عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوِ اثْنَانِ ؟ فَقَالَ : " أَوِ اثْنَانِ " ، قَالُوا : أَوْ وَاحِدٌ ؟ قَالَ : " أَوْ وَاحِدٌ " ، ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ السَّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسُرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : إِنَّ السَّقْطَ . . . إِلَى آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَّحَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جن بھی دو مسلمان ( میاں بیوی ) کی اولاد میں سے دو بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان دونوں ( بچوں ) پر اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے ان دونوں ( میاں بیوی ) کو جنت میں داخل کر دے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر دو ہوئے ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر دو ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) لوگوں نے عرض کی : اگر ایک ہوا ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر ایک ہوا ہو ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مردہ پیدا ہونے والا بچہ بھی اپنی نال کے ذریعے اپنی ماں کو کھینچ کر جنت کی طرف لے جائے گا جب کہ اس عورت نے اس بچے کے حوالے سے ثواب کی امید رکھی ہو “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں یہ حصہ نقل کیا ہے : ” بے شک مردہ پیدا ہونے والا بچہ “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے لے کے آخر تک کا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبیداللہ تیمی ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق یا اس پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں یہ حصہ نقل کیا ہے : ” بے شک مردہ پیدا ہونے والا بچہ “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے لے کے آخر تک کا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبیداللہ تیمی ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق یا اس پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ حَسَّانَ بْنِ كُرَيْبٍ أَنْ غُلَامًا مِنْهُمْ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ أَبَوَاهُ أَشَدَّ الْوَجْدِ ، فَقَالَ حَوْشَبٌ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ ابْنِكَ ؟ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ كَانَ لَهُ ابْنٌ قَدْ أَدَبَّ أَوْ دَبَّ ، وَكَانَ يَأْتِي مَعَ أَبِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ أَبُوهُ قَرِيبًا مِنْ سِتَّةِ أَيَّامٍ لَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَرَى فُلَانًا ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا فُلَانُ ، أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ اِلْآنَ كَأَنْشَطِ الصِّبْيَانِ نَشَاطًا ؟ أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ أَجْرَأُ الْغِلْمَانِ جَرَاءَةً ؟ أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ كَهْلًا كَأَفْضَلِ الْكُهُولِ ؟ أَوْ يُقَالُ لَكَ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ثَوَابَ مَا أُخِذَ مِنْكَ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
حسان بن کریب بیان کرتے ہیں : ان کا ایک بچہ فوت ہو گیا بچے کے ماں باپ کو بہت شدید صدمہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا حوشب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو وہ بیان کروں ؟ جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، تمہارے بیٹے کی طرح ایک بچے کے فوت ہونے پر آپ نے وہ بات ارشاد فرمائی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کا ایک بیٹا تھا جو گھٹنوں کے بل چلتا تھا ، وہ اپنے والد کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا پھر اس بچے کا انتقال ہو گیا اس بچے کے انتقال کے غم کی وجہ سے وہ صاحب چھ دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں فلاں شخص کو نہیں دیکھ رہا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے ، تو وہ اس کے حوالے سے غمگین ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا : اے فلاں ! کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہارا بچہ اس وقت تمہارے پاس موجود ہوتا اور سب سے زیادہ چاک و چوبند ہوتا یا پھر تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہارا بیٹا تمہارے پاس ہوتا اور وہ سب سے زیادہ جرات والا بچہ ہوتا ، کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہارا بیٹا تمہارے پاس ہوتا اور سب سے زیادہ ادھیڑ عمری تک پہنچتا ، یا پھر یہ ہے کہ تم سے یہ کہا: جائے : تم سے جو چیز واپس لی گئی ہے ، اس کے ثواب میں تم جنت میں داخل ہو جاؤ“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتُحِبُّهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ . فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَا فَعَلَ فَلَانُ بْنُ فُلَانٍ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاتَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ : " أَلَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِكُلِّنَا ؟ قَالَ : " بَلْ لِكُلِّكُمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارِ قَوْلِ الرَّجُلِ : أَلَهُ خَاصَّةً ؟ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قره بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا اس کے ساتھ اس کا بیٹا ہوتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس سے محبت رکھتے ہو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں اللہ تعالیٰ بھی آپ سے اس طرح محبت رکھے جس طرح میں اس سے محبت رکھتا ہوں پھر ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو غیر موجود پا کر دریافت کیا : فلاں بن فلاں کا کیا حال ہے ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا انتقال ہو گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کے باپ سے فرمایا کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے ہو کہ تم جنت کے جس بھی دروازے پر آؤ تو اس بچے کو اس دروازے پر پاؤ کہ ” تمہارا انتظار کر رہا ہو ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ اس کے لئے مخصوص ہے ، یا ہم سب کے لئے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( جی نہیں ) بلکہ یہ تم سب کے لئے ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جس میں آدمی کے یہ الفاظ ہیں : ” کیا یہ اس کے لئے مخصوص ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جس میں آدمی کے یہ الفاظ ہیں : ” کیا یہ اس کے لئے مخصوص ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا مَرِيضٌ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَ ابْنِي هَذَا . قَالَ : فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكِ فَرَطٌ " . قَالَتْ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ فِي الْإِسْلَامِ ؟ " . قَالَتْ : بَلْ فِي الْإِسْلَامِ . قَالَ : " جُنَّةٌ حَصِينَةٌ جُنَّةٌ حَصِينَةٌ ، [جُنَّةٌ حَصِينَةٌ ] " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ النَّاجِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا جو بیمار تھا اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ میرے اس بیٹے کو شفاء نصیب کرے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا : کیا تمہارا کوئی بچہ فوت ہو چکا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : زمانہ جاہلیت میں ہوا تھا یا زمانہ اسلام میں ہوا تھا ؟ اس نے عرض کی : زمانہ اسلام میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ مضبوط ڈھال ہے یہ مضبوط ڈھال ہے یہ مضبوط ڈھال ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ ناجی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ ناجی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دَفَنَ ثَلَاثَةً فَصَبْرَ عَلَيْهِمْ وَاحْتَسَبَ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ : وَاثْنَيْنِ ؟ قَالَ : " مَنْ دَفَنَ اثْنَيْنِ فَصَبَرَ عَلَيْهِمَا وَاحْتَسَبَهُمَا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ : وَوَاحِدٌ ؟ فَسَكَتَ وَأَمْسَكَ ثُمَّ قَالَ : " يَا أُمَّ أَيْمَنَ مَنْ دَفَنَ وَاحِدًا فَصَبَرَ عَلَيْهِ وَاحْتَسَبَهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے تین بچے دفن کر دے ( یعنی جس کے تین بچے فوت ہو جائیں ) اور وہ ان پر صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اگر دو ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو دو ( بچے ) دفن کرے اور ان پر صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی سید ام ایمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اگر ایک ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور رک گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے ام ایمن ! جو شخص ایک ( بچے ) کو دفن کرے اور صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ابوعبداللہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ابوعبداللہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهُ ابْنٌ يَرُوحُ إِذَا رَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَقَالَ : " أَتُحِبُّهُ ؟ " فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَعَمْ ، فَأَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ . فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَشَدُّ لِي حُبًّا مِنْكَ لَهُ " . فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَ ابْنُهُ ذَاكَ ، فَرَاحَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَقْبَلَ عَلَيْهِ ابْنُهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجَزِعْتَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ يَكُونَ ابْنُكَ مَعَ ابْنِي إِبْرَاهِيمَ يُلَاعِبُهُ تَحْتَ ظِلِّ الْعَرْشِ ؟ " . قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، فَإِنْ كَانَ إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ فَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، الظَّاهِرُ أَنَّهُ هُوَ وَلَمْ أَجِدْ مِنِ اسْمِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عُبَيْدٍ فِي التَّابِعِينَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا ایک بیٹا تھا وہ شخص جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا ، تو وہ بچہ بھی ساتھ آتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا : کیا تم اس بچے سے محبت رکھتے ہو ؟ اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! جی ہاں اللہ تعالیٰ بھی آپ سے اسی طرح محبت رکھے جس طرح میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس سے جتنی محبت رکھتے ہو اللہ تعالیٰ مجھ سے اس سے زیادہ محبت رکھتا ہے اس کے کچھ عرصے بعد اس بچے کا انتقال ہو گیا وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا حالانکہ پہلے وہ اپنے بیٹے کو ساتھ لے کے آیا کرتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے آہ وفغاں کی تھی اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہارا بیٹا میرے بیٹے ابراہیم کے ساتھ ہو ، اور وہ عرش کے سائے کے نیچے اس کے ساتھ کھیل رہا ہو اس شخص نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابراہیم بن عبید کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اگر تو ابراہیم نامی یہ راوی ابراہیم بن عبید بن رفاعہ ہے ، تو پھر یہ ” صحیح “ کے رجال میں سے ایک ہے ، اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ وہی ہے کیونکہ میں نے تابعین میں ایسا کوئی شخص نہیں پایا جس کا نام ابراہیم بن عبید ہو یہ راوی ضعیف ہے ، اور اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابراہیم بن عبید کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اگر تو ابراہیم نامی یہ راوی ابراہیم بن عبید بن رفاعہ ہے ، تو پھر یہ ” صحیح “ کے رجال میں سے ایک ہے ، اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ وہی ہے کیونکہ میں نے تابعین میں ایسا کوئی شخص نہیں پایا جس کا نام ابراہیم بن عبید ہو یہ راوی ضعیف ہے ، اور اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : رَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ صِبْيَانًا مَعَ وَلَدِهِ يَلْعَبُونَ فَقَالَ : هَؤُلَاءِ أَهْوَنُ عَلَيَّ مِنْ عِدْتِهِمْ مِنِ الْجِعْلَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کچھ بچوں کو اپنے بیٹے کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا : یہ میرے نزدیک اتنی ہی تعداد میں جعلان ( نامی پتنگوں ) سے زیادہ بے حیثیت ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدٌ ذَكَرٌ ، أَوْ أُنْثَى - سَلَّمَ أَوْ لَمْ يُسَلِّمْ ، رَضِيَ أَوْ لَمْ يَرْضَ ، صَبَرَ أَوْ لَمْ يَصْبِرْ - لَمْ يَكُنْ لَهُ ثَوَابٌ دُونَ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْأَعْشَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کا کوئی بچہ فوت ہو جائے خواہ بچہ ہو ، یا بچی ہو خواہ اس نے اس کو تسلیم کیا ہو ، یا نہ کیا ہو ، اس پر راضی ہوا ہو ، یا نہ ہوا ہو اس نے صبر سے کام لیا ہو ، یا نہ لیا ہو ، اس کا ثواب جنت سے کم نہیں ہو گا “ ۔
يہ روایت امام طبرانی نے ہم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد اعشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
يہ روایت امام طبرانی نے ہم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد اعشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَزَوَّجُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ، وَإِنَّ السَّقْطَ لَيُرَى مُحْبَنْطِئًا بِبَابِ الْجَنَّةِ ، يُقَالُ لَهُ : ادْخُلْ . يَقُولُ : حَتَّى يَدْخُلَ أَبَوَايَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ شادی کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت پر دیگر امتوں کے سامنے فخر کروں گا ، اور مردہ پیدا ہونے والا بچہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا ہو گا اس سے کہا: جائے گا تم اندر داخل ہو جاؤ وہ کہے گا جی نہیں جب تک میرے ماں باپ داخل نہیں ہوتے ( میں اندر نہیں جاؤں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهُ يُقَالُ لَلْوَالِدَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ . فَيَقُولُونَ : يَا رَبِّ حَتَّى تَدْخُلَ آبَاؤُنَا وَأُمَّهَاتُنَا . قَالَ : فَيَأْبَوْنَ . قَالَ : فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَا لِي أَرَاهُمْ مُحْبَنْطِئِينَ ، ادْخُلُوا الْجَنَّةَ . قَالَ : فَيَقُولُونَ : يَا رَبِّ آبَاؤُنَا . فَيَقُولُ : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” قیامت کے دن بچوں سے یہ کہا: جائے گا تم جنت میں داخل ہو جاؤ تو وہ عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار جب تک ہمارے باپ اور ہماری مائیں داخل نہیں ہوں گے ( ہم داخل نہیں ہوں گے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تو وہ انکار کر دیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا وجہ ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ رکے ہوئے ہیں تم لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے آباء بھی ؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم اور تمہارے آباء جنت میں داخل ہو جاؤ“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔