کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 14825
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيِّ بْنِ كِلَابِ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ ، يُكَنَّى : أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، أُمُّهُ : صَفِيَّةُ عَمَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : ( ان کا نام و نسب یہ ہے : ) سیدنا زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب بن کعب بن لؤی بن غالب فہر بن مالک ۔ ان کی کنیت ابوعبداللہ ہے ان کی والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14825
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ثابت
حدیث نمبر: 14826
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : كَانَ الزُّبَيْرُ يُكَنَّى : أَبَا عَبْدِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14826
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (221)»
حدیث نمبر: 14827
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : كَانَ الزُّبَيْرُ أَبْيَضَ ، طَوِيلًا ، مُحَفَّفًا ، خَفِيفَ الْعَارِضِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ يَرْوِي الْمَوْضُوعَاتِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن محمد بن یحیی بن عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سفید رنگت کے مالک ، طویل القامت شخص تھے وہ کمزور ( یعنی دہلے ) جسم کے مالک تھے اور ان کے رخسار کمزور تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے عبداللہ نامی راوی موضوع روایات نقل کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14827
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (223)»
حدیث نمبر: 14828
وَعَنْ عُرْوَةَ : فِيمَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى : الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ [ بَا خُوَيْلِدِ ] بْنِ أَسَدٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے افراد میں ، بنو اسد بن عبدالعزیٰ سے تعلق رکھنے والے سیدنا زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد کا تذکرہ کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14828
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 14829
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : كَانَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ طَوِيلًا تَخُطُّ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ إِذَا رَكِبَ الدَّابَّةَ ، أَشْعَرَ ، وَرُبَّمَا أَخَذَتْ بِشَعْرِ كَتِفَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو غَزِيَّةَ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ الْحَاكِمُ ، وَابْنُ أَبِي الزِّنَادِ مُخْتَلَفٌ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ طویل القامت شخص تھے جب وہ سواری پر سوار ہوتے تھے ، تو ان کے پاؤں زمین پر لگتے تھے ۔ ان کے بال زیادہ تھے بعض اوقات ان کے بال کندھوں تک آتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوغزیہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اور ایک راوی ابن ابوزناد ہے جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14829
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (224)»
حدیث نمبر: 14830
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ سَلَّ سَيْفًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ : الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ . ¤ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : ” اللہ کی راہ میں سب سے پہلے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے تلوار سونتی تھی ۔ “ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14830
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (226)»
حدیث نمبر: 14831
وَعَنْ شَيْخٍ قَدِمَ مِنَ الْمَوْصِلِ قَالَ : صَحِبْتُ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَأَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ بِأَرْضٍ قَفْرٍ ، فَقَالَ : اسْتُرْنِي ، فَسَتَرْتُهُ فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ إِلَيْهِ ، فَرَأَيْتُهُ مُجَدَّعًا بِالسُّيُوفِ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ بِكَ أَثَارًا مَا رَأَيْتُهَا بِأَحَدٍ قَطُّ ! قَالَ : وَقَدْ رَأَيْتَ ذَلِكَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ مَا مِنْهَا جِرَاحَةٌ إِلَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالشَّيْخُ الْمَوْصِلِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
موصل سے آنے والے ایک بزرگ بیان کرتے ہیں : میں ایک سفر میں سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہیں ایک بے آب و گیاہ جگہ پر جنابت لاحق ہو گئی ، تو انہوں نے فرمایا : تم میرے لئے پردہ کرو ، میں نے ان کے لئے پردہ کیا ، جب میں نے ان کے جسم پر دیکھا ، تو میں نے دیکھا کہ ان کے جسم پر تلواروں کے بہت سے سارے نشان ہیں ، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ پر بہت سارے نشانات دیکھ رہا ہوں ، اتنے نشانات میں نے کبھی کسی پر نہیں دیکھے ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم نے وہ دیکھ لیے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ان میں سے ہر ایک زخم اللہ کے رسول کے ( ہمراہ جنگ کرتے ہوئے ) اور اللہ کی راہ میں لگا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، موصل سے تعلق رکھنے والے بزرگ سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14831
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (229)»
حدیث نمبر: 14832
وَعَنْ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَقُولُ : وَاللَّهِ لَوْ عَهِدْتُ عَهْدًا ، أَوْ تَرَكْتُ تَرِكَةً ، لَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَجْعَلَهَا إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ؛ فَإِنَّهُ رُكْنٌ مِنْ أَرْكَانِ الدِّينِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
مطیع بن اسود بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ کی قسم ! اگر میں نے کوئی عہد کرنا ہوتا یا میں نے کوئی ترکہ چھوڑنا ہوتا تو میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ یہ تھا کہ میں سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو اس کا نگران مقرر کرتا کیونکہ وہ دین کے ارکان میں سے ایک رکن ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14832
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (232)»
حدیث نمبر: 14833
وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ قَالَ : أَسْلَمَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ، وَهَاجَرَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَكَانَ عَمُّ الزُّبَيْرِ يُعَلِّقُ الزُّبَيْرَ فِي حَصِيرٍ ، وَيُدَخِّنُ عَلَيْهِ بِالنَّارِ ، وَهُوَ يَقُولُ : ارْجِعْ إِلَى الْكُفْرِ ، فَيَقُولُ الزُّبَيْرُ : لَا أَكْفُرُ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
مطیع بن اسود بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ کی قسم ! اگر میں نے کوئی عہد کرنا ہوتا یا میں نے کوئی ترکہ چھوڑنا ہوتا تو میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ یہ تھا کہ میں سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو اس کا نگران مقرر کرتا کیونکہ وہ دین کے ارکان میں سے ایک رکن ہیں ۔

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14833
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (239)»
حدیث نمبر: 14834
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ : أَسْلَمَ الزُّبَيْرُ ، وَهُوَ ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً ، وَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْ غَزْوَةٍ غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُتِلَ وَهُوَ ابْنُ بِضْعٍ وَسِتِّينَ سَنَةً ، وَهُوَ مِنَ الْبَصْرَةِ عَلَى نَحْوِ بَرِيدٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سولہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا اور وہ کسی ایسے غزوہ سے پیچھے نہیں رہے ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکت کی ہو ، جب ان کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ تھی اور وہ بصرہ سے ایک برید کے فاصلہ پر تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور
یہ روایت مرسل ہے ، اور صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14834
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (244)»
حدیث نمبر: 14835
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَالزُّبَيْرُ حِوَارِيِّي ، وَابْنُ عَمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ الْمُتَّصِلُ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے ، اور زبیر میرا حواری ہے ، اور میرا پھوپھی زاد ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کی سند متصل ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14835
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2598 و 2599) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (4/4)»
حدیث نمبر: 14836
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : الْتَقَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ يَوْمَ الْجَمَلِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلزُّبَيْرِ : إِنْ لَمْ تُقَاتِلْ مَعَنَا فَلَا تُعِنْ عَلَيْنَا . فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَتُحِبُّ أَنْ أَرْجِعَ عَنْكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَكَيْفَ لَا أُحِبُّ ذَلِكَ وَأَنْتَ ابْنُ عَمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنُ خَالِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَوَارِيُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَوْلُهُ : حَوَارِيُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي : خُلْصَانَُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَسِلْفُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لِأَنَّ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ زَوْجُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ زَوْجُ الزُّبَيْرِ . ¤ وَقَوْلُهُ : سَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَنَّ الزُّبَيْرَ أَوَّلُ مَنْ سَلَّ سَيْفًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . ¤ وَقَوْلُهُ : ابْنُ عَمَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أُمُّهُ صَفِيَّةُ عَمَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ وَقَوْلُهُ : ابْنُ خَالِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لِأَنَّ أُمَّ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آمِنَةُ بِنْتُ وَهْبٍ وَالزُّبَيْرُ مِنْ رَهْطِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا جنگ جمل کے دن آمنا سامنا ہوا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ ہمارے ساتھ مل کے جنگ میں حصہ نہیں لیتے تو ہمارے خلاف بھی مدد نہ کریں ، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو چھوڑ کر واپس چلا جاؤں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! میں اس بات کو کیسے پسند نہیں کروں گا ؟ جبکہ آپ اللہ کے رسول کے پھوپھی زاد ہیں ، اور اللہ کے رسول کے ماموں زاد ہیں ، اور اللہ کے رسول کے حواری ہیں ، اور اللہ کے رسول کی تلوار ہیں ۔ ان کا یہ کہنا کہ اللہ کے رسول کے حواری ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے رسول کے انتہائی قریبی ہیں ، اور اللہ کے رسول کے سلف ہونے سے مراد یہ ہے کہ سیدہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ تھیں اور سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں ۔ ان کے یہ الفاظ اللہ کے رسول کی تلوار ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تلوار سونتی تھی اور ان کے یہ الفاظ کہ اللہ کے رسول کے پھوپھی زاد ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں اور ان کا یہ کہنا کہ اللہ کے رسول کے ماموں زاد ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا تھیں اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اس خاندان میں سے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14836
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 14837
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيِّي الزُّبَيْرُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14837
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2593) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (225)»
حدیث نمبر: 14838
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَجُلًا يَقُولُ : يَا ابْنَ حَوَارِيِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنْ كُنْتُ مِنْ آلِ الزُّبَيْرِ وَإِلَّا فَلَا ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے اللہ کے رسول کے حواری کے بیٹے ! تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اگر تو یہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھتا ہے تو پھر ٹھیک ہے ، اگر نہیں ، تو پھر یہ نہیں کہا: جا سکتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14838
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2594)»
حدیث نمبر: 14839
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ - أَوْ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ - فَذَهَبْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ فِي لِحَافٍ ، فَطَرَحَ عَلَيَّ طَرَفَ ثَوْبٍ أَوْ طَرَفَ الثَّوْبِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک سرد رات میں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) سرد صبح میں بھیجا ، جب میں واپس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ محترمہ کے ساتھ لحاف میں تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کا ایک کنارہ مجھ پر ڈال دیا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14839
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2595)»
حدیث نمبر: 14840
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ الزُّبَيْرَ اسْتَأْذَنَ عُمَرَ فِي الْجِهَادِ ، فَقَالَ : اجْلِسْ ؛ فَقَدْ جَاهَدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جہاد میں حصہ لینے کی اجازت مانگی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ بیٹھے رہیں آپ اللہ کے رسول کے ساتھ جہاد کر چکے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14840
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2596)»
حدیث نمبر: 14841
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ : دَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلِوَلَدِي وَلِوَلَدِ وَلَدِي ، فَسَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ لِأُخْتٍ لِي كَانَتْ أَسَنَّ مِنِّي : يَا بُنَيَّةُ - يَعْنِي : إِنَّكِ مِمَّنْ أَصَابَتْهُ دَعْوَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے ، میری اولاد کے لئے ، میری اولاد کی اولاد کے لئے دعا کی تھی ، میں نے اپنے والد کو اپنی بہن سے یہ کہتے ہوئے سنا : جو عمر میں مجھ سے بڑی تھیں ، اے میری بیٹی ! راوی کہتے ہیں : ان کی مراد یہ ہے کہ تم بھی ان افراد میں شامل ہو جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ملی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14841
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (682)»
حدیث نمبر: 14842
وَعَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : هَؤُلَاءِ الْأَخْيَارُ قُتِلُوا قَتْلًا ، ثُمَّ بَكَى فَقَالَ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا فَقَالَ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ : أَقْبَلَ عَلَى الزُّبَيْرِ ، فَأَقْبَلَ الزُّبَيْرُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : أُذَكِّرُكَ اللَّهَ ، فَكَفَّ عَنْهُ الزُّبَيْرُ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : قَاتَلَهُ اللَّهُ يُذَكِّرُ بِاللَّهِ ثُمَّ يَنْسَاهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن عون بیان کرتے ہیں : یہ لوگ جو بہترین لوگ تھے ، یہ شہید کر دیے گئے ، پھر وہ رونے لگے اور انہوں نے کہا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل سامنے آیا ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا: میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے ہاتھ روک لیا یہاں تک کہ چند مرتبہ ایسا ہوا ، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے ، یہ اللہ کی یاد دلاتا ہے اور پھر خود بھول جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14842
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (241)»
حدیث نمبر: 14843
عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : قُتِلَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ يَوْمَ الْجَمَلِ فِي جُمَادَى - لَا أَدْرِي الْأُولَى أَوِ الْآخِرَةُ - سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ . ¤ وَأَخْبَرَنِي اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عُرْوَةُ : أَنَّ الزُّبَيْرَ أَسْلَمَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ، وَكَانَ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقَامَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً فَهُوَ يَوْمَ قُتِلَ ابْنُ سَبْعٍ وَخَمْسِينَ ، وَإِنْ كَانَ أَقَامَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَالزُّبَيْرُ ابْنُ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے موقع پر جمادی کے مہینے میں سن چھتیس ہجری میں شہید ہوئے تھے ، مجھے نہیں معلوم کہ یہ جمادی الاول تھا یا جمادی الثانی تھا ۔ لیث نے ابواسود کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ عروہ نے انہیں بتایا ہے کہ جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا ، تو اس وقت ان کی عمر آٹھ سال تھی اور ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اگر مکہ میں تیرہ سال مقیم رہے ہوں تو شہادت کے موقع پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی عمر ستاون سال ہونی چاہیے اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مکہ میں رہے ہوں تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی عمر چون سال ہونی چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14843
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (238)»
حدیث نمبر: 14844
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : قُتِلَ الزُّبَيْرُ ، وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ ، وَقُتِلَ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو ان کی عمر چونسٹھ سال تھی اور انہیں چھتیس ہجری میں شہید کیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14844
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (236)»
حدیث نمبر: 14845
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ : أَسْلَمَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ ، وَقُتِلَ وَهُوَ ابْنُ بِضْعٍ وَسِتِّينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی اور جب وہ شہید ہوئے تو ان کی عمر ساٹھ سال سے کچھ زیادہ تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14845
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (237)»
حدیث نمبر: 14846
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : فَقَالَ حَسَّانٌ : ¤ أَقَامَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ وَهَدْيِهِ حَوَارِيُّهُ وَالْقَوْلُ بِالْفِعْلِ يُعْدَلُ هُوَ الْفَارِسُ الْمَشْهُورُ وَالْبَطَلُ الَّذِي ¤ يَصُولُ إِذَا مَا كَانَ يَوْمٌ مُحَجَّلُ إِذَا كَشَفَتْ عَنْ سَاقِهَا الْحَرْبُ حَشَّهَا ¤ بِأَبْيَضَ سَبَّاقٍ إِلَى الْمَوْتِ يَرْمُلُ وَإِنِ امْرُؤٌ كَانَتْ صَفِيَّةُ أُمُّهُ ¤ وَمِنْ أَسَدٍ فِي بَيْتِهَا لَمُؤَمَّلُ ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ قَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ الْأَدَبِ ، وَيَأْتِي فِي الشِّعْرِ ، وَأَبْوَابِهِ فِي أَوَاخِرِ الْكِتَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( سے کیے ہوئے ) عہد اور آپ کے طریقے پر برقرار رہے ، وہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ہیں ، اور قول کو عمل کے ساتھ جانچا جاتا ہے ، وہ مشہور شہوار اور جانباز تھے ، اور جب جنگ کا دن آتا تھا تو وہ حملہ آور ہوتے تھے ، جب جنگ اپنی پنڈلی سے کپڑا ہٹا دیتی تھی ، تو وہ دوڑتے ہوئے موت کی طرف لپکتے ہیں اور اس کو کاٹ کے رکھ دیتے ہیں ، وہ ایک ایسے فرد ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ان کی والدہ ہیں ، ان کا تعلق بنو اسد سے ہے اور ان کے گھرانے سے ( ایسے ہی فرد کی ) توقع کی جا سکتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے جو اس سے پہلے کتاب الادب میں گزر چکی ہے ، اور آگے چل کر شعر اور اس کے ابواب سے متعلق کتاب کے آخر میں آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14846
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف