کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس کے مال پر دشمن غلبہ پا لے اور پھر وہ شخص اس مال کو پا لے
حدیث نمبر: 9767
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ مَالَهُ فِي الْفَيْءِ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ ، وَمَنْ أَدْرَكَهُ بَعْدَ أَنْ يُقْسَمَ، فَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَاسِينُ الزَّيَّاتِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا فِي الْأَحْكَامِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص تقسیم ہونے سے پہلے اپنا مال ، مال غنیمت میں پا لے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہو گا ، اور جو شخص تقسیم ہونے کے بعد اس کو پائے گا اس کو کچھ نہیں ملے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یسین زیات ہے اور وہ ضعیف ہے اس نوعیت کی کچھ احادیث اس سے پہلے احکام سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یسین زیات ہے اور وہ ضعیف ہے اس نوعیت کی کچھ احادیث اس سے پہلے احکام سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔