حدیث نمبر: 10000
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ : " مَنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَأْسِرُوهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ; فَإِنَّهُمْ خَرَجُوا كُرْهًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے جو شخص استطاعت رکھے ، تو وہ بنو عبدالمطلب کو قیدی بنا لے ( یعنی انہیں قتل نہ کرے ) کیونکہ وہ لوگ زبردستی لائے گئے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10001
وَعَنِ الْبَرَاءِ وَغَيْرِهِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِالْعَبَّاسِ قَدْ أَسَرَهُ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ هَذَا أَسَرَنِي ، أَسَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنْزِعُ مِنْ هَيْئَتِهِ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلرَّجُلِ : " قَدْ آزَرَكَ اللَّهُ بِمَلَكٍ كَرِيمٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ ، اور دیگر حضرات بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر آیا اس نے انہیں قیدی بنایا ہوا تھا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے مجھے قیدی نہیں بنایا ہے ، مجھے کسی اور نے قیدی بنایا ہے ، میں الگ تھا مجھے قیدی بنانے والے کا حلیہ اس ، اس طرح کا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا : اللہ تعالی نے ایک معزز فرشتے کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10002
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ قَالَ : نَظَرْتُ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّهُ صَنَمٌ ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ ، فَلَمَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ : جَزَاكَ اللَّهُ مِنْ ذِي رَحِمٍ شَرًّا ، أَتُقَاتِلُ ابْنَ أَخِيكَ مَعَ عَدُوِّهِ ؟ قَالَ : مَا فَعَلَ ؟ وَهَلْ أَصَابَهُ الْقَتْلُ ؟ قُلْتُ : اللَّهُ أَعَزُّ لَهُ وَأَنْصَرُ مِنْ ذَلِكَ . قَالَ : مَا يُرِيدُ إِلَيَّ ؟ قُلْتُ : إِسَارًا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ قَتْلِكَ . قَالَ : لَيْسَتْ بِأَوَّلِ صِلَتِهِ ، فَأَسَرْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن میں نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ کھڑے ہوئے تھے ، یوں جیسے بت ہوں ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، میں نے ان کی طرف دیکھا تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو رشتے داروں کی طرف سے برا بدلہ دے ، کیا آپ ، اُس کے دشمن کے ساتھ مل کر ، اپنے بھتیجے کے ساتھ جنگ کرنے لگے ہیں ؟ انہوں نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ کیا وہ قتل ہو گئے ہیں ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ ان کے لئے اس سے زیادہ غلبے والا ہے اور ان کے لئے زیادہ مددگار ہے ، انہوں نے دریافت کیا : تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا: میں آپ کو قیدی بنانا چاہتا ہوں ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو قتل کرنے سے منع کیا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : یہ اُن کی پہلی صلہ رحمی نہیں ہے ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے انہیں قیدی بنا لیا اور میں انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10003
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي : يَا أَبَتِ كَيْفَ أَسَرَكَ أَبُو الْيُسْرِ ، وَلَوْ شِئْتَ لَجَعَلْتَهُ فِي كَفِّكَ ؟ قَالَ : يَا بُنَيَّ ، لَا تَقُلْ ذَاكَ لَقَدْ لَقِيتُنِي وَهُوَ أَعْظَمُ فِي عَيْنِي مِنَ الْخَنْدَمَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : اے ابا جان ! سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ نے آپ کو قید کیسے کر لیا تھا ؟ اگر آپ چاہتے تو آپ انہیں اپنی ایک ہتھیلی کے ساتھ پکڑ سکتے تھے ، انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم ایسا نہ کہو ، میرے سامنے ایک ایسا فرد آیا تھا ، جو میری نظر میں خندمہ ( نامی پہاڑ ) سے زیادہ بڑا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 10004
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أُسِرَ الْعَبَّاسُ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ قَمِيصٌ يَقْدِرُ عَلَيْهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو قید کر لیا گیا ، ان کے لئے کوئی ایسی قمیص نہیں مل رہی تھی ، جو ان کے جسم پر پوری آتی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 10005
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ الْمُجَذَّرُ بْنُ زِيَادٍ لِأَبِي الْبَخْتَرِيِّ بْنِ هِشَامٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ قَتْلِكَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مجذر بن زیاد نے ابوالبختری بن ہشام سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں قتل کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے انہوں نے یہ عبداللہ بن شبیب سے روایت کی ہے اور یہ راوی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے انہوں نے یہ عبداللہ بن شبیب سے روایت کی ہے اور یہ راوی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10006
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ الَّذِي أَسَرَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ أَبُو الْيُسْرِ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو أَحَدُ بَنِي سَلَمَةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ أَسَرْتَهُ يَا أَبَا الْيُسْرِ ؟ " . قَالَ : لَقَدْ أَعَانَنِي عَلَيْهِ رَجُلٌ مَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ وَلَا قَبْلُ هَيْئَتُهُ كَذَا هَيْئَتُهُ كَذَا قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ أَعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ " . وَقَالَ لِلْعَبَّاسِ : يَا عَبَّاسُ ، افْدِ نَفْسَكَ وَابْنَ أَخِيكَ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ ، وَحَلِيفَكَ عُتْبَةَ بْنَ جَحْدَمٍ ، أَحَدَ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ " . قَالَ : فَإِنِّي كُنْتُ مُسْلِمًا قَبْلَ ذَلِكَ ، وَإِنَّمَا اسْتَكْرَهُونِي قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِشَأْنِكَ ، إِنْ يَكُ مَا تَدَّعِي حَقًّا فَاللَّهُ يَجْزِيكَ بِذَلِكَ ، فَأَمَّا ظَاهِرُ أَمْرِكَ فَقَدْ كَانَ عَلَيْنَا ; فَافْدِ نَفْسَكَ " . وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَخَذَ مَعَهُ عِشْرِينَ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، احْسِبْهَا لِي مِنْ فِدَائِي قَالَ : " لَا ذَلِكَ شَيْءٌ أَعْطَانَا اللَّهُ مِنْكَ " . قَالَ : فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ قَالَ : " فَأَيْنَ الْمَالُ الَّذِي وَضَعْتَهُ بِمَكَّةَ حِينَ خَرَجْتَ عِنْدَ أُمِّ الْفَضْلِ وَلَيْسَ مَعَكُمَا غَيْرَكُمَا أَحَدٌ ؟ فَقُلْتُ : إِنْ أَصَبْتُ فِي سَفَرِي هَذَا فَلِلْفَضْلِ كَذَا ، وَلِقُثَمَ كَذَا ، وَلِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا " . قَالَ : فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عَلِمَ بِهِ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ غَيْرِي وَغَيْرُهَا ، وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو جس نے قید کیا تھا ، وہ سیدنا ابوالیسر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے ان کا نام کعب بن عمرو ہے ان کا تعلق بنو سلمہ سے تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : اے ابوالیسر ! تم نے انہیں کیسے قید کیا ہے ، تو انہوں نے بتایا : ان کے خلاف میری مدد ایک ایسے شخص نے کی تھی کہ میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد اس حلیے کا شخص کبھی نہیں دیکھا ، اس کا حلیہ اس ، اس طرح کا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک معزز فرشتے نے ، ان کے خلاف تمہاری مدد کی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے عباس ! آپ اپنا اور اپنے بھتیجے عقیل بن ابوطالب کا اور نوفل بن حارث کا اور اپنے حلیف عتبہ بن جحدم کا فدیہ دیں ، جس کا تعلق بنو حارث بن فہر سے ہے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا انہوں نے کہا: میں اس سے پہلے مسلمان ہو چکا تھا ، وہ لوگ مجھے زبردستی لے کر آئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ کے معاملے کے بارے میں اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے ، آپ جس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں ، اگر وہ حق ہوئی ، تو اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے خرچ کی جزا دے گا ، لیکن آپ کی جو ظاہری صورت حال ہے ، اس حوالے سے ہم پر ( احکام لاگو ہوتے ہیں ، تو آپ اپنا فدیہ دیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے سونے کے بیس اوقیہ لیے تھے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے فدیے میں سے اس کا حساب کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! یہ ایک ایسی چیز ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کی طرف سے عطا کی ہے انہوں نے کہا: میرے پاس مال نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ مال کہاں ہے ؟ جو آپ نے مکہ میں نکلتے وقت اُم فضل کے پاس رکھوایا تھا ، اور اس وقت آپ دونوں کے ساتھ آپ دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ، اور آپ نے یہ کہا: تھا اگر اس سفر کے دوران میں مر گیا ، تو فضل کو اتنا ملے گا ، قسم کو اتنا ملے گا ، عبداللہ کو اتنا ملے گا ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اس مال کے بارے میں ، میرے اور میری بیوی کے علاوہ اور کسی کو پتہ نہیں تھا ، اور مجھے یہ بات پتہ ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10007
وَعَنْ أَبِي عَزِيزِ بْنِ عُمَيْرٍ أَخِي مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : كُنْتُ فِي الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَوْصُوا بِالْأُسَارَى خَيْرًا " . وَكُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَكَانُوا إِذَا قَدَّمُوا غَدَاءَهُمْ وَعَشَاءَهُمْ أَكَلُوا التَّمْرَ ، وَأَطْعَمُونِي الْبُرَّ لِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعزیز بن عمیر ، جو سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں وہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن میں قیدیوں میں تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیدیوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو ۔ راوی کہتے ہیں : میں انصار کے درمیان تھا ، وہ لوگ جب ناشتہ کرتے تھے ، یا رات کا کھانا کھاتے تھے ، تو خود کھجوریں کھا لیتے تھے اور مجھے گندم کھلاتے تھے ، ایسا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی وجہ سے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 10008
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَقُولُونَ فِي هَذِهِ الْأَسْرَى ؟ " . قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ - : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَوْمُكَ وَأَهْلُكَ اسْتَبْقِهِمْ وَاسْتَأْنِ بِهِمْ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ . ¤ قَالَ : وَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْرَجُوكَ وَكَذَّبُوكَ ، قَرِّبْهُمْ فَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ . قَالَ : وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْظُرْ وَادٍ كَثِيرَ الْحَطَبِ فَأَدْخِلْهُمْ فِيهِ ثُمَّ أَضْرِمْهُ عَلَيْهِمْ نَارًا . ¤ قَالَ : فَقَالَ الْعَبَّاسُ : قَطَعْتَ رَحِمَكَ . قَالَ : فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ نَاسٌ : يَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ . وَقَالَ نَاسٌ : يَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ . وَقَالَ نَاسٌ : يَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ . ¤ قَالَ : فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُلِينُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَلْيَنَ مِنَ اللَّبَنِ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَشْدُدْ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ حَتَّى تَكُونَ أَشَدَّ مِنَ الْحِجَارَةِ ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ، وَمَثَلُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ . وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ نُوحٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ كَمَثَلِ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ ، أَنْتُمْ عَالَةٌ فَلَا يَنْقَلِبَنَّ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا بِفِدَاءٍ أَوْ ضَرْبَةِ عُنُقٍ " . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا سُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الْإِسْلَامَ قَالَ : فَسَكَتَ . قَالَ : فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ يَقَعَ عَلَيَّ حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حَتَّى قَالَ : " إِلَّا سُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ : ( مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ) . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ طَرَفًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیدیوں کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کی قوم اور آپ کے اہل خانہ کے لوگ ہیں ، آپ ان سے فدیہ لے لیں اور انہیں چھوڑ دیں ، ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دیدے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انہوں نے آپ کو ( مکہ مکرمہ سے ) نکلنے پر مجبور کیا تھا ، آپ کو جھٹلایا تھا ، آپ انہیں آگے کروا کے ان کی گردنیں اڑوا دیں ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی وادی کا جائزہ لیں ، جس میں بہت ساری لکڑیاں ہوں ، ان لوگوں کو ( اس وادی میں ) داخل کریں اور پھر ان پر آگ جلوا دیں ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے قطع رحمی کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے ، آپ نے ان لوگوں کو کوئی جواب نہیں دیا ، کچھ لوگوں نے کہا: آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مشورے کو قبول کر لیں گے ، کچھ لوگوں نے کہا: آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مشورے کو قبول کریں گے کچھ نے کہا: آپ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے مشورے کو قبول کریں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن لوگوں کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے دلوں کو اتنا نرم کرتا ہے کہ ان میں اتنی نرمی ہوتی ہے کہ وہ دل ، دودھ سے زیادہ نرم ہوتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے دلوں کو سخت کر دیتا ہے اور وہ اتنے سخت ہو جاتے ہیں کہ پتھر سے زیادہ سخت ہوتے ہیں ، اے ابوبکر ! تمہاری مثال سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی مانند ہے ، جنہوں نے یہ کہا: تھا : ” جو شخص میری پیری کرے گا ، اُس کا مجھ سے تعلق ہو گا ، اور جو میری نافرمانی کرے گا تو ، تو بے شک اللہ بخشش کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے “ اے ابوبکر ! تمہاری مثال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی مانند ہے ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ) انہوں نے یہ کہا: ” اگر تو انہیں عذاب دے ، تو یہ تیرے بندے ہیں ، اور اگر تو ان کی مغفرت کر دے ، تو بے شک تو غلبے والا ، حکمت والا ہے “ ۔ اے عمر ! تمہاری مثال سیدنا نوح علیہ السلام کی مانند ہے ( جن کی دعا کا ذکر قرآن میں ، ان الفاظ میں ہے : ) ” اے میرے پروردگار ! تو روئے زمین پر کسی کافر کو بستا ہوا نہ چھوڑنا “ اے عمر ! تمہاری مثال یوں ہے ، جیسے سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا: تھا : ( جس کا ذکر قرآن میں ہے : ) ” تو ان کے دلوں کو سخت کر دے ، یہاں تک کہ یہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں ، جب تک یہ دردناک عذاب نہیں دیکھ لیتے “ ۔ ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) تم لوگوں کی مالی حالت کمزور ہے ، ان میں سے کوئی بھی شخص فدیہ دیے ، بغیر یا گردن اڑوائے بغیر نہیں جائے گا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! البتہ سہیل بن بیضاء کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ میں نے اسے اسلام کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔ راوی کہتے ہیں : مجھے اُس دن سے زیادہ خوف اپنے بارے میں کبھی محسوس نہیں ہوا ، مجھے یہ ڈر تھا کہ کہیں اُس دن مجھ پر آسمان سے پتھر نازل نہ ہوں ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سہیل بن بیضاء کا معاملہ مختلف ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پہلے سے طے شدہ نہ ہوتا ( کہ وہ تمہیں عذاب نہیں دے گا ) تو تم نے ( بدر کے قیدیوں سے ) جو وصول کیا ہے اس کی وجہ سے تمہیں عظیم عذاب لاحق ہونا تھا “ ۔ یہ آیت ( بھی اس سے متعلق ) ہے : ” نبی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ( کفار ) اس کے پاس قیدیوں کے طور پر ہوں ( اور وہ فدیہ وصول کر لے ) اسے تو زمین میں خون بہانا چاہیے ، تم لوگ دنیاوی مال و اسباب چاہتے ہو ، اور اللہ تعالیٰ ( تمہارے لیے ) آخرت ( کی بھلائی ) کا ارادہ رکھتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ غالب ( اور ) حکمت والا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 10009
وَفِي رِوَايَةٍ : فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْدَاءُ اللَّهِ كَذَّبُوكَ وَأَخْرَجُوكَ وَقَاتَلُوكَ ، وَأَنْتَ بَوَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : پھر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اللہ کے دشمن ہیں ، انہوں نے آپ کو جھٹلایا تھا ، انہوں نے آپ کو نکال دیا تھا ، آپ کے ساتھ جنگ کی ہے ، آپ ایک ایسی وادی میں رہتے ہیں ، جہاں لکڑیاں بہت زیادہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10010
وَفِي رِوَايَةٍ : يَسْتَنْقِذُهُمْ بِكَ اللَّهُ مِنَ النَّارِ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عِتْرَتُكَ وَأَهْلُكَ وَقَوْمُكَ تَجَاوَزْ عَنْهُمْ يَسْتَنْقِذْهُمُ اللَّهُ بِكَ مِنَ النَّارِ . ¤ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ أَيْضًا ، وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے انہیں جہنم سے بچا لے گا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کے خاندان کے اور آپ کی قوم کے لوگ ہیں ، آپ ان سے درگزر فرمائیں ، اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے انہیں جہنم سے بچا لے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ ہے اس نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ، تاہم اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ،
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ ہے اس نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ، تاہم اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10011
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنْ قَتَلْتَهُمْ دَخَلُوا النَّارَ وَإِنْ أَخَذْتَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ كَانُوا لَنَا عَضُدًا ، وَقَالَ عُمَرُ : أَرَى أَنْ تَعْرِضَهُمْ ثُمَّ تَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ ، فَهَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ ، وَقَادَةُ الْكَفْرِ ، وَاللَّهِ مَا رَضَوْا أَنْ أَخْرَجُونَا حَتَّى كَانُوا أَوَّلَ الْعَرَبِ غَزَانَا . وَهِيَ مُتَّصِلَةٌ ، وَفِيهَا مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اگر آپ انہیں قتل کر دیتے ہیں ، تو یہ جہنم میں چلے جائیں گے ، اور اگر آپ ان سے فدیہ وصول کرتے ہیں ، تو ( ہو سکتا ہے ، آگے چل کر ) یہ لوگ ہمارے دست و بازو بن جائیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ انہیں لائیں اور پھر ان کی گردنیں اڑوا دیں ، کیونکہ یہ کفر کے پیشوا ہیں اور کفر کے قائد ہیں ، اللہ کی قسم ! یہ لوگ اس بات پر بھی راضی نہیں ہوئے کہ انہوں نے ہمیں نکلنے پر مجبور کیا تھا ، یہاں تک کہ یہ لوگ عربوں میں ، ہمارے ساتھ جنگ کرنے والے پہلے افراد بن گئے “ ۔
یہ روایت متصل ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت متصل ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مطیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10012
وَعَنْ أَنَسٍ وَالْحَسَنِ قَالَ : اسْتَشَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ " . قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ ، وَإِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ بِالْأَمْسِ " . قَالَ : فَقَامَ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قَالَ : ثُمَّ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِلنَّاسِ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ تَرَى أَنْ تَعْفُوَ عَنْهُمْ ، وَأَنْ تَقْبَلَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ . قَالَ : فَذَهَبَ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ مِنَ الْغَمِّ ، قَالَ : فَعَفَا عَنْهُمْ ، وَقَبِلَ الْفِدَاءَ قَالَ : وَأَنْزَلَ اللَّهُ : لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ ، لَا يَرْجِعُ إِذَا قِيلَ لَهُ الصَّوَابُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور حسن بصری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر قیدیوں کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر ق ابودے دیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان کی گردنیں اڑا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا اور پھر آپ نے اپنی بات دہرائی اور ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر ق ابودے دیا ہے اور گزشتہ کل یہ تمہارے بھائی تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان کی گردنیں اڑا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات دہرائی اور آپ نے لوگوں سے اسی کی مانند بات ارشاد فرمائی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ مناسب سمجھیں ، تو ان سے درگزر کریں اور ان سے فدیہ قبول کر لیں ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر جو پریشانی تھی ، وہ ختم ہو گئی ، آپ نے اُن سے درگزر کیا اور فدیہ قبول کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پہلے سے طے شدہ نہ ہوتا ( کہ وہ تمہیں عذاب نہیں دے گا ) تو تم نے ( بدر کے قیدیوں سے ) جو وصول کیا ہے اس کی وجہ سے تمہیں ( عظیم عذاب ) لاحق ہونا تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اپنے استاد علی بن عاصم بن صہیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ بکثرت غلطی اور خطا کرنے والا شخص ہے ، جب اُس سے درست بات کے لئے کہا: جاتا تھا ، تو وہ رجوع نہیں کرتا تھا ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اپنے استاد علی بن عاصم بن صہیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ بکثرت غلطی اور خطا کرنے والا شخص ہے ، جب اُس سے درست بات کے لئے کہا: جاتا تھا ، تو وہ رجوع نہیں کرتا تھا ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10013
وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ : قَالَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كُنْتُ غُلَامًا لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ وَكَانَ الْإِسْلَامُ قَدْ دَخَلَنَا فَأَسْلَمْتُ ، وَأَسْلَمَتْ أُمُّ الْفَضْلِ ، وَكَانَ الْعَبَّاسُ قَدْ أَسْلَمَ وَلَكِنَّهُ كَانَ يَهَابُ قَوْمَهُ ، وَكَانَ يَكْتُمُ إِسْلَامَهُ ، وَكَانَ أَبُو لَهَبٍ - لَعَنَهُ اللَّهُ - قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ ، وَبَعَثَ مَكَانَهُ الْعَاصَ بْنَ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَصْنَعُونَ لَمْ يَتَخَلَّفْ رَجُلٌ إِلَّا بَعَثَ مَكَانُهُ رَجُلًا ، فَلَمَّا جَاءَنَا الْخَبَرُ كَبَتَهُ اللَّهُ وَأَخْزَاهُ ، وَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا قُوَّةً . ¤ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَمِنْ هُنَا فِي كِتَابِ يَعْقُوبَ مُرْسَلٌ ، لَيْسَ فِيهِ إِسْنَادٌ ، وَقَالَ فِيهِ : أَخُو بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ ، وَكَانَ فِي الْأُسَارَى أَبُو وَدَاعَةَ بْنُ صُبَيْرَةَ السَّهْمِيُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لَهُ بِمَكَّةَ ابْنًا كَيِّسًا تَاجِرًا ذَا مَالٍ ، لَكَأَنَّكُمْ بِهِ قَدْ جَاءَ فِي فِدَاءِ أَبِيهِ " . وَقَدْ قَالَتْ قُرَيْشٌ : لَا تَعْجَلُوا فِي فِدَاءِ أَسْرَاكُمْ لَا يَتَأَرَّبُ عَلَيْكُمْ مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ . فَقَالَ الْمُطَّلِبُ بْنُ أَبِي وَدَاعَةَ : صَدَقْتُمْ فَافْعَلُوا ، وَانْسَلَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ ، فَأَخَذَ أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ فَانْطَلَقَ بِهِ ، وَقَدِمَ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصِ بْنِ الْأَخْيَثِ فِي فِدَاءِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَكَانَ الَّذِي أَسَرَهُ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ أَخُو بَنِي مَالِكِ بْنِ عَوْفٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا بِاخْتِصَارٍ ، وَبَعْضُهُ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُ غَيْرِ الْمُرْسَلِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا ، ہم لوگ اسلام قبول کر چکے تھے ، میں اسلام قبول کر چکا تھا سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اسلام قبول کر چکی تھیں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اسلام قبول کر چکے تھے لیکن وہ اپنی قوم سے خوف زدہ تھے اور اپنے اسلام کو چھپاتے تھے ، ابولہب ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ، وہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوا تھا ، اس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام بن مغیرہ کو بھیجا تھا ، وہ لوگ اسی طرح کیا کرتے تھے ، جب کوئی شخص جنگ میں شریک نہیں ہو سکتا تھا ، تو اپنی جگہ کسی اور کو بھیج دیتا تھا ، جب ہمارے پاس اس بارے میں اطلاع آئی ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے ذلت اور رسوائی کا شکار کر دیا اور ہمیں اپنے اندر قوت محسوس ہوئی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یعقوب کی تحریر میں یہاں ایک ” مرسل “ روایت ہے ، جس کی سند نہیں ہے ، اس میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : ” ان کا تعلق بنو سالم بن عوف سے تھا ، اور ان قیدیوں میں ایک ابووداعہ بن صبیرہ سہمی بھی تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مکہ میں اس کا بیٹا ہے ، جو بڑا سمجھدار تاجر اور مال دار شخص ہے ، وہ جلد ہی اپنے باپ کے فدیے کہ سلسلے میں آ جائے گا ، قریش نے اس دوران یہ کہا: تھا کہ تم لوگ اپنے قیدیوں کا فدیہ دینے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرنا ، ورنہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اصحاب تمہارے ساتھ سختی اور زیادتی سے کام لیں گے ، تو مطلب بن ابووداعہ نے کہا: تم لوگ ٹھیک کہہ رہے ہو ، تم ایسا ہی ۔ کرو ، پھر رات کو وہ وہاں سے کھسک کر نکل آیا ، وہ مدینہ منورہ آیا اس نے اپنے باپ کو چار ہزار درہم کے عوض میں چھڑوایا اور اسے ساتھ لے کر چلا گیا ، پھر مکرز بن حفص بن اخیث ، سہیل بن عمرو کے فدیے کے سلسلے میں آیا ، اُسے بنو مالک بن عوف سے تعلق رکھنے والے سیدنا مالک بن دخشم رضی اللہ عنہ نے قیدی بنایا ہوا تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کا کچھ حصہ ” مرسل “ ہے ، جو روایت ” مرسل “ نہیں ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسی طرح اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کا کچھ حصہ ” مرسل “ ہے ، جو روایت ” مرسل “ نہیں ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10014
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كُنْتُ غُلَامًا لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ ، وَكُنْتُ قَدْ أَسْلَمْتُ ، وَأَسْلَمَتْ أُمُّ الْفَضْلِ ، وَأَسْلَمَ الْعَبَّاسُ ، وَكَانَ يَكْتُمُ إِسْلَامَهُ مَخَافَةَ قَوْمِهِ ، وَكَانَ أَبُو لَهَبٍ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ ، وَبَعَثَ مَكَانَهُ الْعَاصِ بْنَ هِشَامٍ ، وَكَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَقَالَ لَهُ : اكْفِنِي مِنْ هَذَا الْغَزْوِ وَأَتْرُكُ لَكَ مَا عَلَيْكَ فَفَعَلَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْخَبَرُ ، وَكَبَتَ اللَّهُ أَبَا لَهَبٍ ، وَكُنْتُ رَجُلًا ضَعِيفًا أَنَحَتُ هَذِهِ الْأَقْدَاحَ فِي حُجْرَةِ زَمْزَمَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَجَالِسٌ أَنْحِتُ أَقْدَاحِي فِي الْحُجْرَةِ وَعِنْدِي أُمُّ الْفَضْلِ إِذَا الْفَاسِقُ أَبُو لَهَبٍ يَجُرُّ رِجْلَيْهِ أَرَاهُ قَالَ : حَتَّى جَلَسَ عِنْدَ طُنُبِ الْحُجْرَةِ فَكَانَ ظَهْرُهُ إِلَى ظَهْرِي ، فَقَالَ النَّاسُ : هَذَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ ، [ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ : هَلُمَّ يَا ابْنَ أَخِي ، فَجَاء أَبُو سُفْيَانَ حَتَّى جَلَسَ عِنْدَهُ ، فَجَاءَ النَّاسُ فَقَامُوا عَلَيْهِمَا فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي كَيْفَ كَانَ أَمْرُ النَّاسِ ؟ قَالَ : لَا شَيْءَ ، وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ لَقِينَاهُمْ فَمَنَحْنَاهُمْ أَكْتَافَنَا يَقْتُلُونَنَا كَيْفَ شَاءُوا ، وَيَأْسِرُونَنَا كَيْفَ شَاءُوا ، وَايْمُ اللَّهِ مَا لُمْتُ النَّاسَ قَالَ : وَلِمَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ رِجَالًا بِيضًا عَلَى خَيْلٍ بَلَقٍ لَا وَاللَّهِ لَا تَلْبَقُ شَيْئًا ، وَلَا يَقُومُ لَهَا شَيْءٌ قَالَ : فَرَفَعْتُ طُنُبَ الْحُجْرَةِ ، فَقُلْتُ : تِلْكَ وَاللَّهِ الْمَلَائِكَةُ ، فَرَفَعَ أَبُو لَهَبٍ يَدَهُ فَلَطَمَ وَجْهِي ، وَثَاوَرْتُهُ فَاحْتَمَلَنِي فَضَرَبَ بِي الْأَرْضَ حَتَّى نَزَلَ عَلَيَّ ، وَقَامَتْ أُمُّ الْفَضْلِ فَاحْتَجَرَتْ ، وَأَخَذَتْ عَمُودًا مِنْ عُمُدِ الْحُجْرَةِ فَضَرَبَتْهُ بِهِ فَفَلَقَتْ فِي رَأْسِهِ شَجَّةً مُنْكَرَةً ، وَقَالَتْ : أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ ، اسْتَضْعَفْتَهُ أَنْ رَأَيْتَ سَيِّدَهُ غَائِبًا عَنْهُ ، فَقَامَ ذَلِيلًا فَوَاللَّهِ مَا عَاشَ إِلَّا سَبْعَ لَيَالٍ حَتَّى ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْعَدَسَةِ فَقَتَلَتْهُ ، فَتَرَكَهُ ابْنَاهُ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً مَا يَدْفِنَاهُ حَتَّى أَنْتَنَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ لِابْنَيْهِ : أَلَا تَسْتَحْيِيَانِ أَنَّ أَبَاكُمَا قَدْ أَنْتَنَ فِي بَيْتِهِ ؟ فَقَالَا : إِنَّا نَخْشَى هَذِهِ الْقُرْحَةَ ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَتَّقِي الْعَدَسَةَ كَمَا يُتَّقَى الطَّاعُونُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : انْطَلِقَا فَأَنَا مَعَكُمَا قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا غَسَّلَاهُ إِلَّا قَذْفًا بِالْمَاءِ مِنْ بَعِيدٍ ، ثُمَّ احْتَمَلُوهُ فَقَذَفُوهُ فِي أَعْلَى مَكَّةَ إِلَى جِدَارٍ ، وَقَذَفُوا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا ، میں اسلام قبول کر چکا تھا ، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بھی اسلام کر چکی تھیں ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی اسلام قبول کر چکے تھے ، لیکن وہ اپنی قوم کے خوف کی وجہ سے اپنے اسلام کو چھپاتے تھے ، ابولہب غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکتا تھا اس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیجا تھا ، جو اس کا مقروض تھا ، اس نے عاص بن ہشام سے یہ کہا: تھا : تم میری جگہ اس جنگ میں حصہ لو ، تمہارے ذمہ جو ادائیگی ہے میں اسے چھوڑ دوں گا ، تو اس نے ایسا ہی کیا ، جب ( جنگ کے نتیجے ) کی اطلاع آ گئی ، تو اللہ تعالیٰ نے ابولہب کو ذلت کا شکار کیا ، میں ایک کمزور شخص تھا ، میں زمزم کے حجرے میں تیروں ( کی لکڑی ) چھیل رہا تھا ، اللہ کی قسم ! میں بیٹھا ہوا حجرے میں تیروں ( کی لکڑی ) چھیل رہا تھا ، میرے پاس سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں ، اس دوران فاسق ابولہب اپنی ٹانگیں گھسیٹتا ہوا آیا ، میں اسے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ وہ خیمے کی طناب کے پاس بیٹھ گیا ، اس کی پشت میری پشت کی طرف تھی ، لوگوں نے کہا: یہ ابوسفیان بن حارث ( آ رہا ہے ) تو ابولہب نے کہا: اے میرے بھتیجے ! میری طرف آ جاؤ ، ابوسفیان آیا اور اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا ، لوگ آئے اور ان دونوں کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے ، ابولہب نے کہا: اے میرے بھتیجے ! لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : کچھ نہیں ۔ اللہ کی قسم ! جب ہمارا ان سے سامنا ہوا ، تو یوں محسوس ہوا ، جیسے ہم نے اپنے کندھے انہیں تحفے کے طور پر پیش کر دیے ہیں ، تاکہ وہ ہمیں جیسے چاہیں قتل کر دیں ، اور جیسے چاہیں ہمیں قیدی بنا لیں ۔ اللہ کی قسم ! میں اس بارے میں لوگوں کو ملامت نہیں کرتا ، ابولہب نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ ابوسفیان نے کہا: میں نے کچھ گورے چٹے لوگوں کو دیکھا ، جو خوبصورت گھوڑوں پر سوار تھے ، اللہ کی قسم ! اُن کے لئے کوئی چیز نرم نہیں ہوتی تھی اور کوئی چیز ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی تھی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے حجرے کا طناب اُٹھایا اور میں نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ فرشتے ہوں گے ، ابولہب اُٹھا ، اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور میرے چہرے پر طمانچہ رسید کر دیا ، میں نے بھی اس پر حملہ کیا اس نے مجھے اٹھایا اور زمین پر دے مارا ، یہاں تک کہ وہ مجھ پر چڑھ گیا ۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا انھیں انہوں نے حجرے کی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی پکڑی اور وہ لکڑی ابولہب کو ماری تو اس کے سر میں بڑا سا گومڑ نکل آیا سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے دشمن ! تم نے اسے کمزور سمجھ لیا ہے ، جب یہ دیکھا کہ اس کا آقا یہاں موجود نہیں ہے ، تو ابولہب ذلیل ہو کے اٹھ گیا ۔ اللہ کی قسم ! اس کے بعد وہ سات دن زندہ رہا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عدسہ ( نامی پھوڑے والی بیماری ) میں مبتلاء کر کے موت کا شکار کر دیا ، اُس کے بیٹوں نے دو یا تین راتوں تک اسے ایسی حالت میں رہنے دیا کہ اسے دفن نہیں کیا ، یہاں تک کہ اس کے جسم سے بدبو آنے لگی ، تو قریش کے ایک فرد نے اُس کے دونوں بیٹوں سے کہا: کیا تمہیں اس بات سے شرم نہیں آتی کہ تمہارا باپ گھر میں پڑا ہوا بودار ہو گیا ہے ؟ ان دونوں نے کہا: ہمیں اس پھوڑے کے حوالے سے اندیشہ ہے ، کیونکہ قریش عدسہ نامی پھوڑے سے اُسی طرح بچتے تھے جس طرح طاعون سے بچتے تھے ، تو ایک شخص نے کہا: تم دونوں چلو ! میں تمہارے ساتھ ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! ان دونوں نے اسے غسل نہیں دیا ۔ دور سے اس پر پانی ڈالا پھر اسے اٹھایا اور مکہ کے بالائی حصے میں موجود ایک دیوار کے پاس ڈال دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10015
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : أَسَرْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَدِمَ هِشَامُ بْنُ الْوَلِيدِ لِفِدَائِهِ فَوَهَبْتُ لَهُ حَقِّي وَأَخَذَ الزُّبَيْرُ حَقَّهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر کے موقع پر ولید بن ولید کو قیدی بنا لیا ، ہشام بن ولید اس کے فدیے کی ادائیگی کے لئے آیا ، تو میں نے اپنا حق اُسے ہبہ کر دیا اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنا حق وصول کر لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10016
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأَقْتُلَنَّ الْيَوْمَ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ صَبْرًا " . قَالَ : فَنَادَى عُقْبَةُ - بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، مَالِي أُقْتَلُ مِنْ بَيْنِكُمْ صَبْرًا قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِكُفْرِكَ بِاللَّهِ ، وَافْتِرَائِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آج میں قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو باندھ کر ضرور قتل کروں گا “ راوی بیان کرتے ہیں : تو عقبہ بن ابومعیط نے بلند آواز میں پکار کر کہا: اے قریش کے گروہ ! کیا وجہ ہے کہ تم سب کے درمیان مجھے باندھ کر قتل کر دیا جائے گا ؟ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے اللہ تعالیٰ کا کفر کرنے کی وجہ سے اور تمہارے اللہ کے رسول پر افتراء باندھنے کی وجہ سے ( ایسا کیا جائے گا ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن سلمہ بن کہیل ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن سلمہ بن کہیل ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 10017
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَادَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسَارَى بَدْرٍ ، وَكَانَ فِدَاءُ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَرْبَعَةَ آلَافٍ ، وَقُتِلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ قَبْلَ الْفِدَاءِ ، قَامَ إِلَيْهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَتَلَهُ صَبْرًا قَالَ : مَنْ لِلصِّبْيَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " النَّارُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں بدر کے قیدیوں کو پکارا ، اُن میں سے ہر ایک فرد کا فدیہ چار ہزار تھا ، فدیہ وصول کرنے سے پہلے ہی عقبہ بن ابومعیط کو قتل کر دیا گیا ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اُٹھ کر اس کی طرف گئے ، اور انہوں نے اسے باندھ کر قتل کر دیا ، اس نے ( مرنے سے پہلے ) یہ کہا: اے محمد ! بچوں کا کون نگران ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آگ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10018
وَعَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ أَبِي مُعَيْطٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ - وَكَانَ غَيْرَ كَذَّابٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِعُنُقِ أَبِيكَ أَنْ تُضْرَبَ صَبْرًا ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ فَقَالَ : مَنْ لِلصِّبْيَةِ بَعْدِي ؟ قَالَ : " لَهُمُ النَّارُ " . حَسْبُكَ مَا رَضِيَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مسروق کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ابومعیط کے بیٹے سے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی ہے ، اور وہ جھوٹ بولنے والے نہیں تھے انہوں نے یہ بتایا ہے : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے باپ کی گردن اُڑانے کا حکم دیا کہ اسے باندھ کر قتل کر دیا جائے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے ، تو اس نے دریافت کیا : میرے بعد بچوں کا کون نگہبان ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہیں آگ نصیب ہو گی ۔ ( پھر مسروق نے ، عقبہ بن ابومعیط کے بیٹے سے کہا: ) تمہارے لئے وہ چیز کافی ہے ، جس کے حوالے سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لئے راضی ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10019
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ ثَلَاثَةَ صَبْرًا ، قَتَلَ النَّضْرَ بْنَ الْحَارِثِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، وَقَتَلَ طُعَيْمَةَ بْنَ عَدِيٍّ مِنْ بَنِي نَوْفَلٍ ، وَقَتَلَ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادِ بْنِ نُمَيْرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر تین افراد کو باندھ کر قتل کروایا تھا ، آپ نے نصر بن حارث کو قتل کروایا ، جس کا تعلق بنو عبدالدار سے تھا ، آپ نے بنونوفل سے تعلق رکھنے والے طعیمہ بن عدی کو قتل کروایا ، اور آپ نے عقبہ بن ابومعیط کو قتل کروایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حماد بن نمیر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حماد بن نمیر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10020
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِدَاءَ أُسَارَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ : كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَرْبَعَةَ آلَافٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے تعلق رکھنے والے ، بدر کے قیدیوں میں سے ، ہر فرد کا فدیہ چار ہزار مقرر کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ’ واقدی ، ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ’ واقدی ، ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10021
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : كَانَتْ قُرَيْشٌ نَاحَتْ قَتْلَاهَا ثُمَّ نَدِمَتْ ، وَقَالُوا : لَا تَنُوحُوا عَلَيْهِمْ فَيَبْلُغَ ذَلِكَ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ ; فَيَشْمَتُوا بِكُمْ ، وَكَانَ فِي الْأَسْرَى : أَبُو وَدَاعَةَ بْنُ صُبَيْرَةَ السَّهْمِيُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لَهُ بِمَكَّةَ ابْنًا تَاجِرًا كَيِّسًا ذَا مَالٍ ، كَأَنَّكُمْ قَدْ جَاءَكُمْ فِي فِدَاءِ أَبِيهِ " . فَلَمَّا قَالَتْ قُرَيْشٌ فِي الْفِدَاءِ مَا قَالَتْ ، قَالَ الْمُطَّلِبُ : صَدَقْتُمْ ، وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتُمْ لَيَتَأَرَّبَنَّ عَلَيْكُمْ . ثُمَّ انْسَلَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَفَدَى أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے قریش ، اپنے مقتولین پر نوحہ کرتے رہے ، پھر وہ ندامت کا شکار ہوئے پھر انہوں نے یہ کہا: تم ان پر نوحہ نہ کرو ! اس بات کی اطلاع سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کو ملی ، تو وہ اس حوالے سے خوش ہوں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : قیدیوں میں ایک شخص ابووداعہ بن صبیرہ سہمی تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مکہ میں اس کا ایک بیٹا ہے ، جو تاجر ہے ، سمجھدار ہے اور مال دار ہے ، وہ اپنے باپ کے فدیے کے سلسلے میں آیا ہی چاہتا ہو گا ، جب قریش نے فدیے کے بارے میں اپنے موقف کا اظہار کیا ، تو مطلب نے کہا: تم لوگ ٹھیک کہہ رہے ہو ۔ اللہ کی قسم ! اگر تم لوگوں نے ایسا کیا تو وہ لوگ تمہارے خلاف زیادتی کریں گے ، پھر وہ رات کے وقت کھسک کر نکل آیا اور مدینہ منورہ آ گیا ، اس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم ادا کیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔