مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي مَنَاقِبِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا مجموعہ
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ظِلٍّ بِالْمَدِينَةِ وَنَحْنُ نَطْلُبُ عَلِيًّا إِذِ انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطٍ ، فَنَظَرْنَا إِلَى عَلِيٍّ وَهُوَ نَائِمٌ فِي الْأَرْضِ وَقَدِ اغْبَرَّ ، فَقَالَ : " لَا أَلُومُ النَّاسَ يُكَنُّونَكَ أَبَا تُرَابٍ " . فَلَقَدْ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَغَيَّرَ وَجْهُهُ ، وَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ . فَقَالَ : " أَلَا أُرْضِيكَ يَا عَلِيُّ ؟ " . قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، . قَالَ : " أَنْتَ أَخِي وَوَزِيرِي تَقْضِي دَيْنِي ، وَتُنْجِزُ مَوْعُودِي ، وَتُبْرِئُ ذِمَّتِي ، فَمَنْ أَحَبَّكَ فِي حَيَاةٍ مِنِّي فَقَدْ قَضَى نَحْبَهُ ، وَمَنْ أَحَبَّكَ فِي حَيَاةٍ مِنْكَ بَعْدِي خَتَمَ اللَّهُ لَهُ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَأَمَّنَهُ يَوْمَ الْفَزَعِ ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُبْغِضُكَ يَا عَلِيُّ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً يُحَاسِبُهُ اللَّهُ بِمَا عَمِلَ فِي الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں ایک سائے میں تھا ، ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تلاش کر رہے تھے اسی دوارن ہم ایک باغ تک پہنچے ، ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ زمین پر سوئے ہوئے تھے اور غبار آلود ہو چکے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں لوگوں کو اس بات پر ملامت نہیں کروں گا کہ اگر وہ تمہاری کنیت ابوتراب رکھ دیں ، راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کا چہرہ متغیر ہو چکا تھا ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گراں گزری ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی ! کیا میں تمہیں راضی نہ کر دوں ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میرے بھائی اور میرے وزیر ہو ، تم میرا قرض ادا کرو گے ، میرے وعدے پورے کرو گے ، میرے ذمہ کو پورا کرو گے ، جو شخص میری زندگی میں تم سے محبت رکھے گا ، وہ اپنا فرض پورا کر دے گا ، اور جو شخص میرے بعد تمہاری زندگی میں تم سے محبت رکھے گا یا ( جو شخص میرے بعد زندگی بھر تم سے محبت رکھے گا ) اللہ تعالیٰ اس کے لئے امن اور ایمان کی مہر لگا دے گا ، اور اسے گھبراہٹ والے دن امان میں رکھے گا ، اور جو شخص ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ تم سے بغض رکھتا ہو اے علی ! تو وہ زمانہ جاہلیت کی موت مرے گا ، اور اللہ تعالیٰ اس سے اس کام کا محاسبہ کرے گا جو اس نے اسلام میں عمل کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔