عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَأْخُذَ مَالَ أَخِيهِ بِغَيْرِ حَقٍّ ، وَذَلِكَ لِمَا حَرَّمَ اللَّهُ مَالَ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کا مال ناحق طور پر حاصل کرے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مسلمان کے مال کو دوسرے مسلمان پر حرام قرار دیا ہے “ ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا أَخِيهِ بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ " ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” مسلمان کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے ، کہ وہ اپنے بھائی کا عصا اس کی مرضی کے بغیر حاصل کرے “ ۔
وَفِي رِوَايَةٍ " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” مسلمان کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ عصا حاصل کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَلَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ رَأَيْتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّي أَجْتَزِرُ مِنْهَا شَاةً ؟ قَالَ : " إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَزِنَادًا بِخَبْتِ الْجَمِيشِ فَلَا تَهْجِهَا " . ¤ قَالَ : - يَعْنِي : بِخَبْتِ الْجَمِيشِ : أَرْضًا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْجَارِ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ . كَذَا عِنْدَهُ بِجَنْبِ ، وَلَمْ يَقُلْ بِخَبْتٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن یثربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” خبردار ! کسی شخص کے لئے اس کے بھائی کے مال میں سے کوئی چیز حلال نہیں ہے ، البتہ جو اس کی رضامندی سے ہو ، اس کا حکم مختلف ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر میں اپنے چچازاد کی بکریاں دیکھتا ہوں ، تو کیا میں ان میں سے ایک بکری لے سکتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اسے ایسی حالت میں ملتے ہو کہ وہ بھیڑ ہو اور تم نے ” خبط الجمیش “ میں چھری اور لکڑی ( یا پتھر ) اٹھایا ہوا ہو ، تو پھر بھی تم اس کا قصد نہ کرو ! راوی کہتے ہیں : اس سے مراد ” خبط الجمیش “ ہے ، جو مکہ اور جار کے درمیان ایک جگہ ہے ، وہاں کوئی نہیں ہوتا ، اسی طرح اس کے پہلو میں بھی کوئی نہیں ہوتا ، انہوں نے لفظ ” حبت “ استعمال نہیں کیا ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ خُطْبَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى فَكَانَ فِيمَا خَطَبَ بِهِ أَنْ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ " . قَالَ : فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنَ عَمِّي - فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ مِنْ زِيَادَاتِهِ أَيْضًا ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ : بِخَبْتٍ عَلَى الصَّوَابِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں سیدنا عمرو بن یثربی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے منی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ نے خطبہ میں یہ بات ارشاد فرمائی : کسی مسلمان کے لئے اس کے بھائی کے مال میں سے کوئی چیز حلال نہیں ہے ، البتہ اس چیز کا معاملہ مختلف ہے ، جو وہ اپنی خوشی سے دے ، راوی کہتے ہیں : جب میں نے یہ بات سنی ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں اپنے چچازاد کی بکریوں سے ملتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور ان کے صاحبزادے اپنی ” زیادات “ میں نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے لفظ ” حبت “ نقل کیا ہے ، جو درست ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور ان کے صاحبزادے اپنی ” زیادات “ میں نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے لفظ ” حبت “ نقل کیا ہے ، جو درست ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُسْلِمُ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَعِرْضُهُ وَمَالُهُ . الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ ، وَلَا يَخْذُلُهُ . التَّقْوَى هَاهُنَا " وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْقَلْبِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ایک مسلمان کی جان عزت اور مال دوسرے مسلمان کے لئے قابل احترام ہیں ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے وہ اس پر ظلم نہیں کرتا ، وہ اسے رسوا نہیں کرتا تقویٰ یہاں ہوتا ہے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے ذریعے دل کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حُرْمَةُ مَالِ الْمُسْلِمِ كَحُرْمَةِ دَمِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ، وَلَكِنَّهُ رَوَاهُ فِي حَدِيثٍ : " سُبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " . وَرِجَالُ الْبَزَّارِ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ الْأَزْدِيُّ : مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسلمان کے مال کی حرمت ، اس کی جان کی حرمت کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن دینار ہے ، جسے ابن حبان اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، تاہم انہوں نے یہ ایک حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے : ” مسلمان کو برا کہنا فسق ہے ، اور اس سے قتال کفر ہے “ ۔ امام بزار کے رجال میں عمرو بن عثمان کلابی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی کہتے ہیں : یہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن دینار ہے ، جسے ابن حبان اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، تاہم انہوں نے یہ ایک حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے : ” مسلمان کو برا کہنا فسق ہے ، اور اس سے قتال کفر ہے “ ۔ امام بزار کے رجال میں عمرو بن عثمان کلابی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی کہتے ہیں : یہ متروک ہے ۔
وَعَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . وَأَبُو حُرَّةَ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
ابوحرہ رقاشی ، اپنے چچا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسلمان شخص کا مال ، اس کی رضا مندی کے بغیر حلال نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ابوحرہ کو امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے انہیں ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ابوحرہ کو امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے انہیں ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ طَالِبِ بْنِ سُلْمَى بْنِ عَاصِمِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ : حَدَّثَنِي بَعْضُ أَهْلِي أَنَّ جَدِّي حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي خُطْبَةٍ، فَقَالَ : " أَلَا إِنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ فِي هَذَا الْيَوْمِ . أَلَا فَلَا أَعْرِفَنَّكُمْ تَرْجِعُونَ بِعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ . أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَنْ أَلْقَاكُمْ أَبَدًا بَعْدَ الْيَوْمِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَطَالِبٌ وَشَيْخُهُ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمْ . ¤ وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الْفِتَنِ ، وَغَيْرِهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
طالب بن سلمیٰ بن عاصم بن حکم بیان کرتے ہیں : میرے اہل خانہ میں سے کسی نے مجھے یہ بات بتائی کہ میرے دادا نے ان لوگوں کو یہ بات بتائی تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ میں موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خبردار ! تمہارے اموال ، تمہاری جانیں ایک دوسرے کے لئے قابل احترام ہیں ، جس طرح اس دن میں ، یہ شہر قابل احترام ہے ، خبردار ! میں تم لوگوں کو ایسی حالت میں نہ پاؤں ، کہ تم میرے بعد دوبارہ کافر بن جاؤ اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو خبردار ! تم میں سے موجود شخص غیر موجود تک تبلیغ کر دے ، مجھے نہیں معلوم ہو سکتا ہے آج کے دن کے بعد میری تم سے ملاقات نہ ہو ، اے اللہ ! ان لوگوں پر گواہ ہو جا ، اے اللہ ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، طالب نامی راوی اور اس کے استاد کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس نوعیت کی دیگر احادیث ، فتنوں سے متعلق باب میں اور دیگر ابواب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، طالب نامی راوی اور اس کے استاد کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، اس نوعیت کی دیگر احادیث ، فتنوں سے متعلق باب میں اور دیگر ابواب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَأْخُذْ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ صَاحِبِهِ لَاعِبًا ، وَلَا جَادًّا . وَإِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ صَاحِبِهِ فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي السُّنَنِ مِنْ رِوَايَةِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَتِهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ السَّائِبِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” تم میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کا سامان مذاق یا سنجیدگی کے طور پر حاصل نہ کرے ، اور جب کسی نے اپنے ساتھی کی کوئی چیز لے لی ہو ، تو وہ اُسے واپس کر دے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” سنن “ میں سائب کی اپنے والد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ان کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بن سائب ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ” سنن “ میں سائب کی اپنے والد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ان کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یزید بن سائب ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔