کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نعمت کا اظہار کرنا اور عمدہ لباس پہننا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَنْعَمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَهَا عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کوئی نعمت عطا کرتا ہے ، تو وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس نعمت کا اثر اس بندے پر نظر آئے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبیداللہ بن موہب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8580
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (9223)»
وَعَنْ أَبِي رَجَاءَ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، وَعَلَيْهِ مِطْرَفُ خَزٍّ لَمْ نَرَهُ عَلَيْهِ قَبِلُ وَلَا بَعْدُ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَنْعَمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ نِعْمَةً ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعَمِهِ عَلَى عَبْدِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ان کے جسم پر ” خر “ ( ریشم ، یا ریشم اور اون سے بنا ہوا کپڑا ، اس ) کی چادر تھی ، ہم نے وہ لباس اس سے پہلے کبھی ان کے جسم پر نہیں دیکھا انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے نعمت عطا کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اُس کی نعمت کا اثر ، بندے پر نظر آنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8581
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (135/18) اخرجه احمد فى المسند (438/4)»
وَعَنْ أبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَّالَ وَيُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعَمِهِ عَلَى عَبْدِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے ، وہ جمال کو پسند کرتا ہے ، اور یہ بات پسند کرتا ہے کہ اُس کی نعمت کا اثر ، اس کے بندے پر نظر آئے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8582
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1055)»
وَعَنْ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الضَّبْعِيِّ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ سَيِّئُ الْهَيْئَةِ فَقَالَ : " أَلَكَ مَالٌ ؟ " قَالَ : نَعَمْ مِنْ كُلِّ أَنْوَاعِ الْمَالِ . قَالَ : " فَلْيُرَ عَلَيْكَ ، فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَهُ عَلَى عَبْدِهِ حَسَنًا ، وَلَا يُحِبُّ الْبُؤْسَ وَلَا التَّبَؤُّسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَتَرْجَمَ لِزُهَيْرٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زہیر بن ابوعلقمہ ضعبی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص برے حال میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! ہر قسم کا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر وہ تم پر نظر آنا چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اس کا اثر اپنے بندے پر اچھی حالت میں دیکھے ، وہ برے حال اور برا حال اختیار کرنے کو پسند نہیں کرتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے سیدنا زہیر کے ( نام کا عنوان قائم کیا ہے ) ، اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8583
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراتي في المعجم الكبير (5508)»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الدُّهْنُ يُذْهِبُ الْبُؤْسَ ، وَالْكُسْوَةَ تُظْهِرُ الْغِنَى ، وَالْإِحْسَانُ إِلَى الْخَادِمِ يَكْبِتُ الْعَدُوَّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الرُّقِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اشعث اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تیل ’ میل ( یا خشکی ) کو ختم کر دیتا ہے ، اور لباس خوشحالی کو ظاہر کرتا ہے ، اور خادم کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، دشمن کو کمزور کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوعبیداللہ ابوایوب رقی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8584
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2965)»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللِّبَاسُ تُظْهِرُ الْغِنَى ، وَالدُّهْنُ يُذْهِبُ الْبُؤْسَ ، وَالْإِحْسَانُ إِلَى الْمَمْلُوكِ يَكْبِتُ اللَّهُ بِهِ الْعَدُوَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ الْكُلَاعِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لباس خوشحالی ظاہر کرتا ہے ، تیل برے حال ( یا خشکی ) کو ختم کر دیتا ہے ، اور غلام کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دشمن کو کمزور کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن عبدالقدوس کلاعی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8585
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ رَثُّ الْهَيْئَةِ فَقَالَ : " هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ ؟ " قَالَ : بَلْ كُلُّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ . قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَلْيُرَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحازم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کا ظاہری حلیہ خراب تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے پاس مال ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : ہر قسم کا مال ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ گائے بکریاں عطا کی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے پاس مال موجود ہو ، تو اس ( مال ) کا اثر اس پر نظر آنا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یزید بن ابوبردہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8586
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشْعَثَ أَغْبَرَ فِي هَيْئَةِ أَعْرَابِيٍّ ، فَقَالَ لَهُ : " مَا لَكَ مِنَ الْمَالِ ؟ " فَقَالَ : مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ : " إِذَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى الْعَبْدِ نِعْمَةً أَحَبَّ أَنْ تُرَى عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابواحوص اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دیہاتی کے حلیے میں بکھرے ہوئے غبار آلود بالوں کے ساتھ حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ انہوں نے عرض کی : ہر قسم کا مال اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ بندے کو نعمت عطا کرتا ہے ، تو وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ نعمت اس پر نظر بھی آئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8587
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (489)»
وَعَنْ كُرَيْبِ بْنِ أَبْرَهَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ مِنَ الْكِبْرِ شَيْءٌ الْجَنَّةَ " . ¤ قَالَ : فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَتَجَمَّلَ بِسَيْرِ سَوْطِي وَشِسْعِ نَعْلِي . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِالْكِبْرِ ، إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ ، إِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
کریب بن ابرہہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تکبر میں سے کوئی چیز جنت میں داخل نہیں ہو گی ( یعنی تکبر کرنے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ) ۔ راوی کہتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ بات پسند کرتا ہوں کہ میری سوٹی عمدہ ہونی چاہیے اور میرے جوتے کا تسمہ عمدہ ہونا چاہیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ تکبر نہیں ہے بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے ، اور جمال کو پسند کرتا ہے تکبر اس شخص کا ہوتا ہے جو حق کا انکار کرے اور لوگوں کو اپنی نظر میں کمتر سمجھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8588
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (133/4)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَحَبَ ثِيَابَهُ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ " . فَقَالَ أَبُو رَيْحَانَةَ : وَاللَّهِ لَقَدْ أَمْرَضَنِي مَا حَدَّثْتَنَا بِهِ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ حَتَّى إِنِّي أَجْعَلُهُ فِي شِرَاكِ نَعْلِي وَعَلَاقِ سَوْطِي ، أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَّالَ ، وَيُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عِيسَى الدِّمَشْقِيُّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اپنے کپڑے کو ، ( تکبر کے طور پر لٹکا کر ) زمین پر گھسیٹے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا “ ۔ تو سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ نے جو ہمیں حکم ارشاد فرمایا ہے : اللہ کی قسم ! اس نے ہمیں بیمار کر دیا اللہ کی قسم ! میں ، تو جمال کو پسند کرتا ہوں یہاں تک کہ میں اپنے جوتے کے تسمے اور اپنی لاٹھی کے دستے میں بھی عمدگی چاہتا ہوں ، تو کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے وہ جمال کو پسند کرتا ہے ، اور یہ بات پسند کرتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر وہ اپنے بندے پر دیکھے لیکن تکبر یہ ہے کہ جو شخص حق سے منہ موڑے اور لوگوں کو کمتر سمجھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عیسیٰ دمشقی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8589
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ يَكُونَ لِي الْحُلَّةُ فَأَلْبَسُهَا ؟ قَالَ : " لَا " . قُلْتُ : أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ تَكُونَ لِي رَاحِلَةٌ فَأَرْكَبُهَا ؟ قَالَ : " لَا " . قُلْتُ : أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ أَصْنَعَ طَعَامًا فَأَدْعُوَ أَصْحَابِي ؟ قَالَ : " لَا . الْكِبْرُ أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ ، وَتَغْمِصَ النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي وَصِيَّةِ نُوحٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فِي الْوَصَايَا وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ بات تکبر میں شامل ہے کہ میرے پاس حلہ ہو ، جسے میں پہن لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں نے عرض کی : کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہے کہ میرے پاس سواری ہو کہ جس پر میں سوار ہو جاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں نے عرض کی : کیا یہ بات تکبر میں شامل ہے کہ میں کھانا تیار کروں ، اور اپنے دوستوں کی دعوت کر دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تکبر یہ ہے کہ تم حق کا انکار کرو اور لوگوں کو کمتر سمجھو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے جو اس سے پہلے سیدنا نوح علیہ السلام کی وصیت والے باب میں کتاب الوصایا میں گزر چکی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8590
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2966)»
وَعَنِ الْحُسَيْنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا النَّجِيبَةُ الْفَارِهَةُ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : فَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا الْحُلَّتَانِ الْحَسَنَتَانِ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : فَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ أَتَّخِذَ طَعَامًا فَأَدْعُوَ قَوْمِي فَيَمْشُونَ خَلْفِي وَيَأْكُلُونَ عِنْدِي ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : فَمَا الْكِبْرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ ، وَتَغْمِصَ النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
حسین نامی راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہے کہ ہم میں سے کسی ایک کے پاس عمدہ قسم کی اونٹنی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں انہوں نے عرض کی : کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس دو عمدہ قسم کے حلے ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں انہوں نے عرض کی : کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہے کہ میں کھانا تیار کروں ، اور اپنی قوم کی دعوت دوں وہ میرے پیچھے چلتے ہوئے آئیں اور میرے ہاں کھانا کھائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر تکبر کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ کہ تم حق سے روگردانی کرو اور لوگوں کو حقیر سمجھو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8591
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2898)»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ ، فَبَيْنَا أَنَا نَازِلٌ مَعَهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، إِذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلُمَّ إِلَى الظِّلِّ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْتُ فِي السُّفْرَةِ جَرْوَ قِثَّاءٍ ، فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا ؟ " فَذَكَرَ كَلِمَةً ، ثُمَّ أَدْبَرَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ قَدْ خَلَقَا فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَمَا لَهُ ثَوْبَانِ غَيْرُ هَذَيْنِ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُ ثَوْبَانِ فِي الْعَيْبَةِ كَسَوْتَهُ إِيَّاهُمَا . قَالَ : " فَادْعُهُ فَمُرْهُ فَلْيَلْبَسْهُمَا " فَدَعَوْتُهُ فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ وَلَّى يَذْهَبُ ، فَقَالَ : " مَا لَهُ ؟ ضَرَبَ اللَّهُ عُنُقَهُ أَلَيْسَ هَذَا خَيْرٌ " . فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَرَجَعَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . فَقُتِلَ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ وَقَالَ فِيهِ : " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا ؟ " . فَقُلْتُ : مِنَ الْمَدِينَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے ایک مرتبہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سائے کی طرف آ جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے میں نے تھیلے میں ایک چھوٹی ککڑی پائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی ہے پھر راوی نے ایک کلمہ ذکر کیا پھر ایک شخص مڑ کے چلا گیا اس کے جسم پر دو کپڑے تھے جو پرانے ہو چکے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا کیا اس کے پاس اس کے علاوہ کپڑے نہیں ہیں ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے پاس تھیلے میں دو کپڑے ہیں جو آپ نے اسے پہننے کے لئے دیے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے بلاؤ اور اسے کہو کہ وہ ان کو پہنے میں نے اس شخص کو بلایا اس نے ان دونوں کو پہن لیا اور پھر وہ مڑ کر چلا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے کیا ہوا ہے ؟ اللہ تعالیٰ اس کی گردن مار دے کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہے اس شخص نے یہ بات سنی ، تو وہ واپس آیا اور عرض کی : کیا اللہ کی راہ میں ( میری گردن اتاری جائے گی ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی راہ میں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو وہ شخص اللہ کی راہ میں شہید ہوا ۔
یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام مالک نے ” موطا “ میں نقل کی ہے ۔ اور اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہ تم لوگوں کے پاس کہاں سے آئی ہے ؟ میں نے عرض کی : مدینہ سے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8592
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2962,2963,2964)»
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : رَآنِي أَبِي فِي يَدِي سَوْطٌ لَا عَلَاقَةَ لَهُ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " أَحْسِنْ عَلَاقَةَ سَوْطِكَ فَإِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
عثمان بن محمد بن قیس بیان کرتے ہیں : میرے والد نے میرے ہاتھ میں ایسی چھڑی دیکھی جس کا علاقہ ( لٹکانے والا حصہ ) نہیں تھا انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : ” اپنی چھڑی کے علاقہ کو اچھا رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے ، اور جمال کو پسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8593
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (366/18)»
وَعَنْ سَوَادِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ حُبِّبَ إِلَيَّ الْجَمَالُ وَأُعْطِيتُ مِنْهُ مَا تَرَى فَمَا أُحِبُّ أَنْ يَفُوقَنِي أَحَدٌ فِي شِسْعِ [ نَعْلِي ] - أَوْ قَالَ : شِرَاكُ نَعْلِي - أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ ؟ قَالَ : " لَا " . قُلْتُ : فَمَا الْكِبْرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَنْ سَفَّهَ الْحَقَّ ، وَغَمَصَ النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سواد بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میرے نزدیک جمال کو پسندیدہ کر دیا گیا ہے ، اور مجھے اس میں سے جو کچھ دیا گیا ہے وہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بات بھی پسند نہیں ہے کہ کسی کے جوتے کا تسمہ میرے جوتے کے تسمے سے زیادہ اچھا ہو یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر تکبر کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو حق سے روگردانی کرے اور لوگوں کو حقیر سمجھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8594
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6477)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے ، اور وہ جمال کو پسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8595
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9762)»
وَعَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : ذُكِرَ الْكِبْرُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَدَّدَ فِيهِ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لِأَغْسِلُ ثِيَابِي فَيُعْجِبُنِي بَيَاضُهَا ، وَيُعْجِبُنِي شِرَاكُ نَعْلِي ، وَعَلَاقُ سَوْطِي ؟ فَقَالَ : " لَيْسَ ذَاكَ الْكِبْرُ ، إِنَّمَا الْكِبْرُ أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ ، وَتَغْمِصَ النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ بِالشَّوَاهِدِ الْتِي تَقَدَّمَتْ فِي هَذَا الْبَابِ وَلَكِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ ثَابَتٍ . ¤ قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي الْكِبَارِ فِي الْإِيمَانِ وَطُرُقٌ فِي الزُّهْدِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تکبر کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس بارے میں سختی کا اظہار کیا اور ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ ہر متکبر فخر کرنے والے شخص کو پسند نہیں کرتا حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں اپنے کپڑے دھوتا ہوں ، تو مجھے ان کی سفیدی اچھی لگتی ہے ، اور مجھے اپنے جوتے کا تسمہ اچھا لگتا ہے ، اور مجھے اپنی لاٹھی کا علاقہ ( لٹکانے کی جگہ ) اچھا لگتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ چیز تکبر نہیں ہے ، تکبر یہ ہے کہ تم حق سے رو گردانی کرو اور لوگوں کو حقیر سمجھو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس ک سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلیٰ ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس کی نقل کردہ حدیث ان شواہد کی بنیاد پر حسن ہے جو اس سے پہلے اس باب میں گزر چکے ہیں ، البتہ عبدالرحمن نامی راوی نے سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس روایت کا ایک طریق سورت نساء سے متعلق باب میں بھی ہے اس روایت کے مختلف طرق ہیں جو کتاب الایمان میں گزر چکے ہیں اور اس کے کچھ طرق کتاب الزہد میں ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8596
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف ولکن حدیث حسن بشواھدہ
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3578) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1317)»
وَعَنْ نُفَيْعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ أَجْوَدِ النَّاسِ ثَوْبًا أَبْيَضَ وَمِنْ أَطْيَبِ النَّاسِ رِيحًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَنُفَيْعٌ هَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ ، وَكَذَلِكَ سُلَيْمَانُ بْنُ مِينَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي حَاتِمٍ قَالَ : لَمْ يَسْمَعِ الْمَسْعُودِيُّ مِنْ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ . وَأَبُو نُعَيْمٍ سَمِعَ الْمَسْعُودِيَّ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے غلام نفیح بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ عمدہ سفید کپڑا پہنتے تھے اور سب سے زیادہ پاکیزہ خوشبو لگاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ نفیع نامی اس راوی کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر جرح نہیں کی ہے اسی طرح سلیمان بن میناء ایک راوی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوحاتم نے یہ کہا: ہے کہ مسعودی نے سلیمان سے سماع نہیں کیا ، تو
یہ روایت مرسل ہے ۔ ابونعیم نے مسعودی سے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے سماع کیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8597
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9176)»
وَعَنِ جَابِرٍ أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ اشْتَرَى رِدَاءً بِأَلْفٍ ، وَكَانَ يُصَلِّي فِيهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے ایک چادر ایک ہزار کے عوض میں خریدی تھی وہ اس میں نماز ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8598
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1248)»