حدیث نمبر: 8583
وَعَنْ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الضَّبْعِيِّ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ سَيِّئُ الْهَيْئَةِ فَقَالَ : " أَلَكَ مَالٌ ؟ " قَالَ : نَعَمْ مِنْ كُلِّ أَنْوَاعِ الْمَالِ . قَالَ : " فَلْيُرَ عَلَيْكَ ، فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَهُ عَلَى عَبْدِهِ حَسَنًا ، وَلَا يُحِبُّ الْبُؤْسَ وَلَا التَّبَؤُّسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَتَرْجَمَ لِزُهَيْرٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زہیر بن ابوعلقمہ ضعبی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص برے حال میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! ہر قسم کا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر وہ تم پر نظر آنا چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اس کا اثر اپنے بندے پر اچھی حالت میں دیکھے ، وہ برے حال اور برا حال اختیار کرنے کو پسند نہیں کرتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے سیدنا زہیر کے ( نام کا عنوان قائم کیا ہے ) ، اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8583
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراتي في المعجم الكبير (5508)»