حدیث نمبر: 9756
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا جَاءَهُ فَيْءٌ قَسَمَهُ مِنْ يَوْمِهِ فَأَعْطَى الْأَهْلَ حَظَّيْنِ وَأَعْطَى الْأَعْرَابَ حَظًّا وَاحِدًا فَدُعِينَا وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَأُعْطِيَ حَظًّا وَاحِدًا فَتَسَخَّطَ حَتَّى عَرَفَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَجْهِهِ وَمَنْ حَضَرَهُ فَبَقِيَتْ فَضْلَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْفَعُهَا بِطَرَفِ عَصَاهُ فَتَسْقُطُ ثُمَّ يَرْفَعُهَا فَتَسْقُطُ وَهُوَ يَقُولُ : " كَيْفَ أَنْتُمْ يَوْمَ يُكْنَزُ لَكُمْ مِنْ هَذَا ؟ " فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ : وَدِدْنَا وَاللَّهِ لَوْ أُكْنِزَ لَنَا ، فَصَبَرَ مَنْ صَبَرَ وَفُتِنَ مَنْ فُتِنَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَعَلَّكَ تَكُونُ فِيهِ شَرَّ مَفْتُونٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ : وَأَعْطَى الْعَرَبَ حَظًّا فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَمَتْنُهُ مُنْكَرٌ فَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَقُولُ ذَلِكَ لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب مال غنیمت میں سے کچھ آتا تھا ، تو آپ اسی دن میں اسے تقسیم کر دیتے تھے آپ شہریوں کو دو حصے دیتے تھے اور دیہاتیوں کو ایک حصہ دیتے تھے ہمیں بلایا گیا مجھے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے پہلے بلا لیا گیا تھا ، انہیں ایک حصہ دیا گیا تو وہ ناراض ہو گئے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور حاضرین کو ان کے چہرے سے اس بات کا اندازہ ہو گیا پھر سونے کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عصا کے کونے کے ذریعے اسے اٹھایا تو وہ گر گیا پھر آپ نے اسے اٹھایا پھر وہ گر گیا آپ نے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا کہ جب تم اس سونے کے خزانے بناؤ گے کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا ، تو سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہماری یہ خواہش ہے ۔ اللہ کی قسم ! کہ ہمیں خزانے دیے جائیں ، تو جس نے صبر کرنا ہو وہ صبر کرے اور جس نے آزمائش میں مبتلاء ہونا ہے وہ آزمائش میں مبتلاء ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا شاید تم اس میں سب سے زیادہ بری آزمائش میں مبتلاء ہو گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے یہاں تک الفاظ نقل کیے ہیں : ” عربوں کو ایک حصہ دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رحال ہیں اور اس کا متن منکر ہے ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بدر میں سے کسی بھی شخص کے لئے اس طرح کی بات ارشاد نہیں فرمائی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9756
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح ولکن متنہ منکر
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1048)»