حدیث نمبر: 8594
وَعَنْ سَوَادِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ حُبِّبَ إِلَيَّ الْجَمَالُ وَأُعْطِيتُ مِنْهُ مَا تَرَى فَمَا أُحِبُّ أَنْ يَفُوقَنِي أَحَدٌ فِي شِسْعِ [ نَعْلِي ] - أَوْ قَالَ : شِرَاكُ نَعْلِي - أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ ؟ قَالَ : " لَا " . قُلْتُ : فَمَا الْكِبْرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَنْ سَفَّهَ الْحَقَّ ، وَغَمَصَ النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سواد بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میرے نزدیک جمال کو پسندیدہ کر دیا گیا ہے ، اور مجھے اس میں سے جو کچھ دیا گیا ہے وہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بات بھی پسند نہیں ہے کہ کسی کے جوتے کا تسمہ میرے جوتے کے تسمے سے زیادہ اچھا ہو یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو کیا یہ چیز تکبر میں شامل ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر تکبر کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو حق سے روگردانی کرے اور لوگوں کو حقیر سمجھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8594
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6477)»