مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ الْغَصْبِ وَحُرْمَةِ مَالِ الْمُسْلِمِ . باب: غصب کا بیان ، مسلمان کے مال کی حرمت کا بیان
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَلَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ رَأَيْتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّي أَجْتَزِرُ مِنْهَا شَاةً ؟ قَالَ : " إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَزِنَادًا بِخَبْتِ الْجَمِيشِ فَلَا تَهْجِهَا " .
قَالَ : - يَعْنِي : بِخَبْتِ الْجَمِيشِ : أَرْضًا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْجَارِ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ . كَذَا عِنْدَهُ بِجَنْبِ ، وَلَمْ يَقُلْ بِخَبْتٍ .
سیدنا عمرو بن یثربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” خبردار ! کسی شخص کے لئے اس کے بھائی کے مال میں سے کوئی چیز حلال نہیں ہے ، البتہ جو اس کی رضامندی سے ہو ، اس کا حکم مختلف ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر میں اپنے چچازاد کی بکریاں دیکھتا ہوں ، تو کیا میں ان میں سے ایک بکری لے سکتا ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اسے ایسی حالت میں ملو کہ وہ بھیڑ ” خبط الجمیش “ میں چھری اور چقماق اٹھائے ہوئے ہو ، تو پھر بھی تم اسے نہ چھیڑو ! راوی کہتے ہیں : اس سے مراد ” خبط الجمیش “ ہے ، جو مکہ اور جار کے درمیان ایک جگہ ہے ، وہاں کوئی نہیں ہوتا ، امام أحمد کی روایت میں اسی طرح لفظ ” بجنب “ ہے ، انہوں نے لفظ ” بخبت “ استعمال نہیں کیا ۔