کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ان کی کرم نوازی کا بیان ، اور انہیں جو نام دیا گیا اس کا بیان
حدیث نمبر: 14803
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ : مَا رَأَيْتُ رَجُلًا قَطُّ أَعْطَى الْجَزِيلَ مِنَ الْمَالِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ مِنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ . ¤ قَالَ سُفْيَانُ : وَكَانَ أَهْلُهُ يَقُولُونَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُ الْفَيَّاضُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
قبیصہ بن جابر بیان کرتے ہیں : میں نے کبھی کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے ( کسی کو ) مانگے بغیر سیدنا طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ مال دیا ہو ۔ سفیان کہتے ہیں ان کے اہل خانہ کا یہ بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ” فیاض “ کا نام دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14804
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : سَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ : " طَلْحَةَ الْخَيْرِ " . وَفِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ذِي الْعَشِيرَةِ : " طَلْحَةَ الْفَيَّاضَ " . وَيَوْمَ حُنَيْنَ : " طَلْحَةَ الْجُودِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : بِالسِّينِ وَالشِّينِ جَمِيعًا ، فَالسِّينُ مِنَ الْعُسْرَةِ وَبِالشِّينِ مَوْضِعٌ . وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ الطَّلْحِيُّ وُثِّقَ وَضُعِّفَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ” طلحہ الخیر “ کا نام دیا تھا اور غزوہ تبوک ذوالعشیرہ میں ” طلحہ فیاض“ کا نام دیا تھا اور جنگ حنین میں ” طلحہ الجود“ کا نام دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ لفظ ( ذوالعشیرہ ) سین اور شین دونوں کے ساتھ منقول ہے ، اگر سین ہو تو یہ لفظ عسرت سے منقول ہو گا اور اگر شین ہو تو یہ ایک جگہ کا نام ہے ۔ اس روایت میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی سلیمان بن ایوب طلحی ہے اسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ، اور ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ لفظ ( ذوالعشیرہ ) سین اور شین دونوں کے ساتھ منقول ہے ، اگر سین ہو تو یہ لفظ عسرت سے منقول ہو گا اور اگر شین ہو تو یہ ایک جگہ کا نام ہے ۔ اس روایت میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی سلیمان بن ایوب طلحی ہے اسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ، اور ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 14805
وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ : أَنَّ طَلْحَةً نَحَرَ جَزُورًا ، وَحَفَرَ بِئْرًا ، يَوْمَ ذِي قَرَدٍ ، فَأَطْعَمَهُمْ وَسَقَاهُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا طَلْحَةُ الْفَيَّاضُ " . فَسُمِّيَ : طَلْحَةَ الْفَيَّاضَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک اونٹ قربان کیا انہوں نے غزوہ ذی قرد کے موقع پر ایک کنواں کھدوایا انہوں نے لوگوں کو کھانا کھلایا اور پانی پلایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے طلحہ الفیاض ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ” طلحہ فیاض “ کا نام دیا ( یا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا نام فیاض رکھا گیا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 14806
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : ابْتَاعَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بِئْرًا بِنَاحِيَةِ الْجَبَلِ ، فَنَحَرَ جَزُورًا ، فَأَطْعَمَ النَّاسَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ يَا طَلْحَةُ الْفَيَّاضُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے پہاڑ کے دامن میں ایک کنواں خریدا انہوں نے ایک اونٹ قربان کیا اور لوگوں کو کھانا کھلایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے طلحہ ! تم فیاض ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14807
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : كَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُكَنَّى : أَبَا مُحَمَّدٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابومحمد تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14808
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ جَدَّتِهِ سُعْدَى قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا طَلْحَةُ فَرَأَيْتُ مِنْهُ ثِقَلًا ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا لَكَ ؟ لَعَلَّهُ رَابَكَ مِنَّا شَيْءٌ فَغَيَّبَكَ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَنِعْمَ حَلِيلَةُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ أَنْتِ ، وَلَكِنِ اجْتَمَعَ عِنْدِي مَالٌ وَلَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهِ . قَالَتْ : وَمَا يَغُمُّكَ مِنْهُ ، ادْعُ قَوْمَكَ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ . فَقَالَ : يَا غُلَامُ ، عَلَيَّ قَوْمِي ، فَسَأَلْتُ الْخَازِنَ : كَمْ قَسَّمَ ؟ قَالَ : أَرْبَعُمِائَةِ أَلْفٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
طلحہ بن یحیی اپنی دادی سعدی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ فرماتی ہیں : ” ایک دن سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ گھر داخل ہوئے تو میں نے ان کی طبیعت میں بوجھل پن محسوس کیا ، میں نے ان سے دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ شاید آپ کو ہماری طرف سے کوئی چیز بری لگی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : جی نہیں کسی بھی مسلمان کی جتنی اچھی بیوی ہو سکتی ہے تم ویسی ہو لیکن معاملہ یہ ہے کہ میرے پاس کچھ مال اکٹھا ہو گیا ہے ، اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کروں ، تو اس خاتون نے کہا: اس میں پریشانی والی کون سی بات ہے ؟ آپ اپنی قوم کو بلائیں اور یہ مال ان کے درمیان تقسیم کر دیں ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے غلام ! میرے پاس میری قوم کے لوگوں کو لے کے آؤ ، راوی خاتون بیان کرتی ہیں : بعد میں ، میں نے خادم سے دریافت کیا : انہوں نے کتنا مال تقسیم کیا ؟ تو اس نے بتایا : چار لاکھ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14809
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ : كَانَتْ غَلَّةُ طَلْحَةَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفًا وَافِيًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : روزانہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کا غلہ پورا ایک ہزار ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم یہ روایت مرسل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم یہ روایت مرسل ہے ۔