حدیث نمبر: 9942
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ كُلُّ ثَلَاثَةٍ عَلَى بَعِيرٍ ، كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَبُو لُبَابَةَ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَكَانَ إِذَا كَانَتْ عَقَبَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَا : نَحْنُ نَمْشِي عَنْكَ ، فَقَالَ : " مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي ، وَلَا أَنَا أَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : فَإِذَا كَانَتْ عَقَبَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَا : ارْكَبْ حَتَّى نَمْشِيَ عَنْكَ . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر تین افراد ایک اونٹ پر سوار تھے ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باری آئی تو ان دونوں نے عرض کی : آپ کی جگہ ہم پیدل چل لیتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم دونوں مجھ سے زیادہ قوی نہیں ہو اور میں تم دونوں سے زیادہ اجر سے بے نیاز نہیں ہوں“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باری آئی تو ان دونوں نے عرض کی : آپ سوار رہیں ، ہم آپ کی جگہ پیدل چل لیتے ہیں ۔ باقی روایت حسب سابق ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باری آئی تو ان دونوں نے عرض کی : آپ سوار رہیں ، ہم آپ کی جگہ پیدل چل لیتے ہیں ۔ باقی روایت حسب سابق ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9943
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ مِائَةُ نَاضِحٍ وَنَوَاضِحُ ، وَكَانَ مَعَهُ فَرَسَانِ يَرْكَبُ أَحَدَهُمَا الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، وَيَتَرَوَّحُ الْآخَرَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ . ¤ قَالَ : وَكَانَ أَصْحَابُهُ يَتَعَقَّبُونَ فِي الطَّرِيقِ النَّوَاضِحَ . ¤ قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ حَلِيفُ حَمْزَةَ بْنِ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ يَتَعَقَّبُونَ نَاضِحًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پانی لاد کر لانے والے اور دوسرے ایک سو اونٹ اور ( اونٹنیاں ) تھے اور آپ کے ساتھ دو گھوڑے تھے جن میں سے ایک پر سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سوار تھے اور دوسرے پر سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ باری باری سوار ہوتے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب راستے میں اونٹوں پر باری باری سوار ہوتے رہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا مرثد بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ ، جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے اور باری ، باری اونٹ پر سوار ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ بن ابراہیم بن عثمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ بن ابراہیم بن عثمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9944
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَاسْتَصْغَرَهُ حِينَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ ثُمَّ أَجَازَهُ ، قَالَ سَعْدٌ : فَيُقَالُ إِنَّهُ خَانَهُ سَيْفُهُ . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيَّ - : قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمیر بن وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب آپ بدر کے لئے نکلنے لگے تھے ، تو آپ نے انہیں کمسن قرار دیا پھر آپ نے انہیں اجازت دے دی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے کہ ان کی تلوار نے ان کے ساتھ خیانت کی تھی ۔ عبداللہ بن جعفر مخرمی کہتے ہیں : وہ غزوہ بدر کے دن شہید ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9945
وَعَنْ رَفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْعَجْلَانِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : أَقْبَلْنَا يَوْمَ بَدْرٍ فَفَقَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَادَتِ الرِّفَاقُ بَعْضُهَا بَعْضًا : أَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَوَقَفُوا حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَدْنَاكَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ أَبَا حَسَنٍ وَجَدَ مَغَصًا فِي بَطْنِهِ فَتَخَلَّفْتُ عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رفاعہ بن رافع بن مالک بن عجلان انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ہم آئے ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر موجود پایا تو ہم نے مختلف ٹولیوں کو پکار کر یہ کہا: کہ کیا تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں ؟ پھر لوگ ٹھہر گئے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بھی تھے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو غیر موجود پایا تھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ابوالحسن کو اس کے پیٹ میں تکلیف محسوس ہو رہی تھی ، تو میں اس کی خاطر پیچھے رہ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 9946
وَعَنْ عَاتِكَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ : رَأَيْتُ رَاكِبًا أَخَذَ صَخْرَةً مِنْ أَبِي قُبَيْسٍ ، فَرَمَى بِهَا لِلرُّكْنِ فَتَعَلَّقَتِ الصَّخْرَةُ ، فَمَا بَقِيَتْ دَارٌ مِنْ دُورِ قُرَيْشٍ إِلَّا دَخَلَتْهَا مِنْهَا كِسْرَةٌ غَيْرَ دُورِ بَنِي زُهْرَةَ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : إِنَّ هَذِهِ لَرُؤْيَا اكْتُمِيهَا وَلَا تَذْكُرِيهَا ، فَخَرَجَ الْعَبَّاسُ فَلَقِيَ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ فَذَكَرَهَا لَهُ فَذَكَرَهَا الْوَلِيدُ لِأَبِيهِ ، فَفَشَا الْحَدِيثُ ، قَالَ الْعَبَّاسُ : فَخَرَجْتُ أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ وَأَبُو جَهْلٍ فِي رَهْطٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَتَحَدَّثُونَ بِرُؤْيَا عَاتِكَةَ ، فَلَمَّا رَآنِي أَبُو جَهْلٍ قَالَ : يَا أَبَا الْفَضْلِ ، إِذَا فَرَغْتَ مِنْ طَوَافِكَ فَأَقْبِلْ إِلَيْنَا ، فَلَمَّا فَرَغْتُ أَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَمَا رَضِيتُمْ أَنْ يَتَنَبَّأَ رِجَالُكُمْ حَتَّى يَتَنَبَّأَ نِسَاؤُكُمْ ، قَدْ زَعَمَتْ عَاتِكَةُ فِي رُؤْيَاهَا هَذِهِ أَنَّهُ قَالَ : انْفِرُوا فِي ثَلَاثٍ فَسَنَتَرَبَّصُ هَذِهِ الثَّلَاثَ ، فَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا ، فَسَيَكُونُ وَإِنْ يَمْضِ الثَّلَاثُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ كَتَبْنَا عَلَيْكُمْ كِتَابًا : أَنَّكُمْ أَكْذَبُ أَهْلِ بَيْتٍ فِي الْعَرَبِ ، قَالَ الْعَبَّاسُ : فَوَاللَّهِ مَا كَانَ مِنِّي إِلَيْهِ شَيْءٌ إِلَّا أَنِّي جَحَدْتُ وَأَنْكَرْتُ أَنْ تَكُونَ رَأَتْ شَيْئًا . ¤ قَالَ الْعَبَّاسُ : فَلَمَّا أَمْسَيْتُ أَتَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ : رَضِيتُمْ مِنْ هَذَا الْفَاسِقِ يَتَنَاوَلُ رِجَالَكُمْ ثُمَّ يَتَنَاوَلُ نِسَاءَكُمْ ، وَأَنْتَ تَسْمَعُ ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَكَ نَكِيرٌ ؟ ! وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَمْزَةُ مَا قَالَ مَا قَالَ . فَقُلْتُ : قَدْ وَاللَّهِ فَعَلَ ، وَمَا كَانَ مِنِّي إِلَيْهِ نَكِيرُ شَيْءٍ ، وَايْمُ اللَّهِ لِأَتَعَرَّضَنَّ لَهُ ، فَإِنْ عَادَ لَأَكْفِيَنَّكُمْ . ¤ قَالَ الْعَبَّاسُ : فَغَدَوْتُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ مِنْ رُؤْيَا عَاتِكَةَ وَأَنَا مُغْضَبٌ عَلَى أَنَّهُ فَاتَنِي أَمْرٌ أُحِبُّ أَنْ أُدْرِكَ شَيْئًا مِنْهُ قَالَ : فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَمْشِي نَحْوَهُ ، وَكَانَ رَجُلًا خَفِيفًا ، حَدِيدَ الْوَجْهِ ، حَدِيدَ اللِّسَانِ ، حَدِيدَ الْبَصَرِ ، إِذْ خَرَجَ نَحْوَ الْمَسْجِدِ يَسْتَنِدُ ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : مَا لَهُ لَعَنَهُ اللَّهُ ؟ أَكَلَ هَذَا فَرَقَّ مِنِّي أَنْ أُشَاتِمَهُ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ سَمِعَ مَا لَمْ أَسْمَعْ سَمِعَ صَوْتَ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ، بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ يَصْرُخُ بِبَطْنِ مَكَّةَ الْوَادِي قَدْ جَدَعَ بَعِيرَهُ ، وَحَوَّلَ رَحْلَهُ ، وَشَقَّ قَمِيصَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، قَدْ خَرَجَ مُحَمَّدٌ فِي أَصْحَابِهِ مَا أَرَاكُمْ تُدْرِكُونَهَا الْغَوْثَ الْغَوْثَ ، قَالَ الْعَبَّاسُ : فَشَغَلَنِي عَنْهُ وَشَغَلَهُ عَنِّي مَا جَاءَ مِنَ الْأَمْرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ( خواب میں ) دیکھا کہ ایک سوار نے ابوقبیس پہاڑ کی ایک چٹان کو لیا اور اسے حجر اسود کی طرف پھینکا تو وہ چٹان متعلق ہوئی ( یعنی لٹک گئی ) اور پھر قریش کے ہر ایک گھرانے میں اس کا ٹکڑا داخل ہو گیا صرف بنوزہرہ کے علاقے میں داخل نہیں ہوا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ( یہ خواب سننے کے بعد ) فرمایا اس خواب کو تم چھپا کے رکھو تم اس کا ذکر نہ کرنا پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ باہر چلے گئے ان کی ملاقات ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے ہوئی انہوں نے اس خواب کا تذکرہ اس کے سامنے کیا ولید نے اس خواب کا ذکر اپنے باپ کے سامنے کیا تو یہ بات پھیل گئی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے لئے نکلا تو ابوجہل قریش کے کچھ افراد کے درمیان بیٹھا ہوا عاتکہ کے خواب کے بارے میں بات چیت کر رہا تھا ۔ جب ابوجہل نے مجھے دیکھا تو بولا: اے ابوالفضل جب آپ طواف سے فارغ ہو جائیں ، تو ہماری طرف آ جائیے گا جب میں طواف سے فارغ ہوا تو میں آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا ابوجہل نے کہا: اے بنوعبدالمطلب کیا آپ لوگ اس بات سے راضی نہیں تھے کہ آپ کے مردوں نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے اب یہ صورت حال ہے کہ آپ کی خواتین بھی نبوت کا دعوی کرنے لگی ہیں عاتکہ نے اپنے خواب کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے ۔ پھر اس نے کہا: آپ لوگ تین دن انتظار کریں ہم تین دن تک جائزہ لیں گے اگر تو ان کی کہی ہوئی بات حق ہوئی تو وہ واقع ہو جائے گی اور اگر تین دن گزر گئے ، اور ایسی کوئی چیز سامنے نہ آئی تو ہم آپ کے خلاف ایک تحریر لکھوا دیں گے کہ آپ عربوں کے سب سے جھوٹے گھرانے کے لوگ ہیں ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس وقت میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں اس بات کا انکار کرتا اور اس بات کو مسترد کرتا کہ اس ( یعنی عاتکہ ) نے کچھ دیکھا ہے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب شام ہوئی تو جناب عبدالمطلب کی صاحبزادیوں میں سے ایک خاتون میرے پاس آئی اور بولی: تم اس فاسق شخص سے اس بات سے راضی ہو گئے کہ اس نے تمہارے مردوں کو بھی برا کہا: اور پھر اس نے تمہاری خواتین کو بھی برا کہا: اور تم سنتے رہے اور تمہارے پاس انکار کرنے کی کوئی صورت نہیں تھی ؟ اللہ کی قسم ! اگر حمزہ ہوتے تو اس نے وہ بات نہیں کہنی تھی جو اس نے کہی ہے ، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اس نے ایسا کیا ہے اور میرے پاس اس کا انکار کرنے کی کوئی صورت نہیں تھی ۔ اللہ کی قسم ! اب میں اس کے پاس جاؤں گا ، اور اگر اس نے دوبارہ ایسی بات کی تو تم لوگوں کی جگہ اسے جواب دوں گا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : عاتکہ کے خواب کے تیسرے دن میں گیا میں غصے میں تھا اس بات پر کہ ایسا معاملہ مجھ سے فوت ہو گیا ہے جس کے بارے میں میری یہ خواہش تھی کہ میں نے اس میں سے کسی چیز کو پا لیا ہوتا ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں اس کی سمت جا رہا تھا وہ ایک ایسا شخص تھا جو دبلا پتلا تھا اس کا چہرہ تیز تھا زبان تیز تھی بصارت تیز تھی جب وہ مسجد ( یعنی مسجد حرام ) کی طرف نکلا تو اس نے ٹیک لگائی ہوئی تھی میں نے دل میں سوچا اسے کیا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے کیا یہ مجھ سے ڈر گیا ہے کہ میں اسے برا بھلا کہوں گا ؟ لیکن اصل میں اس نے وہ بات سن لی تھی ، جو میں نے نہیں سنی تھی ۔ اس نے ضمضم بن زرعہ بن عمرو غفاری کی آواز سنی تھی جس نے مکہ کے نشیبی علاقے میں چیخ کر یہ کہا: تھا ۔ اس نے اپنے اونٹ کے ناک کو کاٹ دیا تھا اپنے پالان کو الٹ دیا تھا اپنی قمیص کو پھاڑ دیا تھا ، اور وہ یہ کہہ رہا تھا : اے قریش کے گروہ ! محمد اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل آئے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ تم پہنچ پاؤ گے ، مدد کی درخواست ہے مدد کی درخواست ہے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میری توجہ اس سے ہٹ گئی اور اس کی توجہ مجھ سے ہٹ گئی ، اس چیز کی وجہ سے جو معاملہ درپیش آ گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9947
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : كَانَتْ عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاكِنَةً مَعَ أَخِيهَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَرَأَتْ رُؤْيَا قُبَيْلَ بَدْرٍ فَفَزِعَتْ فَأَرْسَلَتْ إِلَى أَخِيهَا عَبَّاسٍ مِنْ لَيْلَتِهَا حِينَ فَزِعَتْ وَاسْتَيْقَظَتْ مِنْ نَوْمِهَا فَقَالَتْ : قَدْ رَأَيْتُ رُؤْيَا وَقَدْ خَشِيتَ مِنْهَا عَلَى قَوْمِكَ الْهَلَكَةَ . ¤ قَالَ : وَمَا رَأَيْتِ ؟ قَالَتْ : لَنْ أُحَدِّثَكَ حَتَّى تُعَاهِدَنِي أَنْ لَا تَذْكُرَهَا ، فَإِنَّهُمْ إِنْ يَسْمَعُوهَا آذَوْنَا فَأَسْمَعُونَا مَا لَا نُحِبُّ ، فَعَاهَدَهَا عَبَّاسٌ ، فَقَالَتْ : رَأَيْتُ رَاكِبًا أَقْبَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ يَصِيحُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ : يَا آلَ غَدْرٍ ، وَيَا آلَ فُجْرٍ ، اخْرُجُوا مِنْ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ . ¤ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَرَخَ فِي الْمَسْجِدِ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ ، وَمَالَ عَلَيْهِ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ، وَفَزِعَ النَّاسُ لَهُ أَشَدَّ الْفَزَعِ ، ثُمَّ أَرَاهُ مَثُلَ عَلَى ظَهْرِ الْكَعْبَةِ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَرَخَ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ : يَا آلَ غَدْرٍ ، وَيَا آلَ فُجْرٍ ، اخْرُجُوا فِي لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ حَتَّى أَسْمَعَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، ثُمَّ عَمَدَ لِصَخْرَةٍ عَظِيمَةٍ فَنَزَعَهَا مِنْ أَصْلِهَا ثُمَّ أَرْسَلَهَا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ ، فَأَقْبَلَتِ الصَّخْرَةُ لَهَا دَوِيٌّ حَتَّى إِذَا كَانَتْ عَلَى أَصْلِ الْجَبَلِ ارْفَضَّتْ فَلَا أَعْلَمُ بِمَكَّةَ بَيْتًا وَلَا دَارًا إِلَّا قَدْ دَخَلَهَا فِرْقَةٌ مِنْ تِلْكَ الصَّخْرَةِ ، فَلَقَدْ خَشِيتُ عَلَى قَوْمِكَ أَنْ يَنْزِلَ بِهِمْ شَرٌّ . ¤ فَفَزِعَ مِنْهَا عَبَّاسٌ وَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا فَلَقِيَ مِنْ لَيْلَتِهِ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَكَانَ خَلِيلًا لِلْعَبَّاسِ فَقَصَّ عَلَيْهِ رُؤْيَا عَاتِكَةَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَذْكُرَهَا لِأَحَدٍ ، فَذَكَرَهَا الْوَلِيدُ لِأَبِيهِ ، وَذَكَرَهَا عُتْبَةُ لِأَخِيهِ شَيْبَةَ ، وَارْتَفَعَ حَدِيثُهَا حَتَّى بَلَغَ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَاسْتَفَاضَتْ . ¤ فَلَمَّا أَصْبَحُوا غَدَا الْعَبَّاسُ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَتَّى أَصْبَحَ فَوَجْدَ أَبَا جَهْلٍ ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ، وَزَمْعَةَ بْنَ الْأَسْوَدِ ، وَأَبَا الْبَخْتَرِيِّ فِي نَفَرٍ يَتَحَدَّثُونَ فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَى عَبَّاسٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ نَادَاهُ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ : يَا أَبَا الْفَضْلِ ، إِذَا قَضَيْتَ طَوَافَكَ فَائْتِنَا . ¤ فَلَمَّا قَضَى طَوَافَهُ أَتَى فَجَلَسَ ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : يَا أَبَا الْفَضْلِ ، مَا رُؤْيَا رَأَتْهَا عَاتِكَةُ ؟ قَالَ : مَا رَأَتْ مِنْ شَيْءٍ قَالَ : بَلَى ، أَمَا رَضِيتُمْ يَا بَنِي هَاشِمٍ بِكَذِبِ الرِّجَالِ حَتَّى جِئْتُمُونَا بِكَذِبِ النِّسَاءِ ، إِنَّا كُنَّا وَأَنْتُمْ كَفَرَسَيْ رِهَانٍ ، فَاسْتَبَقْنَا الْمَجْدَ مُنْذُ حِينٍ فَلَمَّا حَاذَتِ الرَّكْبُ ، قُلْتُمْ مِنَّا نَبِيٌّ ، فَمَا بَقِيَ إِلَّا أَنْ تَقُولُوا : مِنَّا نَبِيَّةٌ ، وَلَا أَعْلَمُ أَهْلَ بَيْتٍ أَكْذَبَ رَجُلًا وَلَا أَكْذَبَ امْرَأَةً مِنْكُمْ ، فَآذَوْهُ يَوْمَئِذٍ أَشَدَّ الْأَذَى . ¤ وَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : زَعَمَتْ عَاتِكَةُ أَنَّ الرَّاكِبَ قَالَ : اخْرُجُوا فِي لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ ، فَلَوْ قَدْ مَضَتْ هَذِهِ الثَّلَاثُ تَبَيَّنَ لِقُرَيْشٍ كَذِبُكُمْ ، وَكَتَبْنَا سِجِلًّا ثُمَّ عَلَّقْنَاهُ بِالْكَعْبَةِ إِنَّكُمْ أَكْذَبُ بَيْتٍ فِي الْعَرَبِ رَجُلًا وَامْرَأَةً ، أَمَا رَضِيتُمْ يَا بَنِي قُصَيٍّ أَنَّكُمْ ذَهَبْتُمْ بِالْحِجَابَةِ وَالنَّدْوَةِ وَالسِّقَايَةِ وَاللِّوَاءِ حَتَّى جِئْتُمُونَا زَعَمْتُمْ بِنَبِيٍّ مِنْكُمْ ، فَآذَوْهُ يَوْمَئِذٍ أَشَدَّ الْأَذَى . ¤ وَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ : مَهْلًا يَا مُصَفِّرَ اسْتِهِ ، هَلْ أَنْتَ مُنْتَهٍ ، فَإِنَّ الْكَذِبَ فِيكَ وَفِي أَهْلِ بَيْتِكَ ، فَقَالَ لَهُ مَنْ حَضَرَهُ : يَا أَبَا الْفَضْلِ ، مَا كُنْتَ بِجَاهِلٍ وَلَا خَرِفٍ ، وَنَالَ عَبَّاسٌ مِنْ عَاتِكَةَ أَذًى شَدِيدًا فِيمَا أَفْشَى مِنْ حَدِيثِهَا ، فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ لَيْلَةِ الثَّالِثَةِ مِنَ اللَّيَالِي الَّتِي رَأَتْ فِيهَا عَاتِكَةُ الرُّؤْيَا ، جَاءَهُمُ الرَّكْبُ الَّذِي بَعَثَ أَبُو سُفْيَانَ ضَمْضَمَ بْنَ عَمْرٍو الْغِفَارِيَّ ، فَقَالَ : يَا آلَ غَدْرٍ ، انْفِرُوا فَقَدْ خَرَجَ مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ لِيَعْرِضُوا لِأَبِي سُفْيَانَ ، فَأَحْرِزُوا عِيَرَكُمْ ، فَفَزِعَتْ قُرَيْشٌ أَشَدَّ الْفَزَعِ ، وَأَشْفَقُوا مِنْ قِبَلِ رُؤْيَا عَاتِكَةَ ، وَنَفَرُوا عَلَى كُلِّ صَعْبٍ وَذَلُولٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ہیں ، وہ اپنے بھائی سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں ، بدر سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے خواب دیکھا تو گھبرا گئیں انہوں نے اسی رات اپنے بھائی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا جب وہ گھبرائیں تھیں اور نیند سے بیدار ہوئی تھیں ، انہوں نے بتایا : میں نے خواب دیکھا ہے مجھے اس کے حوالے سے تمہاری قوم کی ہلاکت کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے کیا دیکھا ہے ، تو اس خاتون نے کہا: میں یہ آپ کو اس وقت تک بیان نہیں کروں گی جب تک آپ مجھ سے یہ عہد نہیں کرتے کہ آپ اس کا ذکر کسی کے آگے نہیں کریں گے ، کیونکہ اگر لوگوں نے اس خواب کو سن لیا ، تو وہ ہمیں اذیت پہنچائیں گے اور ہمیں ایسی باتیں سنائیں گے ، جو ہمیں اچھی نہیں لگیں گی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کے ساتھ یہ عہد کر لیا اس خاتون نے بتایا میں نے ایک سوار کو دیکھا جو اپنی سواری پر سوار ہو کر مکہ کے بالائی علاقہ کی طرف سے آیا اور اس نے بلند آواز میں چیخ کر یہ کہا: اے غدار لوگوں کی آل ! اے فاجر لوگوں کی آل ! دو یا تین راتوں میں تم نکل کھڑے ہو پھر وہ اپنی سواری پر سوار رہتے ہوئے مسجد میں داخل ہوا اور اس نے مسجد میں تین مرتبہ چیخ کر یہ اعلان کیا مرد خواتین اور بچے اس کی طرف گئے لوگ اس کی وجہ سے انتہائی پریشان ہو چکے تھے پھر میں نے دیکھا کہ جیسے وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گیا ہے اور وہاں بھی اس نے تین مرتبہ چیخ کر یہ اعلان کیا ہے اسے غدار لوگوں کی آل اے فاجر لوگوں کی آل ، دو یا تین راتوں میں نکل کھڑے ہو یہاں تک کہ اس کی آواز پورے مکہ میں پھیل گئی پھر وہ ایک بڑی چٹان کی طرف بڑھا اس نے اس چٹان کو اس کی جڑ سے الگ کیا اور پھر اسے اہل مکہ کی طرف پھینکا وہ چٹان آئی اس کے اندر سے آواز آ رہی تھی ، یہاں تک کہ جب وہ پہاڑ کی جڑ تک پہنچی تو وہ ٹوٹ گئی اور میرے علم کے مطابق مکہ کے ہر گھر اور ہر محلے کے اندر اس چٹان کا کوئی حصہ داخل ہو گیا تو مجھے آپ کی قوم کے بارے میں یہ اندیشہ لاحق ہو گیا ہے کہ ان پر کوئی بری صورت حال آنے والی ہے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اس پر پریشان ہو گئے وہ اس خاتون کے پاس سے نکلے اسی رات ان کی ملاقات ولید بن عقبہ بن ربیعہ سے ہوئی جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا دوست تھا ۔ انہوں نے عاتکہ کا خواب اسے سنایا اور اسے یہ ہدایت کی کہ وہ کسی کے سامنے اس کا ذکر نہ کرے ولید نے اس کا ذکر اپنے باپ کے سامنے کر دیا عتبہ نے اس کا ذکر اپنے بھائی شیبہ کے سامنے کر دیا اور پھر یہ بات پھیل گئی ، یہاں تک کہ ابوجہل بن ہشام کے پاس بھی پہنچ گئی اگلے دن صبح جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ، تو انہوں نے ابوجہل ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، امیہ بن خلف ، زمعہ بن اسود اور ابوبختری کو ، کچھ لوگوں کے درمیان بات چیت کرتے ہوئے پایا جب ان لوگوں نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا تو ابوجہل بن ہشام نے انہیں بلند آواز میں پکار کر کہا: اے ابوالفضل ! جب آپ طواف مکمل کر لیں ، تو ہمارے پاس آیئے گا جب انہوں نے طواف مکمل کیا تو وہ آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے تو ابوجہل نے کہا: اے ابوالفضل وہ خواب کیا ہے ، جو عاتکہ نے دیکھا ہے ؟ سیدنا عباس بھی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اس نے کچھ نہیں دیکھا ابوجہل نے کہا: جی ہاں ۔ ( یعنی دیکھا ہے ) اے بنوہاشم ! کیا آپ لوگ اس بات سے راضی نہیں تھے کہ آپ کے مرد جھوٹ بولیں ، یہاں تک کہ اب آپ ہمارے پاس خواتین کے جھوٹ بھی لے کر آنے لگ گئے ہیں ، ہم اور آپ پہلے دوڑ کے دو گھوڑوں کی طرح تھے ، ایک طویل عرصہ تک ہم بزرگی میں سبقت کی کوشش کرتے رہے ، پھر جب سوار برابر ہو گئے ، تو آپ لوگوں نے کہا: ہمارے اندر ایک نبی بھی ہے اب صرف یہی چیز باقی رہ گئی ہے کہ آپ یہ کہیں کہ ہمارے اندر ایک خاتون نبی بھی ہے ، میرے علم کے مطابق کوئی گھرانہ ایسا نہیں ہے ، جو آپ کے گھرانے سے زیادہ جھوٹے مرد والا ہو ، یا جھوٹی عورت والا ہو ، تو اس دن ابوجہل نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو شدید اذیت پہنچائی ابوجہل نے کہا: عاتکہ کا یہ کہنا ہے کہ ایک سوار نے یہ کہا: ہے کہ تم لوگ دو یا تین راتوں میں نکل کھڑے ہو ، تو یہ تین دن گزر جائیں گے اور تمہارا جھوٹ قریش کے سامنے واضح ہو جائے گا ، اور پھر ہم ایک تحریر لکھیں گے اور اسے خانہ کعبہ کے ساتھ لٹکا دیں گے کہ آپ مردوں اور خواتین کے حوالے سے عربوں میں سے سب سے زیادہ جھوٹے گھرانے کے لوگ ہیں کیا آپ لوگ اس بات سے راضی نہیں ہیں اے بنو قصی ! کہ آپ لوگوں نے حجابہ ، ندوہ ، سقایہ اور لواء کا منصب لیا ہوا تھا اب آپ ہمارے پاس آ گئے ہیں اور اپنے میں سے ایک نبی کے بارے میں بیان کرنے لگ گئے ہیں ، تو اس دن ابوجہل نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو شدید اذیت پہنچائی ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اے نالائق ! صبر کرو تم صرف ایک بدبودار شخص ہو جھوٹ تمہارے اندر ہے اور تمہارے گھرانے کے اندر ہے حاضرین میں سے کسی نے ان سے کہا: اے ابوالفضل آپ نہ تو سخت مزاج تھے اور نہ ہی بد زبانی کرتے تھے پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو سیدہ عاتکہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑا ، کیونکہ انہوں نے سیدہ عاتکہ رضی اللہ عنہا کی بات پھیلائی تھی جب تیسری رات کی شام ہوئی جو اس رات کے حساب سے تھی جس میں سیدہ عاتکہ رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا تھا ، تو ایک سوار ان کے پاس آیا جسے ابوسفیان نے بھیجا تھا وہ ضمضم بن عمرو غفاری تھا اس نے کہا: اے غدار لوگوں کی آل تم لوگ نکل کھڑے ہو کیونکہ محمد اور ان کے ساتھی نکل پڑے ہیں تاکہ ابوسفیان کے قافلے پر حملہ آور ہوں ، تو تم اپنے قافلے کو بچا لو ! تو قریش گھبرا گئے ، اور وہ عاتکہ کے خواب کے حوالے سے پریشان ہو گئے ، اور ہر کمزور اور صحت مند اونٹ پر سوار ہو کر نکل کھڑے ہوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 9948
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَغَيْرِهِ مِنْ قُرَيْشٍ أَنَّ عَاتِكَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَتْ فِي صِدْقِ رُؤْيَاهَا وَتَكْذِيبِ قُرَيْشٍ لَهَا حِينَ أَوْقَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَدْرٍ : ¤ أَلَمْ تَكُنِ الرُّؤْيَا بِحَقٍّ وَيَأْتِكُمْ بِتَأْوِيلِهَا فُلٌّ مِنَ الْقَوْمِ هَارِبُ رَأَى فَأَتَاكُمْ بِالْيَقِينِ الَّذِي رَأَى ¤ بِعَيْنَيْهِ مَا يَفْرِي السُّيُوفُ الْقَوَاضِبُ فَقُلْتُمْ وَلَمْ أَكْذِبْ كَذَبْتِ وَإِنَّمَا ¤ يُكَذِّبُنِي بِالصِّدْقِ مَنْ هُوَ كَاذِبُ وَمَا فَرَّ إِلَّا رَهْبَةَ الْمَوْتِ مِنْهُمْ ¤ حَكِيمٌ وَقَدْ ضَاقَتْ عَلَيْهِ الْمَذَاهِبُ أَفَرَّ صَبَاحُ الْقَوْمِ عَزْمٌ قُلُوبِهِمْ فَهُنَّ ¤ هَوَاءٌ وَالْحُلُومُ عَوَازِبُ مَرَوْا بِالسُّيُوفِ الْمُرْهَفَاتِ دِمَاءَكُمْ ¤ كِفَاحًا كَمَا يُمْرِي السَّحَابَ الْخَبَائِبُ فَكَيْفَ رَأَى يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدًا ¤ بَنُو عَمِّهِ وَالْحَرْبُ فِيهِ التَّجَارِبُ أَلَمْ يُغْشِهِمْ ضَرْبًا يَحَارُ لِوَقْعِهِ الْـ ¤ جَبَانُ وَتَبْدُو بِالنَّهَارِ الْكَوَاكِبُ أَلَا يَأْتِي يَوْمَ اللِّقَاءِ مُحَمَّدٌ ¤ إِذَا عَضَّ مِنْ عَوْنِ الْحُرُوبِ الْغَوَارِبُ كَمَا بَرَزَتْ أَسْيَافُهُ مِنْ مَلِيلَتِي ¤ زَعَازِعَ وَرْدًا بَعْدَ إِذْ هِيَ صَالِبُ حَلَفْتُ لَئِنْ عُدْتُمْ لَنَصْطِلَمْنَكُمْ ¤ مُجَافًا تَرَدَّى حَافَّتَيْهَا الْمَقَانِبُ كَأَنَّ ضِيَاءَ الشَّمْسِ لَمْعُ بُرُوقِهَا ¤ لَهَا جَانِبَا نُورٍ شُعَاعٌ وَثَاقِبُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مصعب بن عبداللہ اور دیگر حضرات نے قریش کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ سیدہ عاتکہ بنت عبدالمطلب نے اپنے خواب کی سچائی اور قریش کے ان کے تکذیب کرنے کے حوالے سے غزوہ بدر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان لوگوں کو نقصان پہنچانے کے بعد یہ اشعار کہے : ” کیا وہ خواب سچا نہیں تھا جس کی تعبیر قوم سے مڑ کر بھاگنے والا شخص لے کے آیا ہے اس نے دیکھا پھر وہ تمہارے پاس وہ یقین لے کے آیا جو اس نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا تھا جو تیز دھار والی تلواریں جھوٹ نہیں بولتی ہیں تم لوگوں نے یہ کہا: کہ آپ نے جھوٹ کہا: ہے حالانکہ میں نے جھوٹ نہیں بولا: تھا سچائی کے حوالے سے وہی شخص مجھے جھوٹا قرار دے گا جو خود جھوٹا ہو گا وہ بھاگنے والا فرد صرف موت کے خوف سے بھاگا تھا وہ ان میں سے سمجھدار تھا جس کے لیے راستے تنگ ہو گئے تھے کیا قوم کو چیخ کر بلانے والا شخص ان کے دلوں کے عزم سے بھاگا تھا یہ تو خواہشات ہیں اور ایسے خواب ہیں جن کا کوئی گھر بار نہیں ہے وہ تیز دھار والی تلوار لے کر تمہاری جانوں کے مد مقابل آ گئے جس طرح جنوب کی طرف سے آنے والا بادل آتا ہے جب ان لوگوں کا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سامنا ہوا تو اس دن انہوں نے کیا دیکھا جو ان کے چچازاد ہیں اور جنگ میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے کیا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایسی ضرب کے ذریعے ڈھانپ نہیں لیا جس کے پڑنے سے بزدل شخص حیران رہ جاتا ہے اور دن کے وقت تارے نظر آ جاتے ہیں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کرنے کے دن کیا یہ صورتحال نہیں آئی جب جنگ کی مدد نے کندھوں کو نوچ لیا ان کی تلواریں اندرونی جوش کی وجہ سے یوں نمایاں ہوئیں جیسے تیز ہوا آتی ہے حالانکہ پہلے ان میں بخار تھا میں نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ اگر تم نے دوبارہ ایسا کیا تو وہ تم لوگوں کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے اور ایک طرف کر دینگے جس کے دونوں کناروں پر حملہ آور موجود ہوں گے یوں لگتا ہے جیسے سورج کی روشنی اپنی کرنوں کی چمک کے ہمراہ دونوں طرف نور رکھتی ہے ایک شعاع ہے اور ایک شہاب ثاقب ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس کی نقل کردہ حسن ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9949
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كَانَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ صَدِيقًا لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَكَانَ إِذَا قَدِمَ عُتْبَةُ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَإِذَا قَدِمَ سَعْدٌ مَكَّةَ نَزَلَ عَلَى عُتْبَةَ ، وَكَانَ عُتْبَةُ يُسَمِّيهِ أَخِي الْيَثْرِبِيَّ . ¤ قَالَ : فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ قَدِمَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مَكَّةَ كَمَا كَانَ يَقْدَمُ ، فَنَزَلَ عَلَى عُتْبَةَ ، فَقَالَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ ، فَقَالَ لَهُ عُتْبَةُ : أَمْهِلْ حَتَّى يَتَفَرَّقَ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ حَوْلِ الْبَيْتِ قَالَ : فَأَمْهَلَ قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ : انْطَلِقْ مَعِي ، فَلَمَّا أَتَى الْبَيْتَ تَلَقَّى أَبُو جَهْلٍ سَعْدًا ، فَقَالَ : يَا سَعْدُ ، آوَيْتُمْ مُحَمَّدًا ثُمَّ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ آمِنًا ؟ . ¤ فَقَالَ سَعْدٌ : لَئِنْ مَنَعْتَنِي لَأَقْطَعَنَّ عَلَيْكَ أَوْ لَأَمْنَعَنَّكَ تِجَارَتَكَ إِلَى مَوْضِعٍ - لِمَوْضِعٍ ذَكَرَهُ - قَالَ : وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا ، قَالَ عُتْبَةُ لِسَعْدٍ : أَتَرْفَعُ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ ؟ قَالَ : فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : وَأَنْتَ تَقُولُ ذَاكَ ؟ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ قَاتِلُكَ " . ¤ قَالَ : فَفَضَّ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ ، وَقَالَ : إِنَّ مُحَمَّدًا لَا يَكْذِبُ قَالَ : فَطَافَ سَعْدٌ ثُمَّ انْصَرَفَ ، وَأَتَى عُتْبَةُ امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ أَخِي الْيَثْرِبِيُّ ؟ قَالَتْ : وَمَا قَالَ ؟ قَالَ : زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا قَاتِلِي ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا لَا يَكْذِبُ . قَالَ : فَمَا كَانَ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى كَانَ مِنْ أَمْرِ بَدْرٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ أَبُو جَهْلٍ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي نُزُولِ سَعِدٍ عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ ، وَهَذَا فِيهِ : إِنَّهُ نَزَلَ عَلَى عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عتبہ بن ربیعہ زمانہ جاہلیت میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا دوست تھا ۔ جب عتبہ مدینہ آتا تھا ، تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرتا تھا ۔ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ مکہ تشریف لے جاتے تھے ، تو وہ عتبہ کے ہاں ٹھہرتے تھے عتبہ انہیں ” میرا یثربی بھائی“ کہا: کرتا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو اس کے بعد سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ مکہ گئے ، اور پہلے کی طرح وہ عتبہ کے ہاں ٹھہرے انہوں نے کہا: میں یہ چاہتا ہوں کہ میں بیت اللہ کا طواف کروں عتبہ نے ان سے کہا: ابھی آپ ٹھہر جائیں تاکہ بیت اللہ کے اردگرد مسجد میں سے قریش کے افراد بکھر جائیں ۔ راوی کہتے ہیں : انہوں نے تھوڑی دیر انتظار کیا پھر عتبہ نے کہا: آپ میرے ساتھ چلیں ، جب وہ بیت اللہ آئے ، تو ابوجہل کا سامنا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے ہوا ، اس نے کہا: اے سعد ! تم نے محمد کو پناہ دی ہے اور پھر تم امن کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کر رہے ہو ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم نے مجھے اس سے روکا ، تو میں تمہارا راستہ کاٹوں گا ، اور تمہاری تجارت کے لئے رکاوٹ ڈال دوں گا ، جو فلاں مقام سے فلاں تک ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں کی آواز بلند ہو گئی ، تو عتبہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ ابوالحکم کے سامنے آواز بلند کر رہے ہیں ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم یہ بات کہہ رہے ہو ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : یہ تمہیں قتل کروائے گا ، تو عتبہ نے اپنا ہاتھ اُن سے چھڑوایا اور بولے : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جھوٹ نہیں بولتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے طواف کیا اور واپس چلے گئے ، عتبہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور بولا: کیا تم نے وہ بات نہیں سنی ؟ جو میرے یثربی بھائی نے بیان کی ہے ۔ اس عورت نے دریافت کیا : اس نے کیا کہا: ہے ؟ عتبہ نے بتایا : اس نے یہ کہا: ہے کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے قتل کر دیں گے ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جھوٹ نہیں بولتے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو تھوڑا ہی عرصہ گزرنے کے بعد بدر کا واقعہ پیش آ گیا ، ابوجہل لوگوں کے درمیان چکر لگا رہا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے امیہ بن خلف کے ہاں پڑاؤ کرنے کے بارے میں ہے اور اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ اس نے عتبہ بن ربیعہ کے ہاں پڑاؤ کیا تھا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9950
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ : " إِنِّي أُخْبِرْتُ عَنْ عِيرِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهَا مُقْبِلَةٌ ، فَهَلْ لَكُمْ أَنْ نَخْرُجَ قَبْلَ هَذَا الْعِيرِ ، لَعَلَّ اللَّهَ يُغْنِمْنَاهَا ؟ " . قُلْنَا : نَعَمْ . فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ فَلَمَّا سِرْنَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ ، قَالَ لَنَا : " مَا تَرَوْنَ فِي الْقَوْمِ ، فَإِنَّهُمْ أُخْبِرُوا بِمُخْرَجِكُمْ ؟ " . فَقُلْنَا : لَا وَاللَّهِ مَا لَنَا طَاقَةٌ بِقِتَالِ الْعَدُوِّ ، وَلَكِنْ أَرَدْنَا الْعِيرَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا تَرَوْنَ فِي الْقَوْمِ ؟ " . فَقُلْنَا مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو : إِذًا لَا نَقُولُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى لِمُوسَى : فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ قَالَ : فَتَمَنَّيْنَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَنَّا قُلْنَا كَمَا قَالَ الْمِقْدَادُ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ أَنْ يَكُونَ لَنَا مَالٌ عَظِيمٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ وَقَالَ : وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ ، وَالشَّوْكَةُ : الْقَوْمُ . وَغَيْرُ ذَاتِ الشَّوْكَةِ : الْعِيرُ . فَلَمَّا وَعَدَ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ : إِمَّا الْقَوْمَ ، وَإِمَّا الْعِيرَ طَابَتْ أَنْفُسُنَا ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ يَنْظُرُ مَا قَبْلَ الْقَوْمِ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ سَوَادًا وَلَا أَدْرِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُمُ هُمُ ، هَلُمُّوا أَنْ نَتَعَادَ " . فَإِذَا نَحْنُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَأَخْبَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعِدَّتِنَا فَسَّرَهُ ذَلِكَ ، وَقَالَ : " عِدَّةُ أَصْحَابِ طَالُوتَ " . ثُمَّ إِنَّا اجْتَمَعْنَا مَعَ الْقَوْمِ فَصَفَفْنَا ، فَبَدَرَتْ مِنَّا بَادِرَةٌ أَمَامَ الصَّفِّ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " مَعِي مَعِي " . ¤ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ وَعْدَكَ " . فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُشِيرَ عَلَيْكَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْظَمُ مِنْ أَنْ نُشِيرَ عَلَيْهِ ، وَاللَّهُ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ نَنْشُدَهُ وَعْدَهُ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ رَوَاحَةَ ، لَأَنْشُدَنَّ اللَّهَ وَعْدَهُ ; فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ " . فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنَ التُّرَابِ فَرَمَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ ; فَانْهَزَمُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى فَقَتَلْنَا وَأَسَرْنَا . ¤ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَرَى أَنْ تَكُونَ لَكَ أَسْرَى ، فَإِنَّمَا نَحْنُ دَاعُونَ مُؤَلِّفُونَ . فَقُلْنَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ : إِنَّمَا يَحْمِلُ عُمَرُ عَلَى مَا قَالَ حَسَدٌ لَنَا . فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ : " ادْعُوَا لِي عُمَرَ " . فَدُعِيَ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ عَلَيَّ : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ جب مدینہ منورہ میں موجود تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے ابوسفیان کے قافلے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ آ رہا ہے ، تو کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ ہم اس قافلے کی طرف جائیں ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں وہ قافلہ غنیمت کے طور پر عطا کر دے ہم نے عرض کی : ٹھیک ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے آپ کے ساتھ ہم بھی نکلے ہم ایک یا دو دن تک چلتے رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرا خیال ہے ان لوگوں کو تمہارے نکلنے کی اطلاع مل گئی ہے ہم نے عرض کی : جی نہیں ۔ اللہ کی قسم ! ہمارے اندر دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کی طاقت نہیں ہے ہم تو قافلے کے حوالے سے نکلے تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کی کیا رائے ہے ہم نے اس کی مانند عرض کی پھر سیدنا مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ایسی صورت حال میں ہم آپ کو وہ بات نہیں کہیں گے ، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ کے ساتھ ہے : ) ” آپ اور آپ کا پروردگار جائیں اور جنگ کریں ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں “ انہوں نے کہا: اے انصار کے گروہ ہماری یہ آرزو ہے کہ ہم نے بھی اسی طرح بات کہی ہوتی ، جس طرح مقداد نے کہی ہے تو یہ چیز ہمارے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہونی تھی کہ ہمیں بہت سا مال ملتا ، پھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی : ” جس طرح تمہارے پروردگار نے تمہیں تمہارے گھر سے حق کے ہمراہ نکلوایا ، اور اہل ایمان کا ایک گروہ اس بات کو ناپسند کرتا تھا ، وہ حق کے بارے میں تمہارے ساتھ بحث کر رہے تھے ، اس کے بعد کہ وہ واضح ہو چکا تھا ، یوں جیسے انہیں موت کی طرف ہانک کر لے جایا جا رہا ہو اور وہ دیکھ رہے ہیں “ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک میں تمہارے ساتھ ہوں ، تو تم لوگ ان لوگوں کو ثابت رکھو ، جو ایمان لائے ، میں عنقریب کافر لوگوں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا ، اور تم ان کی گردنوں پر ضرب لگاؤ اور ہر ان کے ہر جوڑ پر ضرب لگاؤ “ ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ ، دو میں سے ایک گروہ کا وعدہ کیا کہ وہ تمہیں ملے گا ، اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ گروہ ملے جو ” شوکہ “ والا نہ ہو “ ۔ یہاں ” شوکہ “ سے مراد قوم ( یعنی کفار مکہ کا لشکر ) ہے اور ” غیر ذات الشوکہ “ سے مراد ( ان کا تجارتی ) قافلہ ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے دو میں سے ایک کا وعدہ کر لیا کہ یا قوم ( یعنی کفار قریش ) ہوں گے ، یا قافلہ ہو گا ، تو ہمارے دل مطمئن ہو گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بھیجا جو قوم کی صورت حال کا جائزہ لے تو اس نے بتایا میں نے لوگ دیکھے ہیں لیکن مجھے انداز نہیں ہو پایا کہ ( وہ کون ہیں ؟ ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہی لوگ ہیں وہی لوگ ہیں تم لوگ آگے آؤ ! تاکہ ہم گنتی کر لیں ۔ راوی کہتے ہیں : ہم تین سو تیرہ افراد تھے ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی تعداد کے بارے میں بتایا ، تو آپ اس بات سے خوش ہوئے اور فرمایا : یہ طالوت کے ساتھیوں جتنی تعداد ہے ، پھر ہم دشمن کے سامنے اکٹھے ہوئے ، ہم نے صف بندی کی ، ہم میں سے کوئی شخص صف سے آگے نکلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی طرف دیکھا اور فرمایا : میرے ساتھ رہو ! میرے ساتھ رہو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: اے اللہ ! میں تجھے تیرے وعدے کا واسطہ دیتا ہوں ۔ سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں ، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں کہ کوئی آپ کو مشورہ دے ، اور اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ عظیم ہے کہ ہم اسے اس کے وعدے کے حوالے سے واسطہ دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن رواحہ ! میں اللہ تعالیٰ کو اس کے وعدے کے حوالے سے واسطہ ضرور دوں گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر مٹی لی ، پھر آپ نے اسے دشمن کی طرف پھینکا ، تو وہ لوگ پسپا ہو گئے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے : اور جب تم نے پھینکا ، تو تم نے نہیں پھینکا ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکا “ تو ہم نے ( دشمن کے افراد کو ) قتل بھی کیا اور قیدی بھی بنایا ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ قیدی نہ رکھیں ، کیونکہ ہم تو دعوت دینے والے اور الفت پیدا کرنے والے لوگ ہیں ، تو ہم نے یعنی انصار نے یہ کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو یہ بات کہی ہے ، یہ ہمارے ساتھ حسد کی وجہ سے کہی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ، جب آپ بیدار ہوئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : عمر کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! انہیں بلا کر لایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیت نازل کی ہے : ” نبی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ( کفار ) اس کے پاس قیدیوں کے طور پر ہوں ( اور وہ فدیہ وصول کر لے ) اسے تو زمین میں خون بہانا چاہیے ، تم لوگ دنیاوی مال و اسباب چاہتے ہو ، اور اللہ تعالیٰ ( تمہارے لیے ) آخرت ( کی بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ غالب ( اور ) حکمت والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 9951
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي خَلَّادٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَدْرٍ عَلَى بَعِيرٍ لَنَا أَعْجَفَ حَتَّى إِذَا كُنَّا مَوْضِعَ الْبَرِيدِ الَّذِي خَلْفَ الرَّوْحَاءِ ، بَرَكَ بِعِيرُنَا ، فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ لَكَ عَلَيْنَا لَئِنْ أَدْنَيْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَنَنْحَرَنَّهُ ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا لَكُمَا ؟ " . فَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّهُ نَزَلَ عَلَيْنَا ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَضَّأَ ثُمَّ بَصَقَ فِي وُضُوئِهِ ، وَأَمَرَنَا فَفَتَحْنَا لَهُ فَمَ الْبَعِيرِ ، فَصَبَّ فِي جَوْفِ الْبِكْرِ مِنْ وُضُوئِهِ ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِ الْبِكْرِ ، ثُمَّ عَلَى عُنُقِهِ ، ثُمَّ عَلَى حَارِكِهِ ، ثُمَّ عَلَى سَنَامِهِ ، ثُمَّ عَلَى عَجُزِهِ ، ثُمَّ عَلَى ذَنْبِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ احْمِلْ رَافِعًا وَخَلَّادًا " . فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُمْنَا نَرْتَحِلُ فَارْتَحَلْنَا ، فَأَدْرَكْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رَأْسِ الْمَنْصَفِ وَبَكَرْنَا أَوَّلَ الرَّكْبِ ، فَلَمَّا رَآنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَحِكَ ، فَمَضَيْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بَدْرًا حَتَّى إِذَا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ بَدْرٍ نَزَلَ عَلَيْنَا ، فَقُلْنَا : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، فَنَحَرْنَاهُ ، وَصَدَّقْنَا بِلَحْمِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِتَمَامِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِبَعْضِهِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن رفاعہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں اور میرا بھائی خلاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی طرف نکلے ہم اپنے کمزور اونٹ پر سوار تھے ، یہاں تک کہ جب ہم روحاء کے مقام سے پیچھے برید کے مقام پر پہنچے تو ہمارا اونٹ بیٹھ گیا میں نے کہا: اے اللہ ! تو ہم پر یہ مہربانی کر دے کہ اگر ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچ جائیں ، تو ہم اسے ذبح کر دیں ، ابھی ہم اسی صورت حال میں تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے ، آپ نے دریافت کیا : تم دونوں کا کیا معاملہ ہے ؟ ہم نے عرض کی : ہمارا اونٹ بیٹھ گیا ہے ( اور سفر کے قابل نہیں رہا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے ، آپ نے وضو کیا ، پھر آپ نے اپنے وضو کے پانی میں لعاب دہن ڈالا اور ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم آپ کے لئے اونٹ کے منہ کو کھول دیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وضو کا بچا ہوا پانی اونٹ کے منہ میں ڈالا ، پھر آپ نے اس کے سر پر ڈالا ، پھر آپ نے اس کی گردن پر ڈالا ، پھر گردن کے نیچے والی جگہ پر ڈالا ، پھر اس کی کوہان پر ڈالا “ پھر اس کی پشت پر ڈالا ، پھر اس کی دم پر ڈالا ، پھر یہ دعا کی : اے اللہ ! رافع اور خلاد کو سواری فراہم کر دے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ہم اٹھے روانہ ہوئے ، ہم روانہ ہوئے تو ہم نے دن چڑھے کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا اور ہمارا اونٹ سب اونٹوں سے آگے تھا ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ملاحظہ فرمایا تو آپ ہنس پڑے ہم چلتے رہے ، یہاں تک کہ ہم بدر آ گئے ، یہاں تک کہ جب ہم بدر کے قریب پہنچے ، تو ہمارا اونٹ پھر بیٹھ گیا ، ہم نے کہا: الحمداللہ پھر ہم نے اسے ذبح کیا اور اس کا گوشت صدقہ کر دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 9952
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " قُومُوا فَقَاتِلُوا " . فَقَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى : اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ ، وَلَكِنِ انْطَلِقْ أَنْتَ وَرَبُّكَ يَا مُحَمَّدُ فَقَاتَلَا وَإِنَّا مَعَكُمْ نُقَاتِلُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : اٹھو اور جنگ کرو ! لوگوں نے عرض کی : ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے ، جس طرح بنی اسرائیل نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا: تھا ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” آپ اور آپ کا پروردگار جائیں اور جنگ کریں ، ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں “ ۔ بلکہ ( ہم یہ کہیں گے : ) آپ اور آپ کا پروردگار ، اے سیدنا محمد ! چلیں اور جنگ کریں ، ہم آپ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9953
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَصَبْنَا مِنْ ثِمَارِهَا ، فَاجْتَوَيْنَاهَا ، فَأَصَابَنَا بِهَا وَعَكٌ ، فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَخَبَّرُ عَنْ بَدْرٍ ، فَلَمَّا بَلَغَنَا أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَقْبَلُوا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَدْرٍ - وَبَدْرٌ بِئْرٌ - فَسَبَقَنَا الْمُشْرِكُونَ إِلَيْهَا ، فَوَجَدْنَا فِيهَا رَجُلَيْنِ مِنْهُمْ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ ، وَمَوْلًى لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ ، فَأَمَّا الْقُرَشِيُّ فَانْفَلَتَ ، وَأَمَّا مَوْلَى عُقْبَةَ ، فَأَخَذْنَاهُ فَجَعَلْنَا نَقُولُ لَهُ : كَمِ الْقَوْمُ ؟ فَيَقُولُ : هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ ، شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ ، فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا قَالَ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ حَتَّى انْتَهَوْا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَمِ الْقَوْمُ ؟ " . فَقَالَ : هُمْ وَاللَّهِ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ ، شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ . فَجَهَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُخْبِرَهُ فَأَبَى ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَهُ : " كَمْ يَنْحَرُونَ مِنَ الْجُزُرِ ؟ " . قَالَ : عَشْرٌ لِكُلِّ يَوْمٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْقَوْمُ أَلْفٌ ، كُلُّ جَزُورٍ لِمِائَةٍ وَنَيِّفِهَا " . ثُمَّ إِنَّهُ أَصَابَنَا طَشٌّ مِنْ مَطَرٍ ; فَانْطَلَقْنَا تَحْتَ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ نَسْتَظِلُّ تَحْتَهَا مِنَ الْمَطَرِ ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُو رَبَّهُ وَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْفِئَةَ لَا تُعْبَدْ " . قَالَ : فَلَمَّا أَنْ طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَى : " الصَّلَاةَ عِبَادَ اللَّهِ " . فَجَاءَ النَّاسُ مِنْ تَحْتِ الشَّجَرِ وَالْحَجَفِ ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَضَّ عَلَى الْقِتَالِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ جَمْعَ قُرَيْشٍ تَحْتَ هَذِهِ الضِّلْعِ الْحَمْرَاءِ مِنَ الْجَبَلِ " . فَلَمَّا دَنَا الْقَوْمُ وَصَافَّنَاهُمْ إِذَا رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ يَسِيرُ فِي الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ ، نَادِ لِي حَمْزَةَ " . وَكَانَ أَقْرَبَهُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ : " مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ؟ وَمَاذَا يَقُولُ لَهُمْ ؟ " . ¤ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ يَأْمُرُ بِخَيْرٍ ، فَعَسَى أَنْ يَكُونَ صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ " . فَجَاءَ حَمْزَةُ فَقَالَ : هُوَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ يَنْهَى عَنِ الْقِتَالِ وَيَقُولُ لَهُمْ : يَا قَوْمِ ، إِنِّي أَرَى قَوْمًا مُسْتَمِيتِينَ لَا تَصِلُونَ إِلَيْهِمْ وَفِيكُمْ خَيْرٌ ، يَا قَوْمِ ، اعْصِبُوهَا الْيَوْمَ بِرَأْسِي وَقُولُوا : جَبُنَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي لَسْتُ بِأَجْبَنِكُمْ . ¤ فَسَمِعَ بِذَلِكَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ : أَنْتَ تَقُولُ ذَلِكَ ؟ وَاللَّهِ لَوْ غَيْرُكَ يَقُولُ لَأَعْضَضْتُهُ ، قَدْ مَلَأَتْ رِئَتُكَ جَوْفَكَ رُعْبًا ، فَقَالَ عُتْبَةُ : إِيَّايَ تَعْنِي يَا مُصَفِّرَ اسْتِهِ ، سَتَعْلَمُ الْيَوْمَ أَيُّنَا الْجَبَانُ ؟ قَالَ : فَبَرَزَ عُتْبَةُ ، وَأَخُوهُ شَيْبَةُ ، وَابْنُهُ الْوَلِيدُ حَمِيَّةً ، فَقَالُوا : مَنْ يُبَارِزُ ؟ فَخَرَجَ فِتْيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ سِتَّةٌ ، فَقَالَ عُتْبَةُ : لَا نُرِيدُ هَؤُلَاءِ ، وَلَكِنْ يُبَارِزُنَا مِنْ بَنِي عَمِّنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُمْ يَا عَلِيُّ ، وَقُمْ يَا حَمْزَةُ ، وَقُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ الْمُطَّلِبِ " . فَقَتَلَ اللَّهُ شَيْبَةَ وَعُتْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ ، وَخَرَجَ عُبَيْدَةُ ، فَقَتَلْنَا مِنْهُمْ سَبْعِينَ وَأَسَرْنَا سَبْعِينَ . ¤ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَصِيرٌ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَسِيرًا ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ مَا أَسَرَنِي ، أَسَرَنِي رَجُلٌ أَجْلَحُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَجْهًا عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ مَا أَرَاهُ فِي الْقَوْمِ ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ : أَنَا أَسَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " اسْكُتْ فَقَدْ أَيَّدَكَ اللَّهُ بِمَلَكٍ كَرِيمٍ " . ¤ قَالَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : فَأَسَرْنَا وَأَسَرْنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ الْعَبَّاسَ وَعَقِيلًا وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَارِثَةَ بْنِ مَضْرِبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم مدینہ منورہ آئے اور ہم نے وہاں کے پھل استعمال کیے تو وہ ہماری طبیعت کے موافق نہیں آئے اور ہمیں بخار ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے بارے میں خبر گیری کرتے رہتے تھے ، جب ہمیں یہ اطلاع ملی کہ مشرکین آ رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہوئے ، بدر ایک کنواں ہے ، مشرکین ہم سے پہلے وہاں پہنچ گئے ، ہم نے وہاں پر ان میں سے دو آدمیوں کو پایا ، ایک شخص کا تعلق قریش سے تھا ، اور ایک عقبہ بن ابومعیط کا غلام تھا ، جہاں تک قریشی شخص کا تعلق تھا ، وہ تو بھاگ گیا ، جہاں تک عقبہ کے غلام کا تعلق تھا ، تو اسے ہم نے پکڑ لیا اور ہم نے اس سے پوچھا: اُن لوگوں کی تعداد کتنی ہے ؟ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! وہ لوگ زیادہ تعداد میں ہیں ، اور ان کے پاس بھرپور اسلحہ ہے ، جب وہ یہ بات کہتا تھا ، تو مسلمان اسے مارنے لگتے تھے ، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : ان لوگوں کی تعداد کتنی ہے ؟ اس نے بتایا : اللہ کی قسم ! ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہے اور ان کے پاس بھرپور اسلحہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کوشش کی کہ وہ آپ کو صحیح بات بتا سکے لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : ان لوگوں نے کتنے اونٹ قربان کیے ہیں ؟ اس نے بتایا : وہ روزانہ دس اونٹ قربان کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ ایک ہزار ہوں گے اور ایک اونٹ ایک سو کے آس پاس کے لوگوں کے لئے ہو گا ، پھر بارش کی وجہ سے ہمیں تھوڑی سی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ، اور ہم لوگ ایک درخت کے نیچے آ گئے ، اس درخت کے نیچے ہم ڈھالوں کے ذریعے بارش سے بچ رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر اپنے پروردگار سے دعا کرتے رہے اور یہ کہتے رہے : اے اللہ ! اگر تو نے اس گروہ کو ہلاکت کا شکار کر دیا ، تو پھر تیری عبادت نہیں کی جائے گی ، یہاں تک کہ جب صبح صادق ہوئی ، تو آپ نے اعلان کیا : اے اللہ کے بندو ! نماز پڑھو لوگ درخت اور ڈھالوں کے نیچے سے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، آپ نے جنگ کرنے کی ترغیب دی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : قریش اس پہاڑ کے اس سرخ حصے کے نیچے اکٹھے ہوں گے ، جب دشمن قریب آیا اور ہم نے ان کے مقابلے میں صف بندی کر لی ، تو ان میں سے ایک شخص اپنے سرخ اونٹ پر لوگوں کے درمیان چل رہا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی ! حمزہ کو بلاؤ ، وہ اس وقت مشرکین کے سب سے زیادہ قریب تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ سرخ اونٹ والا شخص کون ہے ؟ اور یہ اُن سے کیا کہہ رہا ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر دشمن میں کوئی شخص بھلائی کی بات کرے گا ، تو یہ سرخ اونٹ والا شخص وہ بات کرے گا ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے یہ بات بتائی : وہ عتبہ بن ربیعہ ہے اور وہ لوگوں کو جنگ کرنے سے روک رہا ہے اور ان سے یہ کہہ رہا ہے : اے میری قوم ! میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے ، جو مرنے کے لیے تیار ہیں ، جب تم ان تک پہنچو گے تو تمہارے میں بہتر صورتحال نہیں ہو گی ، اے میری قوم ! آج کے دن کی پٹی تم میرے سر پر باندھ دو ( یعنی مجھ پر الزام عائد کر دو ) اور یہ کہہ دو کہ عتبہ بن ربیعہ بزدل ہو گیا ، حالانکہ تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں بزدل نہیں ہوں ، ابوجہل نے یہ بات سنی تو بولا: تم یہ بات کہہ رہے ہو ۔ اللہ کی قسم ! اگر تمہارے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی ، تو میں نے اسے گالیاں دینی تھیں تمہارے اندر رعب بھر گیا ہے ، عتبہ نے کہا: اوسر دوگرم سے ناواقف شخص ! تم مجھے یہ بات کہہ رہے ہو ؟ آج تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے کون بزدل ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : پھر عتبہ ، اُس کا بھائی شیبہ ، اور اُس کا بیٹا ولید لڑائی کے لئے آئے ، اور انہوں نے یہ کہا: کون ہمارے مقابلے میں آئے گا ؟ تو انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان نکلے ، عتبہ نے کہا: ہم ان سے مقابلہ نہیں کرنا چاہتے ، بلکہ ہمارے مقابلے میں ہمارے چچازاد بنوعبدالمطلب سے تعلق رکھنے والے لوگ آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! تم کھڑے ہو جاؤ ، اے حمزہ ! آپ کھڑے ہو جائیں ، اے عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب آپ کھڑے ہو جائیں ، تو اللہ تعالیٰ نے ربیعہ کے دونوں بیٹوں شیبہ اور عتبہ کو قتل کروا دیا ، ولید بن عتبہ کو بھی قتل کروا دیا ، سیدنا عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے ، ہم نے اس جنگ میں ان کے ستر افراد کو قتل کیا اور ستر افراد کو قیدی بنایا ، انصار سے تعلق رکھنے والا ایک چھوٹے قد کا شخص ، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو قیدی بنا کر لے آیا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس نے مجھے قیدی نہیں بنایا ہے ، بلکہ مجھے ایک ایسے شخص نے قیدی بنایا ہے ، جو انتہائی خوبصورت تھا ، اور سر کے اطراف سے اس کے بال ہٹے ہوئے تھے اور وہ ایک خوبصورت گھوڑے پر سوار تھا میں نے اُسے لوگوں میں نہیں دیکھا ، انصاری نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انہیں میں نے قیدی بنایا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم خاموش رہو ! اللہ تعالیٰ نے ایک معزز فرشتے کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے ، جناب عبدالمطلب کی اولاد میں سے ، جناب عباس ، جناب عقیل اور جناب نوفل بن حارث کو قیدی بنایا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حارث بن مضرب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حارث بن مضرب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 9954
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ الْمُسْلِمُونَ بَدْرًا ، وَأَقْبَلَ الْمُشْرِكُونَ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ ، فَقَالَ : " إِنْ يَكُنْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ الْقَوْمِ خَيْرٌ فَهُوَ عِنْدَ صَاحِبِ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ ، إِنْ يُطِيعُوهُ يَرْشُدُوا " . ¤ وَهُوَ يَقُولُ : يَا قَوْمِ ، أَطِيعُونِي فِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ ; فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ لَنْ يَزَالَ ذَلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ يَنْظُرُ كُلُّ رَجُلٍ إِلَى قَاتِلِ أَخِيهِ وَقَاتِلِ أَبِيهِ ، فَاجْعَلُوا جَنْبَهَا بِرَأْسِي وَارْجِعُوا ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : انْتَفَخَ وَاللَّهِ سَحْرُهُ حِينَ رَأَى مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ ، إِنَّمَا مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ كَأَكْلَةِ جَزُورٍ لَوْ قَدِ الْتَقَيْنَا . ¤ فَقَالَ عُتْبَةَ : سَتَعْلَمُ مَنِ الْجَبَانُ الْمُفْسِدُ لِقَوْمِهِ ، أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى قَوْمًا يَضْرِبُونَكُمْ ضَرْبًا أَمَا تَرَوْنَ كَأَنَّ رُءُوسَهُمُ الْأَفَاعِي ، وَكَأَنَّ وُجُوهَهُمُ السُّيُوفُ ، ثُمَّ دَعَا أَخَاهُ وَابْنَهُ فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَهُمَا ، وَدَعَا بِالْمُبَارَزَةِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب مسلمان بدر پہنچے اور مشرکین بھی آ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ بن ربیعہ کی طرف دیکھا جو ایک سرخ اونٹ پر سوار تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں میں سے ، اگر کسی کے پاس بھلائی ہو سکتی ہے ، تو وہ سرخ اونٹوں والے اس شخص کے پاس ہو سکتی ہے ، اگر وہ لوگ اس کی بات مان جائیں گے تو وہ ہدایت حاصل کر لیں گے ، عتبہ یہ کہہ رہا تھا : اے میری قوم ! تم میری بات مان جاؤ ، جو ان لوگوں کے بارے میں ہے ، اگر تم ایسا کر لیتے ہو ، تو ہمیشہ تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ناراضگی رہے گی ، تم میں سے ہر ایک شخص کو اپنے کسی بھائی کے قاتل ، اپنے باپ کے قاتل کی طرف دیکھنا پڑے گا ، تو تم اس کا معاملہ میرے سر رکھ دو اور واپس چلو ! ابوجہل نے کہا: اللہ کی قسم ! جب سے اس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کو دیکھا ہے اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے ساتھی اونٹ کی مانند ہیں ، اگر ہم ان کے ساتھ مقابلہ کریں گے ، تو یہی مناسب ہو گا ، عتبہ نے کہا: تم عنقریب جان لو گے کہ کون بزدل ہے اور اپنی قوم کو خراب کرنے والا ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ تم پر بھرپور ضرب لگائیں گے ، کیا تم نے یہ چیز نہیں دیکھی کہ ان کے سر ، افعی ( سانپوں ) کی طرح ہیں اور ان کے چہرے تلواروں کی طرح ہیں ، پھر اس نے اپنے بھائی اور اپنے بیٹے کو بلایا اور ان دونوں کے درمیان چلتا ہوا نکلا اور مبارزت کے لئے پکارا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9955
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : كُنْتُ عَلَى قَلِيبٍ يَوْمَ بَدْرٍ أَمِيحُ وَأَمْتَحُ مِنْهُ ، فَجَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، ثُمَّ جَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ شَدِيدَةٌ ، فَلَمْ أَرَ رِيحًا أَشَدَّ مِنْهَا إِلَّا الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا ، ثُمَّ جَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَكَانَتِ الْأُولَى مِيكَائِيلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالثَّانِيَةُ إِسْرَافِيلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالثَّالِثَةُ جِبْرِيلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ . ¤ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ ، وَكُنْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَلَمَّا هَزَمَ اللَّهُ الْكَفَّارَ حَمَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَرَسِهِ ، فَلَمَّا اسْتَوَيْتُ عَلَيْهِ حَمَلَ بِي فَصِرْتُ عَلَى عُنُقِهِ ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ فَثَبَّتَنِي عَلَيْهِ ، فَطَعَنْتُ بِرُمْحِي حَتَّى بَلَغَ الدَّمُ إِبِطِي . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں غزوہ بدر کے موقع پر اس گڑھے کے پاس موجود تھا ، اور کنویں میں سے پانی نکال رہا تھا ، اسی دوران ایک تیز ہوا آئی پھر ایک اور تیز ہوا آئی ، میں نے اس جیسی تیز ہوا نہیں دیکھی تھی ، البتہ اس سے جو پہلے آئی تھی وہ زیادہ تیز تھی ، پھر ایک اور تیز ہوا آئی ، تو پہلی مرتبہ میں سیدنا میکائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتے لے کر آئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف کھڑے ہو گئے تھے ، دوسری مرتبہ میں سیدنا اسرافیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتے لے کے آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑے ہو گئے ، تیسری مرتبہ میں سیدنا جبرائیل علیہ السلام ایک ہزار فرشتے لے کر آئے تھے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف تھے اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کو پسپا کر دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے گھوڑے پر سوار کروایا ، جب میں اس پر بیٹھ گیا تو میں نے اس کی گردن کو تھپتھپایا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی : تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اُس پر جم کے بٹھا دیا ، اسی دوران مجھے نیزے سے زخم لگ گیا ، یہاں تک کہ خون میری بغلوں تک پہنچ گیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9956
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : لَمَّا رَأَى إِبْلِيسُ مَا تَفْعَلُ الْمَلَائِكَةُ بِالْمُشْرِكِينَ أَشْفَقَ أَنْ يَخْلُصَ الْقَتْلُ إِلَيْهِ ، فَتَشَبَّثَ بِهِ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ ، فَوَكَزَ فِي صَدْرِ الْحَارِثِ فَأَلْقَاهُ ثُمَّ خَرَجَ هَارِبًا حَتَّى أَلْقَى نَفْسَهُ فِي الْبَحْرِ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَظْرَتَكَ إِيَّايَ ، وَخَافَ أَنْ يَخْلُصَ الْقَتْلُ إِلَيْهِ . ¤ فَأَقْبَلَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ النَّاسِ ، لَا يَهْزِمَنَّكُمْ خِذْلَانُ سُرَاقَةَ إِيَّاكُمْ ; فَإِنَّهُ كَانَ عَلَى مِيعَادٍ مِنْ مُحَمَّدٍ ، لَا يَهُولَنَّكُمْ قَتْلُ عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ ; فَإِنَّهُمْ قَدْ عَجَّلُوا ، فَوَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَا نَرْجِعُ حَتَّى نُقْرِنَهُمْ بِالْحِبَالِ . ¤ فَلَا أَلْقَيَنَّ رَجُلًا قَتَلَ رَجُلًا مِنْهُمْ ، وَلَكِنْ خُذُوهُمْ أَخْذًا حَتَّى تُعَرِّفُوهُمْ سُوءَ صَنِيعِهِمْ مِنْ مُفَارَقَتِهِمْ إِيَّاكُمْ ، وَرَغْبَتِهِمْ عَنِ اللَّاتِ وَالْعُزَّى . ثُمَّ قَالَ أَبُو جَهْلٍ مُتَمَثِّلًا : ¤ مَا تَنْقِمُ الْحَرْبُ الشَّمُوسُ مِنِّي بَازِلٌ عَامَيْنِ حَدِيثٌ سِنِّي لِمِثْلِ هَذَا وَلَدَتْنِي أُمِّي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رفاعہ بن رافع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ابلیس نے وہ چیز دیکھی ، جو فرشتوں نے مشرکین کے ساتھ کی تھی ، تو وہ ڈر گیا کہ کہیں قتل اس کی طرف نہ آ جائے ، حارث بن ہشام نے اسے پکڑ لیا وہ یہ سمجھے کہ وہ سراقہ بن مالک ہے ، اس نے حارث کے سینے پر مکا لگایا اور انہیں ایک طرف پھینکا اور پھر ڈر کے بھاگا یہاں تک کہ سمندر میں گر گیا ، پھر اس نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور بولا: اے اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے مہلت دے ، اُسے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ بھی قتل نہ ہو جائے ، پھر ابوجہل آیا اور بولا: اے لوگو ! سراقہ کا تمہیں رسوا کرنا تمہیں پسپا نہ کرے ، کیونکہ اس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ ایک وعدہ کیا ہوا ہے ، اور عتبہ اور شیبہ ، جو ربیعہ کے بیٹے ہیں ، ان کا قتل تمہیں ہولناکی کا شکار نہ کرے ، کیونکہ ان لوگوں نے عجلت کا مظاہرہ کیا تھا ، لات اور عزیٰ کی قسم ، ہم اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک ان لوگوں کو رسیوں میں جکڑ نہیں دیتے ، اور میں ایسے کسی شخص کو ہرگز نہ پاؤں کہ اس نے ان لوگوں میں کسی کو قتل کر دیا ہو ، بلکہ تم لوگ انہیں پکڑو ، یہاں تک کہ تم انہیں ان کے برے طرز عمل سے واقف کرواؤ کہ جو انہوں نے تم سے علیحدگی اختیار کی تھی اور لات اور عزیٰ سے منہ موڑ دیا تھا ۔ پھر ابوجہل نے مثال کے طور پر یہ اشعار پڑھے : ” مسلسل جاری رہنے والی جنگ کو مجھ پر یہی غصہ ہے ، کہ میں نوجوان فرد ہوں اور میری عمر کم ہے ، اسی طرح کی صورتحال کے لیے میری ماں نے مجھے جنم دیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9957
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَخَذَتْهُمْ رِيحٌ عَقِيمٌ يَوْمَ بَدْرٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : غزوہ بدر کے موقع پر ان لوگوں کو ، بارش کے بغیر والی ہوا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 9958
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ بِمَكَّةَ : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ جَمْعٍ ؟ وَذَلِكَ قَبْلَ بَدْرٍ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، وَانْهَزَمَتْ قُرَيْشٌ نَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آثَارِهِمْ مُصْلِتًا بِالسَّيْفِ ، يَقُولُ : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ وَكَانَتْ يَوْمَ بَدْرٍ . ¤ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ : حَتَّى إِذَا أَخَذْنَا مُتْرَفِيهِمْ بِالْعَذَابِ الْآيَةَ . وَأَنْزَلَ : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا الْآيَةَ . وَرَمَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَسِعَتْهُمُ الرَّمْيَةُ ، وَمَلَأَتْ أَعْيُنَهُمْ وَأَفْوَاهَهُمْ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُقْبِلُ وَهُوَ يَقْذِي عَيْنَيْهِ وَفَاهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي إِبْلِيسَ : فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَى عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكُمْ إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ . ¤ وَقَالَ عُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَنَاسٌ مَعَهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ : غَرَّ هَؤُلَاءِ دِينُهُمْ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ : إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ غَرَّ هَؤُلَاءِ دِينُهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے مکہ میں اپنے نبی پر یہ آیت نازل کی : ” عنقریب وہ مجمع ( یا جتھہ ) شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے “ ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جمع سے مراد کیا ہے ؟ یہ غزوہ بدر سے پہلے کی بات ہے اور جب غزوہ بدر ہو گیا اور قریش پسپا ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے آثار کو دیکھا ، آپ نے تلوار لہرائی ہوئی تھی اور آپ یہ پڑھ رہے تھے : ” عنقریب وہ مجمع ( یا جتھہ ) شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے “ جب غزوہ بدر ہو گیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل کی : ” یہاں تک کہ ہم نے اُن کے خوشحال لوگوں کو عذاب کی گرفت میں لے لیا “ ۔ اور یہ آیت نازل کی : ” کیا تم نے ان کی طرف نہیں دیکھا جنہوں نے ، اللہ کی نعمت ( یعنی ایمان ) کو کفر میں تبدیل کر دیا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی طرف مٹی پھینکی اور وہ ان سب تک پہنچ گئی ، اس مٹی نے ان کی آنکھوں اور مونہوں کو بھر دیا ، یہاں تک کہ ایک شخص آتا تھا ، اور وہ اپنی آنکھوں اور منہ سے مٹی صاف کر رہا ہوتا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور جب تم نے مٹی پھینکی ، تو وہ تم نے نہیں پھینکی ، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی “ ۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں یہ آیت نازل کی : ” جب دونوں افواج ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئیں تو وہ ایڑیوں کے بل پلٹ گیا اور بولا: میں تم سے بری الذمہ ہوں ، میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ہو ، میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے “ ۔ غزوہ بدر کے دن ، عتبہ بن ربیعہ اور اس کے ساتھ مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے یہ کہا: ان کے دین نے انہیں دھوکے کا شکار کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے ، انہوں نے یہ کہا: ان کے دین نے انہیں دھوکے کا شکار کیا “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9959
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ قُلْتُ : أَيُّ جَمْعٍ هَذَا ؟ فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِيَدِهِ السَّيْفُ مُصْلِتًا ، وَهُوَ يَقُولُ : " سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” عنقریب وہ مجمع ( یا جتھہ ) شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے “ ۔ تو میں نے سوچا : اس سے مراد کون سا جتھہ ہو سکتا ہے ؟ جب غزوہ بدر آیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے ہاتھ میں تلوار لہرائی ہوئی تھی اور آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے : ” عنقریب وہ مجمع ( یا جتھہ ) شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن علی انصاری ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن علی انصاری ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9960
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ : إِنَّ مُحَمَّدًا يَزْعُمُ أَنَّكُمْ إِنْ لَمْ تُطِيعُوهُ كَانَ لَهُ مِنْكُمْ ذَبْحٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ ، وَأَنْتَ مِنْ ذَلِكَ الذَّبْحِ " . فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ يَوْمَ بَدْرٍ مَقْتُولًا ، قَالَ : " اللَّهُمَّ قَدْ أَنْجَزْتَ لِي مَا وَعَدْتَنِي " . ¤ فَوَجَّهَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الْأَسَدِ قِبَلَ أَبِي جَهْلٍ ، فَقِيلَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : أَنْتَ قَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : بَلِ اللَّهُ قَتَلَهُ . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : أَنْتَ قَتَلْتَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : لَوْ شَاءَ لَجَعَلَكَ فِي كَفِّهِ ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَتَلْتُهُ وَجَرَّدْتُهُ . ¤ قَالَ : فَمَا عَلَامَتُهُ ؟ قَالَ : شَامَةٌ سَوْدَاءُ بِبَطْنِ فَخِذِهِ الْيَمِينِ ، فَعَرَفَ أَبُو سَلَمَةَ النَّعْتَ ، وَقَالَ : جَرَّدْتَهُ وَلَمْ تُجَرِّدْ قُرَشِيًّا غَيْرَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ابوجہل بن ہشام نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا یہ کہنا ہے کہ اگر تم لوگ ان کی اطاعت نہیں کرو گے ، تو وہ تمہیں ذبح کر دیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے یہ بات کہی ہے اور تم بھی اُن ذبح ہونے والوں میں شامل ہو گے ، غزوہ بدر کے دن ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے مقتول دیکھا تو یہ فرمایا : اے اللہ ! تو نے جو میرے ساتھ وعدہ کیا تھا اسے پورا کر دیا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ کو ابوجہل کی طرف بھیجا ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : کیا آپ نے اسے قتل کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے قتل کیا تھا ، سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے اسے قتل کیا تھا ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ چاہیں ، تو اسے اپنی ہتھیلی میں رکھ لیں ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے اسے قتل کیا تھا ، اور میں نے اس کا اوپری لباس اتار لیا تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا : اس کی نشانی کیا ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : اس کے دائیں زانوں کے درمیان میں سیاہ رنگ کا تل ہے ، تو سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس نشانی کو پہچان لیا اور فرمایا : آپ نے اس کا اوپری لباس اتار لیا تھا آپ نے اس کے علاوہ کسی قریشی کا لباس نہیں اتارا ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9961
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُهُ وَهُوَ صَرِيعٌ ، وَهُوَ يَذُبُّ النَّاسَ عَنْهُ بِسَيْفٍ لَهُ ، فَقُلْتُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، فَقَالَ : هَلْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ قَدْ قَتَلَهُ قَوْمُهُ ؟ قَالَ : فَجَعَلْتُ أَتَنَاوَلُهُ بِسَيْفٍ لِي غَيْرَ طَائِلٍ ، فَأَصَبْتُ يَدَهُ فَبُدِرَ سَيْفُهُ فَأَخَذْتُهُ فَضَرَبْتُهُ حَتَّى قَتَلْتُهُ . ¤ قَالَ : ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّمَا أَفَلَ مِنَ الْأَرْضِ ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ؟ " . فَرَدَّدَهَا ثَلَاثًا قَالَ : فَقُلْتُ : اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ . قَالَ : فَخَرَجَ يَمْشِي مَعِي حَتَّى قَامَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، هَذَا كَانَ فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن میں ابوجہل کے پاس آیا اس کے پاؤں پر ضرب لگی تھی ، اور وہ زخمی پڑا ہوا تھا ، وہ اپنی تلوار کے ذریعے لوگوں کو خود سے پرے کر رہا تھا ، میں نے کہا: ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے تجھے رسوائی کا شکار کیا ، اے اللہ کے دشمن ! اس نے کہا: میں صرف ایک شخص ہوں ، جس کی قوم نے اسے قتل کر دیا ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اپنی تلوار اسے چبھونا چاہی جو زیادہ بڑی نہیں تھی ، وہ تلوار اس کے ہاتھ پر لگی تو اس کی تلوار گر گئی ، پھر میں نے اسے پکڑا اور اسے ضرب لگائی ، یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا ، پھر میں وہاں سے نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں خوشی کے عالم میں تیزی سے جا رہا تھا ، میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا اُس اللہ کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ ( یہ اطلاع درست ہے ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ سوال دہرایا ، تو میں نے عرض کی : اس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( یہ خبر درست ہے ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ چلتے ہوئے آئے اور اس کی لاش کے پاس ٹھہرے اور پھر یہ فرمایا : ” اے اللہ کے دشمن ! ہر طرح کی حمد ، اس اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے تجھے رسوائی کا شکار کیا ، ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) یہ اس امت کا فرعون ہے “ ۔
حدیث نمبر: 9962
وَفِي رِوَايَةٍ : " هَذَا فِرْعَوْنُ أُمَّتِي " .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” یہ میری امت کا فرعون ہے “ ۔
حدیث نمبر: 9963
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَنَفَّلَنِي سَلَبَهُ . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَهُوَ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اُس کا سامان انعام کے طور پر دیا ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام بزار نے انہیں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اسے ابوعبیدہ نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے نقل کیا ہے ، حالانکہ انہوں نے ان سے سماع نہیں کیا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9964
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : دُفِعْتُ يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى أَبِي جَهْلٍ وَقَدْ أُقْعِدَ ، فَأَخَذْتُ سَيْفَهُ فَضَرَبْتُ بِهِ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : رُوَيْعُنَا بِمَكَّةَ ، فَضَرَبْتُهُ بِسَيْفِهِ حَتَّى بَرَدَ ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَتَلْتُ أَبَا جَهْلٍ ، فَقَالَ عَقِيلٌ - وَهُوَ أَسِيرٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كَذَبْتَ مَا قَتَلْتَهُ . قَالَ : قُلْتُ بَلْ أَنْتَ الْكَذَّابُ الْآثِمُ يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، قَدْ وَاللَّهِ قَتَلْتُهُ قَالَ : فَمَا عَلَامَتُهُ ؟ قَالَ : بِفَخِذِهِ حَلْقَةٌ كَحَلْقَةِ الْحَجَلِ الْمُحَلَّقِ . قَالَ : صَدَقْتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ، میں ابوجہل کے پاس آیا وہ پڑا ہوا تھا ، میں نے اس کی تلوار پکڑی اور وہ اس کے سر پر ماری ( یعنی چبھوئی ) تو اس نے کہا: مکہ میں ہمارا نکما چرواہا ؟ پھر میں نے اس کی تلوار سے اس پر ضرب لگائی ، یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ابوجہل کو قتل کر دیا ہے ، تو جناب عقیل ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قیدی کے طور پر موجود تھے ، انہوں نے کہا: تم نے جھوٹ بولا: ہے ، تم نے اسے قتل نہیں کیا ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن ! بلکہ تم جھوٹے اور گنہگار ہو ، اللہ کی قسم ! میں نے اسے قتل کر دیا ہے ، انہوں نے دریافت کیا : اس کی علامت کیا ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : اس کے زانوں پر ایک چھلا تھا ، جو حلقے والے بٹن کی مانند تھا ، تو انہوں نے کہا: تم نے ٹھیک کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9965
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَدْرَكْتُ أَبَا جَهْلٍ يَوْمَ بَدْرٍ صَرِيعًا فَقُلْتُ : أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ ، قَدْ أَخْزَاكَ اللَّهُ قَالَ : وَبِمَا أَخْزَانِي اللَّهُ مِنْ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ ؟ وَمَعِي سَيْفٌ لِي فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ وَلَا يَحْتَكُّ فِيهِ شَيْءٌ ، وَمَعَهُ سَيْفٌ لَهُ جَيِّدٌ ، فَضَرَبْتُ يَدَهُ فَوَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذْتُهُ . ¤ ثُمَّ كَشَفْتُ الْمِغْفَرَ عَنْ رَأْسِهِ فَضَرَبْتُ عُنُقَهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ؟ " . قُلْتُ : اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَالَ : " انْطَلِقْ فَاسْتَثْبِتْ " . فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا أَسْعَى مِثْلَ الطَّائِرِ ، ثُمَّ جِئْتُ وَأَنَا أَسْعَى مِثْلَ الطَّائِرِ أَضْحَكُ ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْطَلِقْ فَأَرَنِي " . فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَأَرَيْتُهُ ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَذَا فِرْعَوْنُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ، میں نے ابوجہل کو پایا کہ وہ ( زخمی حالت میں ) پڑا ہوا تھا ، میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن ! اللہ نے تجھے رسوائی کا شکار کر دیا ہے ، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے کس حساب سے رسوائی کا شکار کیا ہے ؟ میں ایک شخص ہوں ، جسے تم نے قتل کر دیا ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میرے پاس میری تلوار تھی ، میں نے وہ اسے چبھونا شروع کی ، میں چھوٹے قدموں سے اس کے قریب ہوا ، اس کے ساتھ اس کی ایک عمدہ تلوار تھی ، میں نے اس کے ہاتھ پر ضرب لگائی تو اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی ، میں نے اسے پکڑا ، پھر میں نے اس کے سر سے خود کو ہٹایا اور اس کی گردن اڑا دی ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( یہ اطلاع ٹھیک ہے ؟ ) میں نے عرض کی : اُس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ( یہ اطلاع ٹھیک ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور تصدیق کر لو ، میں چلا ، میں پرندے کی طرح دوڑتا ہوا گیا ، پھر میں پرندے کی طرح واپس آیا ، میں ہنس رہا تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم چلو ، اور مجھے بھی دکھاؤ ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑا اور میں نے آپ کو ابوجہل دکھایا ، جب آپ اس کے پاس ٹھہرے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اس امت کا فرعون ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن وہب بن ابوکریمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن وہب بن ابوکریمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 9966
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : فَكَبَّرَ وَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصْرَ عَبْدَهُ " .
محمد محی الدین
اُن کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور یہ فرمایا : ” ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے اپنے وعدے کو سچا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی “ ۔
حدیث نمبر: 9967
وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى : " وَأَعَزَّ دِينَهُ " . ¤
محمد محی الدین
ایک اور روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” اُس نے اپنے دین کی مدد کی “ ۔
حدیث نمبر: 9968
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَعُورَ آبَارَهَا . يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں ان کے گڑھوں کو پاٹ دوں ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) یعنی غزوہ بدر کے دن ایسا ہوا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9969
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا وَرَدَ بَدْرًا أَوْمَأَ بِيَدِهِ فَقَالَ : " هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ " . فَوَاللَّهِ مَا أَمَاطَ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ مَصْرَعِهِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر تشریف لائے ، تو آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے ، اشارہ کر کے ارشاد فرمایا : یہ فلاں شخص کے پچھاڑے جانے ( یعنی قتل ہونے ) کی جگہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اُن لوگوں میں سے کوئی ایک بھی ، اپنی مخصوص جگہ سے نہیں ہٹا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9970
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ : " مَنْ ضَرَبَ أَبَاكَ ؟ " . قَالَ : الَّذِي قَطَعَ رِجْلَهُ ، فَقَضَى سَلَبَهُ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عکرمہ بن ابوجہل کو پیغام بھیج کر دریافت کیا ، تمہارے باپ کو کس نے مارا ہے ؟ اس نے بتایا : جس نے اس کی ٹانگ کاٹی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کا سامان سیدنا معاذ بن عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ کو دینے کا فیصلہ دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9971
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْأَنْصَارِ ثُمَّ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ : مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ، وَقَتَلَ أَبَا جَهْلٍ فَقَطَعَ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ يَدَهُ ، ثُمَّ عَاشَ إِلَى زَمَنِ عُثْمَانَ . وَيَأْتِي فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا بِتَمَامِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق نے ، غزوہ بدر میں شریک ہونے والے حضرات کے نام بیان کیے ہیں ( جو درج ذیل ہیں : ) انصاری کی شاخ ، بنو خزرج سے تعلق رکھنے والے ، سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ ، انہوں نے ابوجہل کو قتل کیا تھا ، اور عکرمہ بن ابوجہل نے اُن کا ہاتھ کاٹ دیا تھا ، یہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے تک زندہ رہے تھے ۔ غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے مکمل اسماء آگے آئیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 9972
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : لَمَّا جِيءَ بِأَبِي جَهْلٍ يُجَرُّ إِلَى الْقَلِيبِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كَانَ أَبُو طَالِبٍ حَيًّا لَعَلِمَ أَنَّ أَسْيَافَنَا قَدِ الْتَبَسَتْ بِالْأَنَامِلِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَيَّانُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ فِيهِ : وَكَذَلِكَ يَقُولُ أَبُو طَالِبٍ : ¤ كَذَبْتُمْ وَبَيْتِ اللَّهِ إِنْ جَدَّ مَا أَرَى لَتَلْتَبِسَنَّ أَسْيَافُنَا بِالْأَنَامِلِ وَيَنْهَضُ قَوْمٌ فِي الدُّرُوعِ إِلَيْكُمُ ¤ نُهُوضَ الرَّوَايَا فِي طَرِيقٍ حَلَاحِلِ قَالَ ابْنُ مَنَاذِرَ : هُمَا سَوَاءٌ يَقُولُونَ : حُلَاحِلُ وَجُلَاجِلُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب ابوجہل کو کھینچ کر گڑھے کی طرف لایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر ابوطالب زندہ ہوتے تو وہ یہ جان لیتے کہ ہماری تلواروں نے ” اگر ابوطالب زندہ ہوتے تو وہ یہ جان لیتے کہ ہماری تلواریں پوروں کے ساتھ چپکی رہی ہیں ( یعنی ہمارے ہاتھوں سے چھوٹی نہیں ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : جناب ابوطالب نے یہ کہا: تھا : ” تم نے غلط کہا: ہے ، بیت اللہ کی قسم ، اگر وہ صورتحال درپیش ہوئی جو مجھے نظر آ رہی ہے ، تو ہماری تلواریں پوروں کے ساتھ چپک جائیں گی ، اور ( ہمارے ) لوگ زرہیں پہن کر تمہاری طرف یوں آئیں گے جس طرح حلاصل کے راستے میں پانی والے اونٹ آتے ہیں “ ابن مناذر بیان کرتے ہیں : یہ دونوں برابر ہیں ، لوگوں نے لفظ ” حلاحل “ بھی نقل کیا ہے اور ” جلاجل “ بھی نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبان بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : جناب ابوطالب نے یہ کہا: تھا : ” تم نے غلط کہا: ہے ، بیت اللہ کی قسم ، اگر وہ صورتحال درپیش ہوئی جو مجھے نظر آ رہی ہے ، تو ہماری تلواریں پوروں کے ساتھ چپک جائیں گی ، اور ( ہمارے ) لوگ زرہیں پہن کر تمہاری طرف یوں آئیں گے جس طرح حلاصل کے راستے میں پانی والے اونٹ آتے ہیں “ ابن مناذر بیان کرتے ہیں : یہ دونوں برابر ہیں ، لوگوں نے لفظ ” حلاحل “ بھی نقل کیا ہے اور ” جلاجل “ بھی نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9973
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا سَائِرٌ بِجَنَبَاتِ بَدْرٍ إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ حُفْرَةٍ فِي عُنُقِهِ سِلْسِلَةٌ فَنَادَانِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي ، يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي ، يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي ، فَلَا أَدْرِي عَرَفَ اسْمِي أَوْ دَعَانِي بِدَعَايَةِ الْعَرَبِ ؟ وَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْحَفِيرِ فِي يَدِهِ سَوْطٌ ، فَنَادَانِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْقِهِ فَإِنَّهُ كَافِرٌ ، ثُمَّ ضَرَبَهُ بِالسَّوْطِ فَعَادَ إِلَى حُفْرَتِهِ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْرِعًا فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ لِي : " أَوَقَدْ رَأَيْتَهُ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " ذَاكَ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلٍ ، وَذَاكَ عَذَابُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں بدر کے پاس سے گزر رہا تھا ، ایک گڑھے میں سے ایک شخص نکلا ، اس کے گلے میں زنجیر تھی ، اس نے مجھے پکار کر کہا: اے عبداللہ ! مجھے پلاؤ ، اے عبداللہ ! مجھے کچھ پلاؤ ، اے عبداللہ ! مجھے کچھ پلاؤ ، ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ) مجھے نہیں معلوم کہ اُسے میرا نام پتہ تھا ، یا اس نے عربوں کے رواج کے مطابق ” اے اللہ کے بندے “ کہہ کر مجھے بلایا تھا ، پھر اس گڑھے میں سے ایک اور شخص نکلا اس کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی ۔ اس نے پکار کر کہا: اے اللہ کے بندے ! تم اسے نہ پلانا ، کیونکہ یہ کافر ہے ، پھر اس نے اسے لاٹھی ماری ( یا کوڑا مارا ) تو وہ شخص گڑھے کی طرف واپس چلا گیا ، میں تیزی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اللہ کا دشمن ابوجہل تھا ، اور یہ اس کا عذاب ہے ، جو قیامت تک ہوتا رہے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9974
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : قَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : هَوْذَةُ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : يَا هَوْذَةُ ، هَلْ شَهِدْتَ بَدْرًا ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، عَلَيَّ لَا لِي قَالَ : فَكَمْ أَتَى عَلَيْكَ ؟ قَالَ : أَنَا يَوْمَئِذٍ قُمُدٌّ قُمْدُودٌ ، مِثْلُ الصَّفَاةِ وَالْجُلْمُودِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَقَدْ صَفُّوا لَنَا صَفًّا طَوِيلًا ، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَرِيقِ سُيُوفِهِمْ كَشُعَاعِ الشَّمْسِ مِنْ خِلَالِ السَّحَابِ ، فَمَا اسْتَفَقْتُ حَتَّى غَشِيَتْنَا غَادِيَةُ الْقَوْمِ فِي أَوَائِلِهِمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْثًا عَبْقَرِيًّا يَقْرِي الْغُرَبَاءَ وَهُوَ يَقُولُ : لَنْ يَأْكُلُوا التَّمْرَ بِبَطْنِ مَكَّةَ ، يَتْبَعُهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِي صَدْرِهِ رِيشَةٌ بَيْضَاءُ قَدْ أُعْلِمَ بِهَا كَأَنَّهُ جَمَلٌ يُحَطِّمُ بِنَاءً فَرَغْتُ عَنْهُمَا وَأَحَالَا عَلَى حَنْظَلَةَ - يَعْنِي أَخَا مُعَاوِيَةَ - فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : رَضِيَ اللَّهُ عَنْكَ ، وَلَا كُفْرَانَ لِلَّهِ زَلَّةً ، فَلَيْتَ شِعْرِي مَتَى أَرَحْتَ يَا هَوْذَةُ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا أَرَحْتُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْهَضَبَاتِ مِنْ أَرْبَدَ ، فَقُلْتُ : لَيْتَ شِعْرِي مَا فَعَلَ حَنْظَلَةُ ؟ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : أَنْتَ بِذِكْرِكَ حَنْظَلَةَ كَذِكْرِ الْغَنِيِّ أَخَاهُ الْفَقِيرَ لَا يَكَادُ يَذْكُرُهُ إِلَّا وَاسِنًا أَوْ مُتَوَاسِنًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَحْمَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا ، جس کا نام ہوذہ تھا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اے ہوذہ ! کیا تم بدر میں شریک ہوئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! اے امیر المؤمنین ! اور یہ بات میرے خلاف جاتی ہے میرے حق میں نہیں جاتی ہے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اس وقت تمہاری عمر کتنی تھی ؟ اس نے بتایا : میں ان دنوں طاقتور اور مضبوط شخص تھا ، جیسے بڑا چٹیل پتھر ہوتا ہے ، میں گویا اس وقت بھی ان لوگوں کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ انہوں نے ہمارے سامنے ایک طویل صف بنا لی تھی اور میں ان لوگوں کی تلوار کی چمک کی طرف گویا ابھی بھی دیکھ رہا ہوں ، جو بادلوں کے درمیان میں سے سورج کی شعاع کی مانند تھی ، اسی دوران کچھ لوگ ہمارے سامنے آئے ، جو ہر اول دستے سے تعلق رکھتے تھے ان میں ایک سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے ، جو ایک چیتے کی مانند تھے ، وہ یہ کہہ رہے تھے : اب یہ لوگ مکہ کی کھجوریں نہیں کھائیں گے ، اب یہ لوگ مکہ کی کھجوریں نہیں کھائیں گے ( یعنی یہاں سے زندہ واپس نہیں جائیں گے ) ، ان کے پیچھے حمزہ بن عبدالمطلب تھے ، جن کے سینے پر سفید پر لگا ہوا تھا ، اور میں ان کے بارے میں یہ بات جانتا تھا کہ وہ ایک اونٹ کی مانند ہیں ، جو عمارت کو توڑ دیتا ہے ، میں ان دونوں کے آگے سے ہٹ گیا اور ان کو حنظلہ کے لیے چھوڑ دیا ، یعنی جو سیدنا معاویہ کا بھائی تھا ، حضت معاویہ نے اس ( یعنی ہوزہ ) سے کہا: اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو ، اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہیں ہونی چاہیئے ، کاش مجھے یہ پتہ چل جاتا کہ اے ہوذہ تمہیں کب راحت نصیب ہوئی ، اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! اے امیر المؤمنین ! مجھے اس وقت تک اطمینان نصیب نہیں ہوا جب تک میں نے اربد کے ٹیلے نہیں دیکھ لیے ، پھر میں نے سوچا ارے افسوس ! حنظلہ کا کیا بنا ہو گا ؟ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم حنظلہ کا ذکر یوں کر رہے ہو جس طرح کوئی خوشحال شخص اپنے غریب بھائی کا ذکر کرتا ہے ، وہ بیداری یا اونگھ ( ہر حال ) میں اس کا ذکر کرتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رحمت بن مصعب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رحمت بن مصعب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9975
وَعَنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ قَالَ : كَانَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمَ بَدْرٍ مُعَلَّمًا بِرِيشَةِ نَعَامَةٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ : مَنْ رَجُلٌ أُعْلِمَ بِرِيشَةِ نَعَامَةٍ ؟ فَقِيلَ : حَمْزَةُ بْنُ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ . قَالَ : ذَاكَ الَّذِي فَعَلَ بِنَا الْأَفَاعِيلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : امیہ بن خلف نے مجھ سے کہا : اے معبود کے بندے وہ شخص کون ہے ‘ غزوہ بدر کے دن جس کا مخصوص نشان اس کے سینے پر موجود شتر مرغ کا پر تھا ‘ تو میں نے بتایا : وہ اللہ کے رسول کے چچا تھے ۔ وہ حمزہ بن عبدالمطلب تھے ‘ تو اس نے کہا : یہی وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ( یعنی ہمیں نقصان پہنچایا ہے ) ۔
حدیث نمبر: 9976
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ لِي أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ : يَا عَبْدَ الْإِلَهِ مَنِ الرَّجُلُ الْمُعَلَّمُ بِرِيشَةِ نَعَامَةٍ فِي صَدْرِهِ يَوْمَ بَدْرٍ ؟ قُلْتُ : ذَاكَ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاكَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : ذَاكَ الَّذِي فَعَلَ بِنَا الْأَفَاعِيلَ . . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي إِحْدَاهُمَا شَيْخُهُ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ الْكَرَابِيسِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَالْأُخْرَى ضَعِيفَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : امیہ بن خلف نے مجھ سے کہا: اے معبود کے بندے وہ شخص کون ہے ، غزوہ بدر کے دن جس کا مخصوص نشان اس کے سینے پر موجود شتر مرغ کا پر تھا ، تو میں نے بتایا : وہ اللہ کے رسول کے چچا تھے ۔ وہ حمزہ بن عبدالمطلب تھے ، تو اس نے کہا: یہی وہ صاحب ہیں ، جنہوں نے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ( یعنی ہمیں نقصان پہنچایا ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دو میں سے ایک میں ان کے استاد علی بن فضل کرابیسی ہیں ، میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں اور دوسری روایت ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، ان دو میں سے ایک میں ان کے استاد علی بن فضل کرابیسی ہیں ، میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں اور دوسری روایت ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9977
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخْرَجَهُ إِلَى بَدْرٍ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ وَعَدَنِي بَدْرًا ، وَأَنْ يُغْنِمَنِي عَسْكَرُهُمْ ، وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ غَنَائِمِهِمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَمَنْ أَسَرَ أَسِيرًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ غَنَائِمِهِمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ¤ فَلَمَّا تَوَاقَفُوا قَذَفَ اللَّهُ فِي قُلُوبِ الْمُشْرِكِينَ الرُّعْبَ ، فَلَمَّا اقْتَتَلُوا هَزَمَهُمُ اللَّهُ ، فَاتَّبَعَهُمْ سُرْعَانُ النَّاسِ فَقَتَلُوا سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَطِيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نکلنے لگے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ بدر کا وعدہ کیا ہے اور یہ وعدہ کیا ہے کہ اُن کے لشکر کو مجھے غنیمت کے طور پر عطا کرے گا ، تو جو شخص کسی دشمن کو قتل کرے گا اسے مال غنیمت میں سے یہ ، یہ کچھ ملے گا ، اگر اللہ نے چاہا اور جو شخص کسی کو قیدی بنا لے گا ، تو اسے مال غنیمت میں سے یہ ، یہ کچھ ملے گا اگر اللہ نے چاہا “ ۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے آئے ، تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور جب جنگ شروع ہوئی ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پسپا کر دیا ، تو جلد باز لوگ ان کے پیچھے گئے ، مسلمانوں نے ستر افراد کو قتل کیا اور ستر افراد کو قیدی بنایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9978
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا سَمِعْنَا مُنَاشِدًا يَنْشُدُ حَقًّا لَهُ أَشَدَّ مُنَاشَدَةً مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بَدْرٍ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ مَا وَعَدْتَنِي ، إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ لَا تُعْبَدْ " . ثُمَّ الْتَفَتُّ كَأَنَّ وَجْهَهُ الْقَمَرُ ، فَقَالَ : " كَأَنِّي إِلَى مَصَارِعِ الْقَوْمِ عَشِيَّةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے کبھی بھی کسی شخص کی ایسی گریہ وزاری نہیں سنی ، جو کسی نے اپنے حق کے لئے کی ہو ، جیسی گریہ وزاری غزوہ بدر کے موقع پر ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی ، آپ یہ فرما رہے تھے : ” اے اللہ ! تو نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے ، میں تجھے اس کا واسطہ دیتا ہوں ، اگر اس گروہ کو تو نے ہلاکت کا شکار کر دیا ، تو تیری عبادت نہیں کی جائے گی “ پھر آپ نے مڑ کر دیکھا تو آپ کا چہرہ چاند کی مانند تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں گویا اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ ( اگلے دن ) شام کے وقت دشمن کے مرنے کی جگہ کون سی ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے ، اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے ، اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 9979
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ تَجَمَّعَ النَّاسُ عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ ، فَأَقْبَلْنَا إِلَيْهِ ، فَنَظَرْتُ إِلَى قِطْعَةٍ مِنْ دِرْعِهِ قَدِ انْقَطَعَتْ مِنْ تَحْتِ إِبِطِهِ فَأَطْعَنُهُ بِالسَّيْفِ طَعْنَةً ، وَرُمِيتُ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَهْمٍ فَفُقِئَتْ عَيْنِي ، وَبَصَقَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَعَا لِي فِيهَا فَمَا آذَانِي شَيْءٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ، لوگ امیہ بن خلف کے پاس اکٹھے ہوئے ، ہم اس کے پاس آئے میں نے اس کی زرہ کا ایک ٹکڑا دیکھا ، جو اس کی بغل کے نیچے سے ٹوٹ گیا تھا ، میں نے تلوار کے ذریعے اسے چبھویا ، مجھے غزوہ بدر کے دن ایک تیر بھی لگا تھا ، جس نے میری آنکھ کو خراب کر دیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس آنکھ میں لعاب دہن ڈالا تھا ، اور اس آنکھ کے بارے میں میرے لئے دعا کی تھی ، تو اس کے بعد ( اس آنکھ میں ) مجھے کبھی بھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9980
وَعَنْ عَلَيٍّ قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلِأَبِي بَكْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ : " مَعَ أَحَدِكُمَا جِبْرِيلُ ، وَمَعَ الْآخَرِ مِيكَائِيلُ ، وَإِسْرَافِيلُ مَلَكٌ عَظِيمٌ يَشْهَدُ الْقِتَالَ أَوْ يَكُونُ فِي الصَّفِّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا : ” تم دونوں میں ایک کے ساتھ جبرائیل ہے اور دوسرے کے ساتھ میکائیل ہے اور اسرافیل جو ایک بڑا فرشتہ ہے ، وہ بھی جنگ میں شامل ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ صف میں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ، یہ امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ، یہ امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 9981
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلِأَبِي بَكْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ : " مَعَ أَحَدِكُمَا جِبْرِيلُ وَمَعَ الْآخَرِ مِيكَائِيلُ ، وَإِسْرَافِيلُ مَلَكٌ عَظِيمٌ يَشْهَدُ الْقِتَالَ - أَوْ يَكُونُ فِي الصَّفِّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَالْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا : ” تم دونوں میں سے ایک کے ساتھ ، جبرائیل ہے اور دوسرے کے ساتھ میکائیل ہے اور اسرافیل ، جو ایک بڑا فرشتہ ہے وہ اس جنگ میں شریک ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ صف میں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔
…