حدیث نمبر: 9752
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَهْلَ الْبَصْرَةِ غَزَوْا نُهَاوَنْدَ فَأَمَدَّهُمْ أَهْلُ الْكُوفَةِ وَعَلَيْهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَظَهَرُوا فَأَرَادَ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَنْ لَا يَقْسِمُوا لِأَهْلِ الْكُوفَةِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ أَوْ مِنْ بَنِي عُطَارِدٍ : أَيُّهَا الْعَبْدُ الْأَجْدَعُ تُرِيدُ أَنْ تَشْرَكَنَا فِي غَنَائِمِنَا ، وَكَانَتْ أُذُنُهُ جُدِعَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : خَيْرَ أُذُنِي سَبَبْتَ ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ ، فَكَتَبَ : إِنَّ الْغَنِيمَةَ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : اہل بصرہ نے نہاوند کے مقام پر جنگ میں حصہ لیا ، تو اہل کوفہ نے ان کی امداد کی ان کے امیر سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تھے ۔ وہ لوگ غالب آ گئے اہل بصرہ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اہل کوفہ کو تقسیم میں کوئی حصہ نہیں دیں گے تو بنو تمیم یا بنو عطارد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: اے ناک کٹے غلام کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم ہمارے مال غنیمت میں ہمارے شراکت دار بن جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : ان کے کان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے ہوئے کاٹے گئے تھے ، تو انہوں نے فرمایا : تم نے میرے اچھے کانوں کو برا کہا: ہے پھر انہوں نے اس بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط لکھا کہ غنیمت میں اس شخص کو حصہ ملے گا ، جس نے جنگ میں حصہ لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9752
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8203)»