مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ قَسْمِ الْغَنِيمَةِ . باب: مال غنیمت کی تقسیم
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ قَدِمَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فِي سَفِينَةٍ وَمَعَهُ فَرَسٌ أَبْلَقُ، فَلَمَّا رَسَوْا وَجَدُوا إِبِلًا كَثِيرَةً مِنْ إِبِلِ الْمُشْرِكِينَ ، فَأَخَذُوهَا فَأَمَرَهُمْ أَبُو مَالِكٍ أَنْ يَنْحَرُوا مِنْهَا بَعِيرًا فَيَسْتَعِينُوا بِهِ ، ثُمَّ مَضَى عَلَى قَدَمَيْهِ حَتَّى قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ بِسَفَرِهِ وَبِأَصْحَابِهِ وَبِالْإِبِلِ الَّتِي أَصَابُوا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ الَّذِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَعْطِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْإِبِلِ . قَالَ : " اذْهَبُوا إِلَى أَبِي مَالِكٍ " . فَلَمَّا أَتَوْهُ قَسَمَهَا أَخْمَاسًا خُمُسًا بَعَثَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخَذَ ثُلُثَ الْبَاقِي بَعْدَ الْخُمُسِ فَقَسَمَهُ بَيْنَ أَصْحَابِهِ وَالثُّلُثَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ لِلْمُسْلِمِينَ فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ فَجَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : مَا رَأَيْنَا مِثْلَ أَبِي مَالِكٍ بِهَذَا الْمَغْنَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كُنْتُ أَنَا مَا صَنَعْتُ إِلَّا كَمَا صَنَعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ اور اُن کے ساتھی کشتی میں بیٹھ کر آئے ، ان کے ساتھ ایک ” ابلق “ ( یعنی سفید و سیاہ رنگ کا ) گھوڑا تھا ۔ جب وہ لوگ کشتی سے اترے تو انہوں نے مشرکین کے بہت سے اونٹ پائے انہوں نے ان کو حاصل کیا سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ ان میں سے ایک اونٹ قربان کریں اور اس کے ذریعے مدد حاصل کریں ( یعنی اپنی خوراک حاصل کریں ) پھر وہ لوگ چلتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سفر اور اپنے ساتھیوں اور ان اونٹوں کے بارے میں بتایا جو انہیں ملے تھے پھر وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے جو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اونٹوں میں سے کچھ ہمیں بھی دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ ابومالک کے پاس چلے جاؤ جب وہ لوگ سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے ان اونٹوں کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا پانچواں حصہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھجوا دیا اور خمس کے بعد باقی بچ جانے والے کا ایک تہائی حصہ لے کر اپنے ساتھیوں میں تقسیم کیا اور باقی دو حصے انہوں نے دوسرے مسلمانوں میں تقسیم کیے پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : ابومالک نے مال غنیمت کے بارے میں جو کیا ہے ہم نے اس طرح کی صورت حال کبھی نہیں دیکھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر میں نے کچھ کرنا ہوتا ، تو میں بھی اسی طرح کرتا جس طرح اس نے کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔