حدیث نمبر: 14705
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : طَلَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَنِي فِي جَدْوَلٍ نَائِمًا ، فَقَالَ : " قُمْ مَا أَلُومُ النَّاسَ يُسَمُّونَكَ أَبَا تُرَابٍ " . قَالَ : فَرَآنِي كَأَنِّي وَجَدْتُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ لِي : " وَاللَّهِ لَأُرْضِيَنَّكَ ، أَنْتَ أَخِي وَأَبُو وَلَدِي ، تُقَاتِلُ عَنْ سُنَّتِي ، وَتُبَرِّئُ ذِمَّتِي ، مَنْ مَاتَ فِي عَهْدِي فَهُوَ كَنْزُ اللَّهِ ، وَمَنْ مَاتَ فِي عَهْدِكَ فَقَدْ قَضَى نَحْبَهُ ، وَمَنْ مَاتَ يُحِبُّكَ بَعْدَ مَوْتِكَ خَتَمَ اللَّهُ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ ، مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ أَوْ غَرَبَتْ ، وَمَنْ مَاتَ يُبْغِضُكَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَحُوسِبَ بِمَا عَمِلَ فِي الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا الْأَصْبَهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تلاش کیا ، تو آپ نے مجھے ایک جگہ پر سوئے ہوئے پایا ، آپ نے فرمایا : تم اٹھو میں لوگوں کو اس بات پر ملامت نہیں کروں گا کہ اگر وہ تمہیں ابوتراب کا نام دے دیں ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ فرمایا کہ جیسے اس حوالے سے مجھے الجھن ہوئی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اٹھو ! اللہ کی قسم ! میں تمہیں راضی کر دوں گا ، تم میرے بھائی ہو اور میرے بچوں کے باپ ہو ، تم میری سنت کی خاطر جنگ کرو گے ، میرے ذمہ کو ادا کرو گے ، جو شخص میرے عہد میں مرے گا ، تو وہ اللہ تعالیٰ کا خزانہ ہو گا ، اور جو شخص تمہارے عہد میں مرے گا ، تو وہ اپنے فرض کو پورا کر دے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ تمہارے مرنے کے بعد بھی وہ تم سے محبت رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے امن اور ایمان کی مہر لگا دے گا ، ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک سورج طلوع ہوتا رہے گا ، یا غروب ہوتا رہے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ تم سے بغض رکھتا ہو ، تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا ، اور اس نے جو زمانہ اسلام میں عمل کیا ہو گا اس کا حساب کر لیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی زکریا اصبہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14705
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (528)»