مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ بَدْرٍ باب: غزوہ بدر
حدیث نمبر: 9986
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمْ تُقَاتِلِ الْمَلَائِكَةُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا يَوْمَ بَدْرٍ ، وَكَانَتْ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ إِمْدَادًا ، وَلَمْ يَكُنْ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْخَيْلِ إِلَّا فَرَسَانِ : أَحَدُهُمَا لِلْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، وَالْآخَرُ لِأَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فرشتوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف غزوہ بدر کے موقع پر لڑائی میں حصہ لیا تھا ، اس کے علاوہ ، وہ صرف تعداد زیادہ ظاہر کرنے کے لئے حاضر ہوتے تھے ( غزوہ بدر کے موقع پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ، جن میں سے ایک سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا تھا ، اور دوسرا سیدنا ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔