کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں نبی اکرم ﷺ کا لعاب سرمے کے طور پر لگنا اور پھر اس کا آشوب چشم یا گرمی یا سردی کے حوالے سے کفایت کر جانا
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : مَا رَمَدْتُ وَلَا صَدَّعْتُ مُنْذُ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجْهِي ، وَتَفَلَ فِي عَيْنِي ، يَوْمَ خَيْبَرَ حِينَ أَعْطَانِي الرَّايَةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أُمِّ مُوسَى ، وَحَدِيثُهَا مُسْتَقِيمٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب خیبر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھنڈا عطا کیا اس وقت جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا ، اس کے بعد مجھے کبھی آشوب چشم کی یا سر درد کی شکایت نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اُم موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث مستقیم ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14706
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (593) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (579)»
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فِي الْحَرِّ الشَّدِيدِ وَعَلَيْهِ ثِيَابُ الشِّتَاءِ ، وَخَرَجَ عَلَيْنَا فِي الشِّتَاءِ وَعَلَيْهِ ثِيَابُ الصَّيْفِ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءِ مَشْرَبِهِ ، ثُمَّ مَسَحَ الْعَرَقَ عَنْ جَبْهَتِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى ،بَيْتِهِ ، فَقُلْتُ لِأَبِي : يَا أَبَتَاهُ ، أَمَا رَأَيْتَ مَا صَنَعَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ؟ خَرَجَ عَلَيْنَا فِي الشِّتَاءِ عَلَيْهِ ثِيَابُ الصَّيْفِ ، وَخَرَجَ عَلَيْنَا فِي الصَّيْفِ وَعَلَيْهِ ثِيَابُ الشِّتَاءِ ؟ فَقَالَ أَبُو لَيْلَى : مَا فَطِنْتُ ، فَأَخَذَ بِيَدِ ابْنِهِ فَأَتَى عَلِيًّا ، فَقَالَ لَهُ الَّذِي صَنَعَ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ بَعَثَنِي وَأَنَا أَرْمَدُ فَبَزَقَ فِي عَيْنِي ، ثُمَّ قَالَ : " افْتَحْ عَيْنَيْكَ " . فَفَتَحْتُهُمَا فَمَا اشْتَكَيْتُهُمَا حَتَّى السَّاعَةَ ، وَدَعَا لِي فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ " . فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا حَتَّى يَوْمِي هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : ایک شدید گرمی کے دن سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، اس وقت انہوں نے سردی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ایک مرتبہ سردی کے موسم میں وہ ہمارے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے گرمی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، پھر ایک مرتبہ وہ اپنے بالاخانے سے پانی لے کے آئے ، پھر انہوں نے اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا ، پھر وہ اپنے گھر واپس چلے گئے ، میں نے اپنے والد سے کہا: اے ابا جان کیا آپ نے دیکھا جو امیر المؤمنین نے کیا ہے ؟ وہ ہمارے پاس سردی میں تشریف لائے تھے ، تو انہوں نے گرمی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، اور وہ ہمارے پاس گرمی میں تشریف لائے تھے ، تو انہوں نے سردی کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، تو سیدنا ابولیلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے ٹھیک نوٹ کیا ہے ، پھر انہوں نے اپنے صاحبزادے کا ہاتھ پکڑا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کے طرز عمل کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا ۔ اس وقت مجھے آشوب چشم کی شکایت تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھوں میں اپنا لعاب دہن ڈالا ، پھر آپ نے فرمایا : اپنی دونوں آنکھوں کو کھولو ، تو میں نے اپنی آنکھوں کو کھولا تو اس وقت سے لے کر آج تک مجھے آنکھوں میں کبھی شکایت نہیں ہوئی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! اس سے گرمی اور سردی کو دور کر دے ! اس کے بعد آج کے دن تک مجھے کبھی گرمی یا سردی محسوس نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14707
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (778)»
وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عِنْدَهُ : عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ : لَقِينَا عَلِيًّا وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ فِي الشِّتَاءِ ، فَقُلْنَا : لَا تَغْتَرُّ بِأَرْضِنَا هَذِهِ فَإِنَّ أَرْضَنَا هَذِهِ مُقِرَّةٌ لَيْسَتْ مِثْلَ أَرْضِكَ . قَالَ : فَإِنِّي كُنْتُ مَقْرُورًا ، فَلَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى خَيْبَرَ قُلْتُ : إِنِّي أَرْمَدُ ، فَتَفَلَ فِي عَيْنِي ، فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا وَلَا رَمَدَتْ عَيْنَايَ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں : ہماری ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، ان کے جسم پر دو کپڑے تھے ، یہ سردی کے موسم کی بات ہے ، ہم نے کہا: جناب آپ ہمارے اس علاقے کے حوالے سے غلط فہمی کا شکار نہ ہوں ، کیونکہ ہمارا یہ علاقہ آپ کے علاقے کی طرح نہیں ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ایسا شخص تھا جسے سردی لگی ہوئی تھی ( یا سردی زیادہ لگتی تھی ) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خیبر بھیجا تھا ، تو میں نے عرض کی : مجھے آشوب چشم کی شکایت ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا ، اس کے بعد مجھے نہ کبھی گرمی محسوس ہوئی ، نہ سردی محسوس ہوئی اور نہ ہی کبھی آشوب چشم کی شکایت ہوئی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14708
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَحَّلَ عَيْنَ عَلِيٍّ بِرِيقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ عِرْفَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھ میں اپنا لعاب دہن سرمے کے طور پر لگایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عرفان ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14709
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10474)»