حدیث نمبر: 14811
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : تَذَاكَرْنَا يَوْمَ أُحُدٍ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَلَمَّا فَرَغَ وَانْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ الْتَفَتَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ يَوْمِ أُحُدٍ وَمَا مَعِي إِلَّا جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِي وَطَلْحَةُ عَنْ يَسَارِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْقَعْقَاعُ بْنُ زَكَرِيَّا الطَّلْحِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ غزوہ احد کا تذکرہ کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کرنے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں غزوہ احد کے دن کے بارے میں بتاؤں ؟ اس وقت میرے ساتھ صرف میرے دائیں طرف جبرائیل تھا اور بائیں طرف طلحہ تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قعقاع بن زکریا طلحی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14811
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف