مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ إِذْ تَبَسَّمَ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ تَبَسَّمْتَ ؟ قَالَ : " مَرَّ بِي مِيكَائِيلُ وَعَلَى جَنَاحِهِ أَثَرُ غُبَارٍ وَهُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ ، فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران مسکرا دیے جب آپ نے نماز مکمل کی تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ مسکرا دیے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میکائیل میرے پاس سے گزرے تھے اور ان کے ” پر “ پر غبار کا نشان تھا ، اور وہ دشمن کا پیچھا کر کے واپس آ رہے تھے ، وہ مجھے دیکھ کر ہنس پڑے ، تو میں نے انہیں دیکھ کر مسکرا دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔