مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ إِظْهَارِ النِّعَمِ وَاللِّبَاسِ الْحَسَنِ . باب: نعمت کا اظہار کرنا اور عمدہ لباس پہننا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَحَبَ ثِيَابَهُ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ " . فَقَالَ أَبُو رَيْحَانَةَ : وَاللَّهِ لَقَدْ أَمْرَضَنِي مَا حَدَّثْتَنَا بِهِ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ حَتَّى إِنِّي أَجْعَلُهُ فِي شِرَاكِ نَعْلِي وَعَلَاقِ سَوْطِي ، أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَّالَ ، وَيُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عِيسَى الدِّمَشْقِيُّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اپنے کپڑے کو ، ( تکبر کے طور پر لٹکا کر ) زمین پر گھسیٹے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا “ ۔ تو سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ نے جو ہمیں حکم ارشاد فرمایا ہے : اللہ کی قسم ! اس نے ہمیں بیمار کر دیا اللہ کی قسم ! میں ، تو جمال کو پسند کرتا ہوں یہاں تک کہ میں اپنے جوتے کے تسمے اور اپنی لاٹھی کے دستے میں بھی عمدگی چاہتا ہوں ، تو کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے وہ جمال کو پسند کرتا ہے ، اور یہ بات پسند کرتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر وہ اپنے بندے پر دیکھے لیکن تکبر یہ ہے کہ جو شخص حق سے منہ موڑے اور لوگوں کو کمتر سمجھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عیسیٰ دمشقی ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔