مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ إِظْهَارِ النِّعَمِ وَاللِّبَاسِ الْحَسَنِ . باب: نعمت کا اظہار کرنا اور عمدہ لباس پہننا
وَعَنِ الْحُسَيْنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا النَّجِيبَةُ الْفَارِهَةُ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : فَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا الْحُلَّتَانِ الْحَسَنَتَانِ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : فَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ أَتَّخِذَ طَعَامًا فَأَدْعُوَ قَوْمِي فَيَمْشُونَ خَلْفِي وَيَأْكُلُونَ عِنْدِي ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : فَمَا الْكِبْرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ ، وَتَغْمِصَ النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤حسین نامی راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہے کہ ہم میں سے کسی ایک کے پاس عمدہ قسم کی اونٹنی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں انہوں نے عرض کی : کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس دو عمدہ قسم کے حلے ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں انہوں نے عرض کی : کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہے کہ میں کھانا تیار کروں ، اور اپنی قوم کی دعوت دوں وہ میرے پیچھے چلتے ہوئے آئیں اور میرے ہاں کھانا کھائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر تکبر کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ کہ تم حق سے روگردانی کرو اور لوگوں کو حقیر سمجھو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔