حدیث نمبر: 14700
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَوْحَى إِلَيَّ فِي عَلِيٍّ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءَ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي : أَنَّهُ سَيِّدُ الْمُؤْمِنِينَ ، وَإِمَامُ الْمُتَّقِينَ ، وَقَائِدُ الْغِرِّ الْمُحَجَّلِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ النَّخَعِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ جَامِعَةٌ فِي بَابِ مَنْ يُحِبُّهُ وَغَيْرَ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے علی کے بارے میں میری طرف تین چیزیں اس رات وحی کی تھیں ، جس رات مجھے معراج کروائی گئی تھی ( وہ تین باتیں یہ ہیں : ) وہ اہل ایمان کا سردار ہے ، وہ پرہیزگاروں کا امام ہے ، اور وہ چمک دار روشن پیشانی والوں کا قائد ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سوادہ نخعی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس بارے میں کچھ احادیث اس باب میں آئیں گی جو اس شخص کے بارے میں ہے ، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے ، اور دوسری جگہ پر آئیں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14700
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1012)»