حدیث نمبر: 6863
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ خُطْبَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى فَكَانَ فِيمَا خَطَبَ بِهِ أَنْ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ " . قَالَ : فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنَ عَمِّي - فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ مِنْ زِيَادَاتِهِ أَيْضًا ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ : بِخَبْتٍ عَلَى الصَّوَابِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں سیدنا عمرو بن یثربی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے منی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ نے خطبہ میں یہ بات ارشاد فرمائی : کسی مسلمان کے لئے اس کے بھائی کے مال میں سے کوئی چیز حلال نہیں ہے ، البتہ اس چیز کا معاملہ مختلف ہے ، جو وہ اپنی خوشی سے دے ، راوی کہتے ہیں : جب میں نے یہ بات سنی ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں اپنے چچازاد کی بکریوں سے ملتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور ان کے صاحبزادے اپنی ” زیادات “ میں نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے لفظ ” حبت “ نقل کیا ہے ، جو درست ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6863
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح