وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : أَعَنْتُ أَنَا وَحَمْزَةُ عُبَيْدَةَ بْنَ الْحَارِثِ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَظُنُّهُ قَالَ : فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَشْقَرُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ولید بن عتبہ کے خلاف ، میں نے اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی مدد کی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے ہم پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسین اشقر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9982
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2954)»
وَعَنْ عَامِرٍ - يَعْنِي الشَّعْبِيَّ - قَالَ : قِيلَ لِسَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - : مَتَى أَصَبْتَ الدَّعْوَةَ ؟ قَالَ : يَوْمَ بَدْرٍ كَنْتُ أَرْمِي بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَضَعُ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ ثُمَّ أَقُولُ : اللَّهُمَّ زَلْزِلْ أَقْدَامَهُمْ ، وَأَرْعِبْ قُلُوبَهُمْ ، وَافْعَلْ بِهِمْ وَافْعَلْ ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
عامر شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : آپ کو دعا ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والی دعا ) کب نصیب ہوئی تھی ؟ انہوں نے بتایا : غزوہ بدر کے دن ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑا ہو کر تیر اندازی کر رہا تھا ، میں نے تیر کمان میں لگایا اور پھر یہ دعا کی : اے اللہ ! ان کے قدموں کو ہلا دے اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دے اور ان کے ساتھ یہ کر اور وہ کر ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : اے اللہ ! تو سعد کی دعا کو قبول فرما ! ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9983
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (318)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كَانَ سَعْدٌ يُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ قِتَالَ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا مُتَّصِلٌ وَالْآخَرُ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : غزوہ بدر کے دن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ۔ سوار کے طور پر اور ایک پیادہ کے طور پر ( یعنی دونوں حیثیتوں کے ساتھ ) جنگ میں حصہ لیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک متصل ہے اور دوسری ” مرسل “ ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9984
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1768 و 1769)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ سِيمَا الْمَلَائِكَةِ يَوْمَ بَدْرٍ عَمَائِمُ بِيضٌ قَدْ أَرْسَلُوهَا إِلَى ظُهُورِهِمْ ، وَيَوْمَ حُنَيْنٍ عَمَائِمُ حُمْرٌ ، وَلَمْ تُقَاتِلِ الْمَلَائِكَةُ فِي يَوْمٍ إِلَّا يَوْمَ بَدْرٍ ، إِنَّمَا كَانُوا يَكُونُونَ عَدَدًا وَمَدَدًا لَا يَضْرِبُونَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمَّارُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن فرشتوں کی مخصوص نشانی سفید عمامے تھے ، انہوں نے ان کے شملے پیچھے لٹکائے ہوئے تھے ، اور غزوہ حنین کے موقع پر ، ان کی نشانی سرخ عمامے تھے ، لیکن فرشتوں نے جنگ میں حصہ ، صرف غزوہ بدر کے موقع پر لیا تھا ، ویسے وہ تعداد زیادہ ظاہر کرنے کے لئے شریک ہوتے تھے ، لیکن لڑائی میں حصہ نہیں لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمار بن ابومالک جنبی ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9985
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمْ تُقَاتِلِ الْمَلَائِكَةُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا يَوْمَ بَدْرٍ ، وَكَانَتْ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ إِمْدَادًا ، وَلَمْ يَكُنْ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْخَيْلِ إِلَّا فَرَسَانِ : أَحَدُهُمَا لِلْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، وَالْآخَرُ لِأَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فرشتوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف غزوہ بدر کے موقع پر لڑائی میں حصہ لیا تھا ، اس کے علاوہ ، وہ صرف تعداد زیادہ ظاہر کرنے کے لئے حاضر ہوتے تھے ( غزوہ بدر کے موقع پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ، جن میں سے ایک سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا تھا ، اور دوسرا سیدنا ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9986
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11377)»
وَعَنِ الْبَهِيِّ قَالَ : كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَسَانِ : الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ عَلَى فَرَسٍ مِنَ الْمَيْمَنَةِ ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ عَلَى فَرَسٍ عَلَى الْمَيْسَرَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
بہی بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو شہسوار تھے ۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ایک گھوڑے پر سوار تھے اور وہ میمنہ پر تعینات تھے اور سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ ایک گھوڑے پر سوار تھے اور وہ میسرہ پر تعینات تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9987
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (231)»
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : نَزَلَتِ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى سِيمَا الزُّبَيْرِ عَلَيْهَا عَمَائِمُ صُفْرٌ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوملیح ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر جب فرشتے نازل ہوئے تھے ، تو ان کا حلیہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی طرح کا تھا ، اور انہوں نے زرد عمامے باندھے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صلت بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9988
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1767) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (518)»
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ فِي الظِّلِّ ، وَأَصْحَابُهُ فِي الشَّمْسِ يُقَاتِلُونَ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ : أَنْتَ فِي الظِّلِّ وَالْمُسْلِمُونَ فِي الشَّمْسِ يُقَاتِلُونَ ، فَقَامَ فَتَحَوَّلَ إِلَى الشَّمْسِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحازم انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سائے میں تھے اور آپ کے اصحاب دھوپ میں لڑائی کر رہے تھے ۔ سیدنا جبرائیل آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : آپ سائے میں ہیں اور مسلمان دھوپ میں لڑائی کر رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے اور دھوپ میں آ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن صالح بن ابواسود ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9989
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ أَبَا بَرْزَةَ الْحَارِثِيَّ جَاءَ يَوْمَ بَدْرٍ بِثَلَاثَةِ رُءُوسٍ يَحْمِلُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ظَفِرَتْ يَمِينُكَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا اثْنَانِ فَأَنَا قَتَلْتُهُمَا ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَرَأَيْتُ رَجُلًا أَبْيَضَ جَمِيلًا حَسَنَ الْوَجْهِ ضَرَبَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذَاكَ فُلَانُ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبرزہ حارثی رضی اللہ عنہ غزوہ بدر کے دن تین سر اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا : تم کامیاب ہو گئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جہاں تک دو افراد کا تعلق ہے ، تو ان دونوں کو تو میں نے قتل کیا ہے ، لیکن جہاں تک تیسرے فرد کا تعلق ہے ، تو میں نے ایک خوبصورت سفید رنگ کے شخص کو دیکھا جس کا چہرہ خوبصورت تھا اس نے اس کا سر اڑا دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ فلاں ، ایک فرشتہ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9990
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي دَاوُدَ الْمَازِنِيِّ - وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا - قَالَ : إِنِّي لَأَتْبَعُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِأَضْرِبَهُ ، إِذْ وَقَعَ رَأْسُهُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ سَيْفِي ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ قَتَلَهُ غَيْرِي . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوداؤد مازنی رضی اللہ عنہ جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پیچھے گیا تاکہ اس پر ضرب لگاؤں ، تو میری تلوار اس تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر گر گیا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ اسے میرے علاوہ کسی اور نے قتل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک شخص ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9991
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (450/5)»
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ إِذْ تَبَسَّمَ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ تَبَسَّمْتَ ؟ قَالَ : " مَرَّ بِي مِيكَائِيلُ وَعَلَى جَنَاحِهِ أَثَرُ غُبَارٍ وَهُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ ، فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران مسکرا دیے جب آپ نے نماز مکمل کی تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ مسکرا دیے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میکائیل میرے پاس سے گزرے تھے اور ان کے ” پر “ پر غبار کا نشان تھا ، اور وہ دشمن کا پیچھا کر کے واپس آ رہے تھے ، وہ مجھے دیکھ کر ہنس پڑے ، تو میں نے انہیں دیکھ کر مسکرا دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9992
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2060)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : قَالَ أَبِي : يَا بُنَيَّ ، لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ بَدْرٍ وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيُشِيرُ بِسَيْفِهِ إِلَى رَأْسِ الْمُشْرِكِ ، فَيَقَعُ رَأْسُهُ عَنْ جَسَدِهِ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَيْهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ : رَوَى مَنَاكِيرَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے یہ بات ارشاد فرمائی : ” اے میرے بیٹے ! غزوہ بدر کے بارے میں ، مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنی تلوار کے ذریعے مشرک کے سر کی طرف اشارہ کرتا تھا ، تو اس کا سر جسم سے جدا ہو کے گر جاتا تھا ، اس سے پہلے کہ وہ تلوار ( یا حملہ آور فرد ) اس تک پہنچے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی اسکندرانی ہے ابن یونس کہتے ہیں : اس نے منکر روایات نقل کی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9993
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5556)»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ لِي أَبُو أُسَيْدٍ : يَا ابْنَ أَخِي ، لَوْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ الْآنَ بِبَدْرٍ ، ثُمَّ أَطْلَقَ اللَّهُ لِي بَصَرِي ، لَأُرِيَنَّكَ الشِّعْبَ الَّذِي خَرَجَتْ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ غَيْرَ شَكٍّ وَلَا تَمَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ لِغَفْلَةٍ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! اگر میں اور تم اس وقت بدر میں ہوتے اور پھر اللہ تعالیٰ میری بینائی کو کھول دیتا ، تو میں تمہیں وہ گھاٹی دکھاتا ، جس میں سے فرشتے نکل کر ہمارے پاس آئے تھے ، اس میں کوئی شک اور کوئی الجھن نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلامہ بن روح ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اس میں موجود غفلت کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9994
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (260/19)»
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى سِيمَا الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ مُتَعَجِّرٌ بِعِمَامَةٍ صَفْرَاءَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي اللِّبَاسِ نَحْوَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن سیدنا جبرائیل سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حلیہ کے مطابق نازل ہوئے انہوں نے زرد رنگ کا عمامہ باندھا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے اور سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔ لباس سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث پہلے گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9995
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (230)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : لَقَدْ قُلِّلُوا فِي أَعْيُنِنَا يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى قُلْتُ لِصَاحِبِي الَّذِي إِلَى جَانِبِي : كَمْ تَرَاهُمْ ؟ أَتَرَاهُمْ سَبْعِينَ ؟ قَالَ : أَرَاهُمْ مِائَةً حَتَّى أَخَذْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا فَسَأَلْنَاهُ قَالَ : كُنَّا أَلْفًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر دشمن ہماری نظروں میں کم نظر آ رہا تھا یہاں تک کہ میں نے اپنے پہلو میں موجود اپنے ساتھی سے دریافت کیا : ان لوگوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ یہ کتنے ہیں کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ ستر ہوں گے ؟ اس نے کہا: میرا خیال ہے ، یہ سو ہوں گے ، یہاں تک کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کو پکڑا اور اس سے دریافت کیا : تو اس نے بتایا : ہم تو ایک ہزار ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9996
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيرہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10269)»
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : سَمِعْنَا صَوْتًا وَقَعَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ كَأَنَّهُ صَوْتُ حَصَاةٍ فِي طِسْتٍ ، وَرَمَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتِلْكَ الْحَصَاةِ فَانْهَزَمْنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” ہم نے ایک آواز سنی ، جو آسمان سے زمین کی طرف آئی تھی ، اور وہ یوں تھی جیسے کسی طشت میں کنکری کو ڈالا جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کنکریاں پھینکیں ، تو ہم پسپا ہو گئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9997
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3127)»
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ‌ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ كَفًّا مِنَ الْحَصَى ، فَاسْتَقْبَلَنَا بِهِ فَرَمَى بِهَا ، وَقَالَ : " شَاهَتِ الْوُجُوهُ " فَانْهَزَمْنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ، آپ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں ، ہم ( یعنی مشرکین مکہ ) آپ کے سامنے آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پھینک دیا اور فرمایا : یہ چہرے قبیح ہو جائیں ، تو ہم پسپا ہو گئے ، اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” جب تم نے کنکریاں پھینکی تھیں ، تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تھیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9998
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3128)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَعَلِيٍّ : " نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ حَصًى " . فَنَاوَلَهُ ، فَرَمَى بِهِ وُجُوهَ الْقَوْمِ ، فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا امْتَلَأَتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحَصْبَاءِ ، فَنَزَلَتْ : وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى الْآيَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : مجھے مٹھی بھر کنکریاں پکڑاؤ ، انہوں نے وہ پکڑائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دشمن کی طرف پھینکیں ، تو دشمن میں سے کوئی فرد ایسا نہیں بچا ، جس کی آنکھیں اس کنکریوں سے بھر نہ گئی ہوں ( یعنی ان کے اثرات سے متاثر نہ ہوئی ہوں ) تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” جب تم نے کنکریاں پھینکی تھیں ، تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تھیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9999
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11750)»