مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . باب: ان کے مناقب کا مجموعہ
عَنْ عُرْوَةَ قَالَ : طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ ، وَكَانَ بِالشَّامِ ، فَقَدِمَ وَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَهْمِهِ فَضَرَبَ لَهُ سَهْمَهُ قَالَ : وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَأَجْرُكَ " . يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ حَسَنُ الْإِسْنَادِ . ¤عروہ بیان کرتے ہیں : ( آپ کا نام و نسب یہ ہے : ) ” طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ ۔ “ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ شام میں تھے ، یہ آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے حصے کے بارے میں بات چیت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے ان کا حصہ مقرر کیا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور میرا اجر ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں اجر بھی ملے گا ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر ایسا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یہ روایت مرسل ہے ، اور سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔