مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر
وَعَنْ عَامِرٍ - يَعْنِي الشَّعْبِيَّ - قَالَ : قِيلَ لِسَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - : مَتَى أَصَبْتَ الدَّعْوَةَ ؟ قَالَ : يَوْمَ بَدْرٍ كَنْتُ أَرْمِي بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَضَعُ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ ثُمَّ أَقُولُ : اللَّهُمَّ زَلْزِلْ أَقْدَامَهُمْ ، وَأَرْعِبْ قُلُوبَهُمْ ، وَافْعَلْ بِهِمْ وَافْعَلْ ، فَيَقُولُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤عامر شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : آپ کو دعا ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنے والی دعا ) کب نصیب ہوئی تھی ؟ انہوں نے بتایا : غزوہ بدر کے دن ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑا ہو کر تیر اندازی کر رہا تھا ، میں نے تیر کمان میں لگایا اور پھر یہ دعا کی : اے اللہ ! ان کے قدموں کو ہلا دے اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دے اور ان کے ساتھ یہ کر اور وہ کر ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : اے اللہ ! تو سعد کی دعا کو قبول فرما ! ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔