حدیث نمبر: 14698
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرُ النَّاسِ ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ، ثُمَّ عُمَرَ ، وَلَقَدْ أُوتِيَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَلَاثَ خِصَالٍ لَأَنْ يَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ : زَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ ، وَوَلَدَتْ لَهُ ، وَسَدَّ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَهُ فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم یہ کہتے تھے کہ اللہ کے رسول سب لوگوں میں سب سے بہتر ہیں ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پھر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو تین خصوصیات عطا کی گئیں ، ان میں سے کوئی ایک خصوصیت بھی میرے اندر ہوتی تو یہ میرے لئے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسندیدہ تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی اپنی صاحبزادی کے ساتھ کی تھی اور ان کی صاحبزادی نے ان کی اولاد کو جنم دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مخصوص دروازے کے علاوہ مسجد کے تمام دروازوں کو بند کروا دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر جھنڈا انہیں عطا کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14698
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5601) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (4797)»