عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ - يَعْنِي الْأَوْدِيَّ - قَالَ : إِنِّي لَجَالِسٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ أَتَاهُ تِسْعَةُ رَهْطٍ ، فَقَالُوا لَهُ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، إِمَّا تَقُومُ مَعَنَا وَإِمَّا أَنْ يُخَلُّونَا هَؤُلَاءِ . قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَلْ أَقْوَمُ مَعَكُمْ ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَحِيحٌ قَبْلَ أَنْ يَعْمَى . ¤ قَالَ : فَانْتَبَذُوا فَتَحَدَّثُوا ، فَلَا أَدْرِي مَا قَالُوا . قَالَ : فَجَاءَ يَنْفُضُ ثَوْبَهُ وَيَقُولُ : أُفٍّ وَيَتُفُّ ! وَقَعُوا فِي رَجُلٍ [ لَهُ عَشْرَ ، وَقَعُوا فِي رَجُلٍ ] قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا لَا يُخْزِيهِ اللَّهُ أَبَدًا ، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . فَاسْتَشْرَفَ لَهَا مَنِ اسْتَشْرَفَ قَالَ : " أَيْنَ عَلِيٌّ ؟ " . قَالُوا : فِي الرَّحْلِ يَطْحَنُ قَالَ : " وَمَا كَانَ أَحَدُكُمْ لِيَطْحَنَ " . قَالَ : فَجَاءَ وَهُوَ أَرْمَدُ لَا يَكَادُ يُبْصِرُ قَالَ : فَنَفَثَ فِي عَيْنَيْهِ ، ثُمَّ هَزَّ الرَّايَةَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ قَالَ : فَجَاءَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَ : فَبَعَثَ فُلَانًا بِسُورَةِ التَّوْبَةِ ، فَبَعَثَ عَلِيًّا خَلْفَهُ فَأَخَذَهَا مِنْهُ قَالَ : " لَا يَذْهَبُ بِهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ " . قَالَ : وَقَالَ لِبَنِي عَمِّهِ : " أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ؟ " . فَأَبَوْا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . [ فَقَالَ : " أَنْتَ وَلِييِّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " ] قَالَ : وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ . قَالَ : وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - وَقَالَ : " إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا " . قَالَ : وَشَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ ، لَبِسَ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعَلِيٌّ نَائِمٌ . قَالَ : وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونَةَ فَأَدْرِكْهُ ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ . ¤ قَالَ : وَجَعَلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ ، كَمَا كَانَ يُرْمَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَتَضَوَّرُ قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ ، ثُمَّ كَشَفَ رَأْسَهُ ، فَقَالُوا : إِنَّكَ لَلَئِيمٌ ، كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ لَا يَتَضَوَّرُ وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ ، وَقَدِ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ . قَالَ : وَخَرَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ : فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : أَخْرُجُ مَعَكَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا " . فَبَكَى عَلِيٌّ ، فَقَالَ لَهُ : " أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ ، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي " . وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي " . قَالَ : وَسَدَّ أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ قَالَ : فَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ ، جَنْبٌا ، وَهُوَ طَرِيقُهُ لَيْسَ لَهُ طَرِيقٌ غَيْرَهُ . قَالَ : وَقَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . قَالَ : وَأَخْبَرَنَا اللَّهُ [ عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْقُرْآنِ ] أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ ، عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ، فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ ، هَلْ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ ؟ قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ حِينَ قَالَ : ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ : " وَكُنْتَ فَاعِلًا ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي بَلْجٍ الْفَزَارِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ لِينٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن میمون اودی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران نو افراد ان کے پاس آئے ، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابن عباس ! یا تو آپ اٹھ کر ہمارے ساتھ جائیں یا پھر یہ ہے کہ ہمیں خلوت کا موقع دیں ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : بلکہ میں اٹھ کر تمہارے ساتھ جاتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : وہ ان دنوں تندرست تھے اور ان کی بینائی ابھی رخصت نہیں ہوئی تھی ، راوی کہتے ہیں : وہ لوگ الگ چلے گئے اور آپس میں بات چیت کرتے رہے ، مجھے پتہ نہیں چلا کہ ان لوگوں نے کیا بات کی ہے ، راوی کہتے ہیں : لیکن کچھ دیر بعد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنا کپڑا جھاڑتے ہوئے آئے اور بولے : آف ہے ، وہ مسلسل یہی کہتے ہوئے جا رہے تھے کہ آف ہے ، وہ لوگ ایک ایسے شخص پر تنقید کر رہے تھے ، جس میں دس خصوصیات ہیں ۔ وہ لوگ ایک ایسے شخص پر تنقید کر رہے تھے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : میں ایک ایسے شخص کو ضرور بھیجوں گا ، جسے اللہ تعالیٰ کبھی رسوا نہیں کرے گا ، وہ شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، تو اس دن ہر شخص اس بات کا منتظر رہا کہ شاید اسے یہ موقع ملے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : علی کہاں ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : وہ اپنی رہائشی جگہ پر آٹا پیس رہے ہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی ایک آٹا نہیں پیس سکتا ، راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی ، اور وہ ٹھیک طرح سے دیکھ نہیں سکتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن لگایا ، پھر تین مرتبہ جھنڈا لہرا کر وہ جھنڈا انہیں دے دیا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا آئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں صاحب کو سورت توبہ کے ہمراہ بھیجا تھا ، پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے بھیجا ، انہوں نے سورت توبہ والا حکم ان سے حاصل کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس حکم کو لے کر صرف وہ فرد جا سکتا ہے ، جس کا مجھ سے تعلق ہو ، اور میرا اس سے تعلق ہو ( یعنی خاندانی تعلق ہو ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچازاد افراد سے فرمایا : تم میں سے کون دنیا اور آخرت میں میرا ولی بنے گا ؟ تو ان لوگوں نے اس بات کو نہیں مانا ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں دنیا اور آخرت میں آپ کا ولی بنوں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دنیا اور آخرت میں میرے ولی ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد لوگوں میں اسلام قبول کرنے والے سب سے پہلے فرد ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا لیا اور وہ کپڑا سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر رکھا اور ارشاد فرمایا : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” اے اہل بیت اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے ، اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات کا سودا کر لیا تھا ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس پہنا اور پھر آپ کی جگہ سو گئے تھے ، مشرکین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارا کرتے تھے ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سو رہے تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ شاید یہ اللہ کے نبی ہیں ، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی ! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اللہ کے نبی تشریف لے جا چکے ہیں ، آپ بئر میمونہ کی طرف تشریف لے گئے ہیں ، اور آپ وہاں پہنچ جائیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں داخل ہو گئے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اسی طرح پتھر مارے جاتے رہے ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارے جاتے تھے ، لیکن وہ کروٹیں بدلتے رہے ۔ انہوں نے اپنا سر لحاف میں چھپایا ہوا تھا اور صبح ہونے تک وہ لحاف سے باہر نہیں نکلے ، پھر انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا ، تو لوگوں نے کہا: یہ تو دوسرے فرد ہیں ، تمہارے آقا کو جو ہم کنکریاں مارتے تھے ، تو وہ پہلو نہیں بدلتے تھے ، جبکہ تم پہلو بدل رہے تھے ۔ ہمیں اسی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ صورت حال مختلف ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لے کر غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے گئے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : میں بھی آپ کے ساتھ جاتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : جی نہیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ رونے لگے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو ، جو سیدنا بارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی ، البتہ یہ ہے کہ تم میرے بعد نبی نہیں ہو گے ، کسی کے لئے بھی یہ بات مناسب نہیں ہے کہ جب میں جاؤں ( تو وہ میرا نائب بن جائے ) البتہ تم میرے نائب ہو گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی فرمایا تھا : ” تم میرے بعد ہر مومن کے ولی ہو ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کے علاوہ مسجد کے تمام دروازوں کو بند کروا دیا تھا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بھی بتایا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں مسجد میں داخل ہو سکتے تھے ، کیونکہ وہ ان کا راستہ تھا ، ان کا اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ بات بتائی ہے کہ وہ ان صحابہ کرام سے راضی ہے ، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے ، جو ان کے دلوں میں ہے ، تو کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ وہ اس کے بعد بھی ان لوگوں پر ناراض ہوا ہو ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بھی بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: تھا ، جس وقت انہوں نے یہ اجازت مانگی تھی کہ آپ مجھے اجازت دیں ، تو میں اس کی گردن اڑا دیتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم ایسا کرو گے ؟ تمہیں کیا پتہ ؟ شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا ہو اور یہ فرما دیا ہو : تم جو چاہو عمل کر لو ۔ “ ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے کہنے کا مطلب یہ تھا : بیعت رضوان اور غزوہ بدر میں شرکت کرنے کا شرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے ، تو وہ بھی اس فضیلت میں شامل ہوں گے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابوبلج فزاری کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابوبلج فزاری کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَتْ لِعَلِيٍّ ثَمَانِي عَشْرَةَ مَنْقَبَةً مَا كَانَتْ لِأَحَدٍ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں اٹھارہ ایسی خصوصیات ہیں جو اس امت کے کسی بھی فرد میں نہیں ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرُ النَّاسِ ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرَ ، وَلَقَدْ أُوتِيَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَلَاثَ خِصَالٍ لَأَنْ يَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ : زَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ ، وَوَلَدَتْ لَهُ ، وَسَدَّ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَهُ فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم یہ کہتے تھے کہ اللہ کے رسول سب لوگوں میں سب سے بہتر ہیں ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پھر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو تین خصوصیات عطا کی گئیں ، ان میں سے کوئی ایک خصوصیت بھی میرے اندر ہوتی تو یہ میرے لئے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسندیدہ تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی اپنی صاحبزادی کے ساتھ کی تھی اور ان کی صاحبزادی نے ان کی اولاد کو جنم دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مخصوص دروازے کے علاوہ مسجد کے تمام دروازوں کو بند کروا دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر جھنڈا انہیں عطا کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : لَقَدْ أُعْطِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَلَاثَ خِصَالٍ ، لَأَنْ يَكُونَ لِي خَصْلَةٌ مِنْهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْطَى حُمْرَ النَّعَمِ . قِيلَ : وَمَا هِيَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : تَزْوِيجُهُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسُكْنَاهُ الْمَسْجِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَحِلُّ فِيهِ مَا يَحِلُّ لَهُ ، وَالرَّايَةُ يَوْمَ خَيْبَرَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ” علی بن ابوطالب کو تین ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک خصوصیت میرے لئے ہوتی تو یہ چیز میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ تھی کہ مجھے سرخ اونٹ دے دیتے جاتے ، پوچھا: گیا : اے امیر المؤمنین ! وہ چیزیں کیا ہیں ؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کی شادی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی ، وہ دونوں مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسی حالت میں رہ سکتے تھے کہ اور کسی کے لئے اس حالت میں مسجد میں آنا جائز نہیں ہے ، اور غزوہ خیبر کے موقع پر جھنڈا انہیں دیا گیا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر بن نجیح ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر بن نجیح ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَوْحَى إِلَيَّ فِي عَلِيٍّ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءَ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي : أَنَّهُ سَيِّدُ الْمُؤْمِنِينَ ، وَإِمَامُ الْمُتَّقِينَ ، وَقَائِدُ الْغِرِّ الْمُحَجَّلِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ النَّخَعِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ جَامِعَةٌ فِي بَابِ مَنْ يُحِبُّهُ وَغَيْرَ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے علی کے بارے میں میری طرف تین چیزیں اس رات وحی کی تھیں ، جس رات مجھے معراج کروائی گئی تھی ( وہ تین باتیں یہ ہیں : ) وہ اہل ایمان کا سردار ہے ، وہ پرہیزگاروں کا امام ہے ، اور وہ چمک دار روشن پیشانی والوں کا قائد ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سوادہ نخعی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس بارے میں کچھ احادیث اس باب میں آئیں گی جو اس شخص کے بارے میں ہے ، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، اور دوسری جگہ پر آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سوادہ نخعی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس بارے میں کچھ احادیث اس باب میں آئیں گی جو اس شخص کے بارے میں ہے ، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، اور دوسری جگہ پر آئیں گی ۔
وَعَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي بَابَ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ ، فَيَقُولُ : " إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحمراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ چھ ماہ تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر آتے رہے ، اور آپ یہ پڑھتے تھے : ” اے اہل بیت اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ تم سے گندگی کو دور کر دے ، اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ خَادِمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَمَّا أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ ، دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَرَأَيْتُ فِي سَاقِ الْعَرْشِ مَكْتُوبًا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، أَيَّدْتُهُ بِعَلِيٍّ وَنَصَرْتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم سیدنا ابوحمراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس رات مجھے آسمان کی طرف معراج کروائی گئی ، میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے عرش کے پائے پر یہ لکھا ہوا دیکھا : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں ، میں نے علی کے ذریعے ان کی تائید کی ہے ، اور ان کی مدد کی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَلِيٍّ : " اللَّهُ زَيَّنَكَ بِزِينَةٍ لَمْ يُزَيِّنِ الْعِبَادَ بِزِينَةٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهَا ، وَهِيَ زِينَةُ الْأَبْرَارِ : الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا ، جَعَلَكَ لَا تَمْلِكُ مِنَ الدُّنْيَا شَيْئًا ، وَجَعَلَهَا لَا تَنَالُ مِنْكَ شَيْئًا ، وَوَهَبَ لَكَ حُبَّ الْمَسَاكِينِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ جُمَيْعٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسی زینت کے ذریعے آراستہ کیا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو ایسی زینت کے ذریعے آراستہ نہیں کیا ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس زینت سے زیادہ پسندیدہ ہو ( جس زینت سے اس نے تمہیں آراستہ کیا ہے ) اور وہ نیک لوگوں کی زینت ہے ، اور وہ چیز دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنا ہے ، اس نے تمہیں ایسا بنایا ہے کہ تم دنیا میں سے کسی چیز کے مالک نہیں ہو گے ، اور اس نے دنیا کو ایسا بنایا ہے کہ وہ تم سے کوئی چیز نہیں پا سکے گی اور اس نے تمہیں غریبوں کے ساتھ محبت رکھنا ہبہ کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جمیع ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جمیع ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ظِلٍّ بِالْمَدِينَةِ وَنَحْنُ نَطْلُبُ عَلِيًّا إِذِ انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطٍ ، فَنَظَرْنَا إِلَى عَلِيٍّ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْأَرْضِ وَقَدِ اغْبَرَّ ، فَقَالَ : " لَا أَلُومُ النَّاسَ يُكَنُّونَكَ أَبَا تُرَابٍ " . فَلَقَدْ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَغَيَّرَ وَجْهُهُ ، وَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ . فَقَالَ : " أَلَا أُرْضِيكَ يَا عَلِيُّ ؟ " . قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، . قَالَ : " أَنْتَ أَخِي وَوَزِيرِي تَقْضِي دَيْنِي ، وَتُنْجِزُ مَوْعُودِي ، وَتُبْرِئُ ذِمَّتِي ، فَمَنْ أَحَبَّكَ فِي حَيَاةٍ مِنِّي فَقَدْ قَضَى نَحْبَهُ ، وَمَنْ أَحَبَّكَ فِي حَيَاةٍ مِنْكَ بَعْدِي خَتَمَ اللَّهُ لَهُ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَأَمَّنَهُ يَوْمَ الْفَزَعِ ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُبْغِضُكَ يَا عَلِيُّ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً يُحَاسِبُهُ اللَّهُ بِمَا عَمِلَ فِي الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں ایک سائے میں تھا ، ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تلاش کر رہے تھے اسی دوارن ہم ایک باغ تک پہنچے ، ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ زمین پر سوئے ہوئے تھے اور غبار آلود ہو چکے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں لوگوں کو اس بات پر ملامت نہیں کروں گا کہ اگر وہ تمہاری کنیت ابوتراب رکھ دیں ، راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کا چہرہ متغیر ہو چکا تھا ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گراں گزری ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی ! کیا میں تمہیں راضی نہ کر دوں ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میرے بھائی اور میرے وزیر ہو ، تم میرا قرض ادا کرو گے ، میرے وعدے پورے کرو گے ، میرے ذمہ کو پورا کرو گے ، جو شخص میری زندگی میں تم سے محبت رکھے گا ، وہ اپنا فرض پورا کر دے گا ، اور جو شخص میرے بعد تمہاری زندگی میں تم سے محبت رکھے گا یا ( جو شخص میرے بعد زندگی بھر تم سے محبت رکھے گا ) اللہ تعالیٰ اس کے لئے امن اور ایمان کی مہر لگا دے گا ، اور اسے گھبراہٹ والے دن امان میں رکھے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ تم سے بغض رکھتا ہو اے علی ! تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا ، اور اللہ تعالیٰ اس سے اس کام کا محاسبہ کرے گا جو اس نے اسلام میں عمل کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : طَلَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَنِي فِي جَدْوَلٍ نَائِمًا ، فَقَالَ : " قُمْ مَا أَلُومُ النَّاسَ يُسَمُّونَكَ أَبَا تُرَابٍ " . قَالَ : فَرَآنِي كَأَنِّي وَجَدْتُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ لِي : " وَاللَّهِ لَأُرْضِيَنَّكَ ، أَنْتَ أَخِي وَأَبُو وَلَدِي ، تُقَاتِلُ عَنْ سُنَّتِي ، وَتُبَرِّئُ ذِمَّتِي ، مَنْ مَاتَ فِي عَهْدِي فَهُوَ كَنْزُ اللَّهِ ، وَمَنْ مَاتَ فِي عَهْدِكَ فَقَدْ قَضَى نَحْبَهُ ، وَمَنْ مَاتَ يُحِبُّكَ بَعْدَ مَوْتِكَ خَتَمَ اللَّهُ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ ، مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ أَوْ غَرَبَتْ ، وَمَنْ مَاتَ يُبْغِضُكَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَحُوسِبَ بِمَا عَمِلَ فِي الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا الْأَصْبَهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تلاش کیا ، تو آپ نے مجھے ایک جگہ پر سوئے ہوئے پایا ، آپ نے فرمایا : تم اٹھو میں لوگوں کو اس بات پر ملامت نہیں کروں گا کہ اگر وہ تمہیں ابوتراب کا نام دے دیں ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ فرمایا کہ جیسے اس حوالے سے مجھے الجھن ہوئی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اٹھو ! اللہ کی قسم ! میں تمہیں راضی کر دوں گا ، تم میرے بھائی ہو اور میرے بچوں کے باپ ہو ، تم میری سنت کی خاطر جنگ کرو گے ، میرے ذمہ کو ادا کرو گے ، جو شخص میرے عہد میں مرے گا ، تو وہ اللہ تعالیٰ کا خزانہ ہو گا ، اور جو شخص تمہارے عہد میں مرے گا ، تو وہ اپنے فرض کو پورا کر دے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ تمہارے مرنے کے بعد بھی وہ تم سے محبت رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے امن اور ایمان کی مہر لگا دے گا ، ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک سورج طلوع ہوتا رہے گا ، یا غروب ہوتا رہے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ تم سے بغض رکھتا ہو ، تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا ، اور اس نے جو زمانہ اسلام میں عمل کیا ہو گا اس کا حساب کر لیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی زکریا اصبہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی زکریا اصبہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔