مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ الْغَصْبِ وَحُرْمَةِ مَالِ الْمُسْلِمِ . باب: غصب کا بیان ، مسلمان کے مال کی حرمت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حُرْمَةُ مَالِ الْمُسْلِمِ كَحُرْمَةِ دَمِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ، وَلَكِنَّهُ رَوَاهُ فِي حَدِيثٍ : " سُبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " . وَرِجَالُ الْبَزَّارِ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ الْأَزْدِيُّ : مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسلمان کے مال کی حرمت ، اس کی جان کی حرمت کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن دینار ہے ، جسے ابن حبان اور ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، تاہم انہوں نے یہ ایک حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے : ” مسلمان کو برا کہنا فسق ہے ، اور اس سے قتال کفر ہے “ ۔ امام بزار کے رجال میں عمرو بن عثمان کلابی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ازدی کہتے ہیں : یہ متروک ہے ۔