حدیث نمبر: 8590
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ يَكُونَ لِي الْحُلَّةُ فَأَلْبَسُهَا ؟ قَالَ : " لَا " . قُلْتُ : أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ تَكُونَ لِي رَاحِلَةٌ فَأَرْكَبُهَا ؟ قَالَ : " لَا " . قُلْتُ : أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ أَصْنَعَ طَعَامًا فَأَدْعُوَ أَصْحَابِي ؟ قَالَ : " لَا . الْكِبْرُ أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ ، وَتَغْمِصَ النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي وَصِيَّةِ نُوحٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فِي الْوَصَايَا وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ بات تکبر میں شامل ہے کہ میرے پاس حلہ ہو ، جسے میں پہن لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں نے عرض کی : کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہے کہ میرے پاس سواری ہو کہ جس پر میں سوار ہو جاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں نے عرض کی : کیا یہ بات تکبر میں شامل ہے کہ میں کھانا تیار کروں ، اور اپنے دوستوں کی دعوت کر دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تکبر یہ ہے کہ تم حق کا انکار کرو اور لوگوں کو کمتر سمجھو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے جو اس سے پہلے سیدنا نوح علیہ السلام کی وصیت والے باب میں کتاب الوصایا میں گزر چکی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8590
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2966)»