حدیث نمبر: 14817
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : كَانَتْ رَاحِلَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَطِيئَةً إِلَيَّ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ إِحْدَاهُمَا ، فَقَالَ : " ذَاكَ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ " . فَأَتَانِي فَأَعْلَمَنِي فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ ، فَعَادَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْلَمَهُ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَأَتَانِي فَأَعْلَمَنِي فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ ، فَعَادَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَرَجَعَ إِلَيَّ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : مَا بَعَثَهُ إِلَّا ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَكَادُ يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا فَعَلَهُ . فَقُلْتُ : لَأَنْ أَلِيَ بَشْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلِيَ رَحْلَتَهُ ، فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ ، فَأَرَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَفَرًا فَأَرَادَ أَنْ يُرَحِّلَ لَهُ ، فَأَتَانِي فَقَالَ : أَيُّ الرَّاحِلَتَيْنِ كَانَتْ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقُلْتُ : الطَّائِفِيَّةُ ، فَرَحَّلَهَا لَهُ ثُمَّ قَرَّبَهَا إِلَيْهِ ، فَلَمَّا سَارَتْ بِهِ انْكَبَّتْ . فَقَالَ : " مَنْ رَحَّلَ هَذِهِ ؟ " . قَالُوا : فُلَانٌ قَالَ : " رُدُّوهَا إِلَى طَلْحَةَ " . فَرُدَّتْ إِلَيَّ . قَالَ طَلْحَةُ : وَاللَّهِ مَا غَشَشْتُ أَحَدًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَهُ لِكَيْ تَرْجِعَ إِلَيَّ رَاحِلَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین

اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کا پالان تیار کرنا میرے ذمہ تھا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ یہ ذمہ داری اسے دے دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تو طلحہ بن عبیداللہ کے ذمہ ہے ، وہ شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہ بتائی تو میں نے اس کی بات نہیں مانی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گیا ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے اسی کی مانند بات ارشاد فرمائی پھر وہ میرے پاس آیا اور مجھے اس بارے میں بتایا تو میں نے اس کی بات نہیں مانی وہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی مانند کہا: وہ پھر میرے پاس آیا تو میں نے دل میں سوچا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صرف اسی لئے بھیجا ہے کہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ اس کی حاجت کو پورا کر دیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی تھی ، تو آپ وہ کر لیتے تھے میں نے سوچا اگر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کا باعث بنوں تو یہ چیز میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہونی چاہیے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کا پالان باندھنے کا کام کروں ، تو میں نے یہ چیز اس کے سپرد کر دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر پر جانے کا ارادہ کیا اس شخص نے آپ کے لئے پالان تیار کرنے کا ارادہ کیا وہ شخص میرے پاس آیا اس نے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا پالان باندھنے کا طریقہ زیادہ پسند ہے ، تو میں نے کہا: طائفہ اس نے اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پالان تیار کر دیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس پر سواری کی ، تو آپ گر گئے آپ نے دریافت کیا : یہ پالان کس نے تیار کیا تھا ؟ لوگوں نے بتایا فلاں نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کام واپس طلحہ کو دے دو ! تو وہ کام واپس میرے پاس آ گیا ۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے زمانہ اسلام میں اس کے علاوہ کبھی کسی کے ساتھ کوئی دھوکہ نہیں کیا اور اس کام کا مقصد بھی یہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی ذمہ داری واپس میرے پاس آ جائے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14817
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (212)»