مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ إِظْهَارِ النِّعَمِ وَاللِّبَاسِ الْحَسَنِ . باب: نعمت کا اظہار کرنا اور عمدہ لباس پہننا
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ ، فَبَيْنَا أَنَا نَازِلٌ مَعَهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ ، إِذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلُمَّ إِلَى الظِّلِّ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْتُ فِي السُّفْرَةِ جَرْوَ قِثَّاءٍ ، فَقَالَ : " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا ؟ " فَذَكَرَ كَلِمَةً ، ثُمَّ أَدْبَرَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ قَدْ خَلَقَا فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَمَا لَهُ ثَوْبَانِ غَيْرُ هَذَيْنِ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهُ ثَوْبَانِ فِي الْعَيْبَةِ كَسَوْتَهُ إِيَّاهُمَا . قَالَ : " فَادْعُهُ فَمُرْهُ فَلْيَلْبَسْهُمَا " فَدَعَوْتُهُ فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ وَلَّى يَذْهَبُ ، فَقَالَ : " مَا لَهُ ؟ ضَرَبَ اللَّهُ عُنُقَهُ أَلَيْسَ هَذَا خَيْرٌ " . فَسَمِعَهُ الرَّجُلُ فَرَجَعَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . فَقُتِلَ الرَّجُلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ وَقَالَ فِيهِ : " مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا ؟ " . فَقُلْتُ : مِنَ الْمَدِينَةِ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے ایک مرتبہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سائے کی طرف آ جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے میں نے تھیلے میں ایک چھوٹی ککڑی پائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی ہے پھر راوی نے ایک کلمہ ذکر کیا پھر ایک شخص مڑ کے چلا گیا اس کے جسم پر دو کپڑے تھے جو پرانے ہو چکے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا کیا اس کے پاس اس کے علاوہ کپڑے نہیں ہیں ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے پاس تھیلے میں دو کپڑے ہیں جو آپ نے اسے پہننے کے لئے دیے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے بلاؤ اور اسے کہو کہ وہ ان کو پہنے میں نے اس شخص کو بلایا اس نے ان دونوں کو پہن لیا اور پھر وہ مڑ کر چلا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے کیا ہوا ہے ؟ اللہ تعالیٰ اس کی گردن مار دے کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہے اس شخص نے یہ بات سنی ، تو وہ واپس آیا اور عرض کی : کیا اللہ کی راہ میں ( میری گردن اتاری جائے گی ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی راہ میں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو وہ شخص اللہ کی راہ میں شہید ہوا ۔
یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام مالک نے ” موطا “ میں نقل کی ہے ۔ اور اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہ تم لوگوں کے پاس کہاں سے آئی ہے ؟ میں نے عرض کی : مدینہ سے “ ۔