حدیث نمبر: 14696
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ - يَعْنِي الْأَوْدِيَّ - قَالَ : إِنِّي لَجَالِسٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ أَتَاهُ تِسْعَةُ رَهْطٍ ، فَقَالُوا لَهُ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، إِمَّا تَقُومُ مَعَنَا وَإِمَّا أَنْ يُخَلُّونَا هَؤُلَاءِ . قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بَلْ أَقْوَمُ مَعَكُمْ ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَحِيحٌ قَبْلَ أَنْ يَعْمَى . ¤ قَالَ : فَانْتَبَذُوا فَتَحَدَّثُوا ، فَلَا أَدْرِي مَا قَالُوا . قَالَ : فَجَاءَ يَنْفُضُ ثَوْبَهُ وَيَقُولُ : أُفٍّ وَيَتُفُّ ! وَقَعُوا فِي رَجُلٍ [ لَهُ عَشْرَ ، وَقَعُوا فِي رَجُلٍ ] قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا لَا يُخْزِيهِ اللَّهُ أَبَدًا ، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . فَاسْتَشْرَفَ لَهَا مَنِ اسْتَشْرَفَ قَالَ : " أَيْنَ عَلِيٌّ ؟ " . قَالُوا : فِي الرَّحْلِ يَطْحَنُ قَالَ : " وَمَا كَانَ أَحَدُكُمْ لِيَطْحَنَ " . قَالَ : فَجَاءَ وَهُوَ أَرْمَدُ لَا يَكَادُ يُبْصِرُ قَالَ : فَنَفَثَ فِي عَيْنَيْهِ ، ثُمَّ هَزَّ الرَّايَةَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ قَالَ : فَجَاءَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَ : فَبَعَثَ فُلَانًا بِسُورَةِ التَّوْبَةِ ، فَبَعَثَ عَلِيًّا خَلْفَهُ فَأَخَذَهَا مِنْهُ قَالَ : " لَا يَذْهَبُ بِهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ " . قَالَ : وَقَالَ لِبَنِي عَمِّهِ : " أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ؟ " . فَأَبَوْا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . [ فَقَالَ : " أَنْتَ وَلِييِّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " ] قَالَ : وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ . قَالَ : وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - وَقَالَ : " إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا " . قَالَ : وَشَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ ، لَبِسَ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعَلِيٌّ نَائِمٌ . قَالَ : وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونَةَ فَأَدْرِكْهُ ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ . ¤ قَالَ : وَجَعَلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ ، كَمَا كَانَ يُرْمَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَتَضَوَّرُ قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ ، ثُمَّ كَشَفَ رَأْسَهُ ، فَقَالُوا : إِنَّكَ لَلَئِيمٌ ، كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ لَا يَتَضَوَّرُ وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ ، وَقَدِ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ . قَالَ : وَخَرَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ : فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : أَخْرُجُ مَعَكَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا " . فَبَكَى عَلِيٌّ ، فَقَالَ لَهُ : " أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ ، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي " . وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي " . قَالَ : وَسَدَّ أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ قَالَ : فَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ ، جَنْبٌا ، وَهُوَ طَرِيقُهُ لَيْسَ لَهُ طَرِيقٌ غَيْرَهُ . قَالَ : وَقَالَ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . قَالَ : وَأَخْبَرَنَا اللَّهُ [ عَزَّ وَجَلَّ - فِي الْقُرْآنِ ] أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ ، عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ، فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ ، هَلْ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ ؟ قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ حِينَ قَالَ : ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ : " وَكُنْتَ فَاعِلًا ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي بَلْجٍ الْفَزَارِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ لِينٌ . ¤
محمد محی الدین

عمرو بن میمون اودی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران نو افراد ان کے پاس آئے ، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابن عباس ! یا تو آپ اٹھ کر ہمارے ساتھ جائیں یا پھر یہ ہے کہ ہمیں خلوت کا موقع دیں ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : بلکہ میں اٹھ کر تمہارے ساتھ جاتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : وہ ان دنوں تندرست تھے اور ان کی بینائی ابھی رخصت نہیں ہوئی تھی ، راوی کہتے ہیں : وہ لوگ الگ چلے گئے اور آپس میں بات چیت کرتے رہے ، مجھے پتہ نہیں چلا کہ ان لوگوں نے کیا بات کی ہے ، راوی کہتے ہیں : لیکن کچھ دیر بعد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنا کپڑا جھاڑتے ہوئے آئے اور بولے : آف ہے ، وہ مسلسل یہی کہتے ہوئے جا رہے تھے کہ آف ہے ، وہ لوگ ایک ایسے شخص پر تنقید کر رہے تھے ، جس میں دس خصوصیات ہیں ۔ وہ لوگ ایک ایسے شخص پر تنقید کر رہے تھے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : میں ایک ایسے شخص کو ضرور بھیجوں گا ، جسے اللہ تعالیٰ کبھی رسوا نہیں کرے گا ، وہ شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ، تو اس دن ہر شخص اس بات کا منتظر رہا کہ شاید اسے یہ موقع ملے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : علی کہاں ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : وہ اپنی رہائشی جگہ پر آٹا پیس رہے ہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی ایک آٹا نہیں پیس سکتا ، راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی ، اور وہ ٹھیک طرح سے دیکھ نہیں سکتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن لگایا ، پھر تین مرتبہ جھنڈا لہرا کر وہ جھنڈا انہیں دے دیا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا آئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں صاحب کو سورت توبہ کے ہمراہ بھیجا تھا ، پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے بھیجا ، انہوں نے سورت توبہ والا حکم ان سے حاصل کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس حکم کو لے کر صرف وہ فرد جا سکتا ہے ، جس کا مجھ سے تعلق ہو ، اور میرا اس سے تعلق ہو ( یعنی خاندانی تعلق ہو ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچازاد افراد سے فرمایا : تم میں سے کون دنیا اور آخرت میں میرا ولی بنے گا ؟ تو ان لوگوں نے اس بات کو نہیں مانا ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں دنیا اور آخرت میں آپ کا ولی بنوں گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دنیا اور آخرت میں میرے ولی ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد لوگوں میں اسلام قبول کرنے والے سب سے پہلے فرد ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا لیا اور وہ کپڑا سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر رکھا اور ارشاد فرمایا : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” اے اہل بیت اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے ، اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات کا سودا کر لیا تھا ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس پہنا اور پھر آپ کی جگہ سو گئے تھے ، مشرکین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارا کرتے تھے ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سو رہے تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ شاید یہ اللہ کے نبی ہیں ، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی ! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اللہ کے نبی تشریف لے جا چکے ہیں ، آپ بئر میمونہ کی طرف تشریف لے گئے ہیں ، اور آپ وہاں پہنچ جائیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں داخل ہو گئے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اسی طرح پتھر مارے جاتے رہے ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارے جاتے تھے ، لیکن وہ کروٹیں بدلتے رہے ۔ انہوں نے اپنا سر لحاف میں چھپایا ہوا تھا اور صبح ہونے تک وہ لحاف سے باہر نہیں نکلے ، پھر انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا ، تو لوگوں نے کہا: یہ تو دوسرے فرد ہیں ، تمہارے آقا کو جو ہم کنکریاں مارتے تھے ، تو وہ پہلو نہیں بدلتے تھے ، جبکہ تم پہلو بدل رہے تھے ۔ ہمیں اسی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ صورت حال مختلف ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لے کر غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے گئے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : میں بھی آپ کے ساتھ جاتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : جی نہیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ رونے لگے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو ، جو سیدنا بارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی ، البتہ یہ ہے کہ تم میرے بعد نبی نہیں ہو گے ، کسی کے لئے بھی یہ بات مناسب نہیں ہے کہ جب میں جاؤں ( تو وہ میرا نائب بن جائے ) البتہ تم میرے نائب ہو گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی فرمایا تھا : ” تم میرے بعد ہر مومن کے ولی ہو ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مخصوص دروازے کے علاوہ مسجد کے تمام دروازوں کو بند کروا دیا تھا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بھی بتایا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں مسجد میں داخل ہو سکتے تھے ، کیونکہ وہ ان کا راستہ تھا ، ان کا اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ بات بتائی ہے کہ وہ ان صحابہ کرام سے راضی ہے ، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے ، جو ان کے دلوں میں ہے ، تو کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ وہ اس کے بعد بھی ان لوگوں پر ناراض ہوا ہو ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بھی بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: تھا ، جس وقت انہوں نے یہ اجازت مانگی تھی کہ آپ مجھے اجازت دیں ، تو میں اس کی گردن اڑا دیتا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم ایسا کرو گے ؟ تمہیں کیا پتہ ؟ شاید اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا ہو اور یہ فرما دیا ہو : تم جو چاہو عمل کر لو ۔ “ ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے کہنے کا مطلب یہ تھا : بیعت رضوان اور غزوہ بدر میں شرکت کرنے کا شرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے ، تو وہ بھی اس فضیلت میں شامل ہوں گے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابوبلج فزاری کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14696
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12593)»