشْتُ أَحَدًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَهُ لِكَيْ تَرْجِعَ إِلَيَّ رَاحِلَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کا پالان تیار کرنا میرے ذمہ تھا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ یہ ذمہ داری اسے دے دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تو طلحہ بن عبیداللہ کے ذمہ ہے ، وہ شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہ بتائی تو میں نے اس کی بات نہیں مانی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گیا ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے اسی کی مانند بات ارشاد فرمائی پھر وہ میرے پاس آیا اور مجھے اس بارے میں بتایا تو میں نے اس کی بات نہیں مانی وہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی مانند کہا: وہ پھر میرے پاس آیا تو میں نے دل میں سوچا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صرف اسی لئے بھیجا ہے کہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ اس کی حاجت کو پورا کر دیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی تھی ، تو آپ وہ کر لیتے تھے میں نے سوچا اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کا باعث بنوں تو یہ چیز میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہونی چاہیے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کا پالان باندھنے کا کام کروں ، تو میں نے یہ چیز اس کے سپرد کر دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر پر جانے کا ارادہ کیا اس شخص نے آپ کے لئے پالان تیار کرنے کا ارادہ کیا وہ شخص میرے پاس آیا اس نے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا پالان باندھنے کا طریقہ زیادہ پسند ہے ، تو میں نے کہا: طائفہ اس نے اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پالان تیار کر دیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس پر سواری کی ، تو آپ گر گئے آپ نے دریافت کیا : یہ پالان کس نے تیار کیا تھا ؟ لوگوں نے بتایا فلاں نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کام واپس طلحہ کو دے دو ! تو وہ کام واپس میرے پاس آ گیا ۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے زمانہ اسلام میں اس کے علاوہ کبھی کسی کے ساتھ کوئی دھوکہ نہیں کیا اور اس کام کا مقصد بھی یہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی ذمہ داری واپس میرے پاس آ جائے ۔
وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ الْهَمَذَانِيِّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِذْ جَاءَهُ ابْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ أَخِي إِلَى هَهُنَا ، فَأَقْعَدَهُ مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَأَبُوكَ مِمَّنْ قَالَ اللَّهُ : ( وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ ) الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْحَارِثُ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حارث اعور ہمدانی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اسی دوران سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا صاحبزادہ ان کے پاس آیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تمہیں خوش آمدید ہے تم یہاں آؤ ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا پھر انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے یہ امید ہے کہ میں اور تمہارے والد ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ” ہم نے ان کے سینے میں موجود کھوٹ کو الگ کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ : كَانَ يَوْمَ قُتِلَ ابْنَ اثْنَتَيْنِ وَسِتِّينَ سَنَةً . ¤ قَالَ الْوَاقِدِيُّ : وَقُتِلَ يَوْمَ الْجَمَلِ فِي جُمَادَى سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ . ¤
محمد محی الدین
عیسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو اس وقت ان کی عمر باسٹھ سال تھی ۔ واقدی بیان کرتے ہیں : وہ جنگ جمل میں جمادی کے مہینے میں چھتیس ہجری میں شہید ہوئے ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ قَالَ : قُتِلَ طَلْحَةُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ سَنَةً ، وَدُفِنَ بِالْبَصْرَةِ فِي نَاحِيَةِ ثَقِيفٍ . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت کے مطابق مہاجر بن قنفذ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اس وقت ان کی عمر چونسٹھ سال تھی انہیں بصرہ میں ثقیف کے کنارے پر دفن کیا گیا ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : قُتِلَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يَوْمَ الْجَمَلِ فِي جُمَادَى سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ ، وَسِنُّهُ ثِنْتَانِ وَخَمْسُونَ سَنَةً [ أَوْ أَرْبَعٌ وَخَمْسُونَ سَنَةً ] ، وَالزُّبَيْرُ أَسَنُّ مِنْهُ وَكَانَ يُكَنَّى : أَبَا مُحَمَّدٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ يَحْيَى هَكَذَا . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ جنگ جمل میں جمادی کے مہینے میں چھتیس ہجری میں شہید ہوئے تھے اس وقت ان کی عمر باون سال یا شاید چون سال تھی ۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ان سے عمر میں بڑے تھے ان کی کنیت ابومحمد تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے یحیی کے حوالے سے اسی طرح نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے یحیی کے حوالے سے اسی طرح نقل کی ہے ۔
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ حِينَ رَمَى طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ بِسَهْمٍ فَوَقَعَ فِي عَيْنِ رُكْبَتِهِ ، فَمَا زَالَ يَسْبَحُ إِلَى أَنْ مَاتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں نے مروان بن حکم کو دیکھا جب اس نے اس دن سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو تیر مارا تو ان کے گھٹنے پر لگا ، تو وہ انتقال کرنے تک مسلسل تسبیح پڑھتے رہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ : أَنَّ عَلِيًّا انْتَهَى إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَقَدْ مَاتَ ، فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَأَجْلَسَهُ ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ الْغُبَارَ عَنْ وَجْهِهِ وَلِحْيَتِهِ ، وَهُوَ يَتَرَحَّمُ عَلَيْهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا الْيَوْمِ بِعِشْرِينَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
طلحہ بن مصرف بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ( کی میت ) کے پاس تشریف لائے ، ان کا انتقال ہو چکا تھا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی سواری سے اترے انہوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ( کی میت ) کو بٹھایا اور ان کی داڑھی اور چہرے سے غبار پونچھنے لگے ، اور ان کے لئے رحمت کے کلمات کہنے لگے اور یہ فرمانے لگے : اے کاش ! میں آج کے دن سے بیس سال پہلے مر چکا ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا يَوْمَ الْجَمَلِ يَقُولُ لِابْنِهِ حَسَنٍ : يَا حَسَنُ ، وَدِدْتُ أَنِّي مِتُّ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن عباد بیان کرتے ہیں : میں جنگ جمل کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا انہوں نے اپنے صاحبزادے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے حسن ! میری یہ خواہش ہے کہ میں آج سے بیس سال پہلے مر چکا ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔