مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي مَنَاقِبِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . باب: ان کے مناقب کا مجموعہ
وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ الْهَمَذَانِيِّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِذْ جَاءَهُ ابْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ أَخِي إِلَى هَهُنَا ، فَأَقْعَدَهُ مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَأَبُوكَ مِمَّنْ قَالَ اللَّهُ : ( وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ ) الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْحَارِثُ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤حارث اعور ہمدانی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا اسی دوران سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا صاحبزادہ ان کے پاس آیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تمہیں خوش آمدید ہے تم یہاں آؤ ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا پھر انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے یہ امید ہے کہ میں اور تمہارے والد ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ” ہم نے ان کے سینے میں موجود کھوٹ کو الگ کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔