حدیث نمبر: 9941
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوَّلَ غَزْوَةٍ غَزَاهَا الْأَبْوَاءَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالرَّوْحَاءِ نَزَلَ بِعِرْقِ الظُّبْيَةِ فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا اسْمُ هَذَا الْجَبَلِ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " هَذَا خِمْتٌ هَذَا مِنْ جِبَالِ الْجَنَّةِ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَبَارِكْ لِأَهْلِهِ " . وَقَالَ لِلرَّوْحَاءِ : " هَذِهِ سَجَاسِجُ وَادِي مِنْ أَوْدِيَةِ الْجَنَّةِ ، لَقَدْ صَلَّى فِي هَذَا الْمَسْجِدِ قَبْلِي سَبْعُونَ نَبِيًّا ، وَلَقَدْ مَرَّ بِهِ مُوسَى عَلَيْهِ عَبَاءَتَانِ قَطْوَانِيَّتَانِ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَاجِّينَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ بِهِ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا ، أَوْ يَجْمَعُ اللَّهُ لَهُ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَيَأْتِي حَدِيثُ عَمَّارٍ فِي مَنَاقِبِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ، جس پہلے غزوہ میں شرکت کی ، جو غزوہ آپ نے کیا تھا ، وہ غزوہ ابواء ہے ، یہاں تک کہ جب ہم روحاء کے مقام پر پہنچے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” عرق طبیہ “ کے مقام پر پڑاؤ کیا اور نماز ادا کی ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو اس پہاڑ کا نام کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : یہ ” خمت “ ہے ، یہ جنت کے پہاڑوں میں سے ایک ہے ، اے اللہ ! اس میں برکت فرما اور اس کے اہل میں برکت فرما ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” روحاء “ کے لئے یہ فرمایا : یہ ” سجا سج “ ہے ، جو جنت کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے اس مسجد میں مجھ سے پہلے ستر انبیاء نے نماز ادا کی ہے ، اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام بھی یہاں سے گزرے تھے ۔ انہوں نے دو قطوانی عبائیں پہنی ہوئی تھیں اور وہ خاکستری رنگ کی اونٹنی پر سوار تھے اور بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ستر ہزار افراد کے ساتھ تھے ۔ وہ بیت عتیق کا حج کرنے کے لئے آئے تھے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، وہ حج یا عمرہ کرنے کے لئے یہاں سے نہیں گزریں گے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : اللہ تعالیٰ ان کے لئے یہ چیز جمع کر دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے کثیر بن عبداللہ مزنی کے حوالے سے نقل کی ہے وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ۔ امام ترمذی نے اس کی حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9941
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (16/17)»