مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ مَاتَ لَهُ وَاحِدٌ . باب: جس کا ایک بچہ فوت ہوا ہو
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتُحِبُّهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ . فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَا فَعَلَ فَلَانُ بْنُ فُلَانٍ ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاتَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ : " أَلَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِكُلِّنَا ؟ قَالَ : " بَلْ لِكُلِّكُمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارِ قَوْلِ الرَّجُلِ : أَلَهُ خَاصَّةً ؟ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا قره بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا اس کے ساتھ اس کا بیٹا ہوتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس سے محبت رکھتے ہو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں اللہ تعالیٰ بھی آپ سے اس طرح محبت رکھے جس طرح میں اس سے محبت رکھتا ہوں پھر ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو غیر موجود پا کر دریافت کیا : فلاں بن فلاں کا کیا حال ہے ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا انتقال ہو گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کے باپ سے فرمایا کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے ہو کہ تم جنت کے جس بھی دروازے پر آؤ تو اس بچے کو اس دروازے پر پاؤ کہ ” تمہارا انتظار کر رہا ہو ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ اس کے لئے مخصوص ہے ، یا ہم سب کے لئے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( جی نہیں ) بلکہ یہ تم سب کے لئے ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جس میں آدمی کے یہ الفاظ ہیں : ” کیا یہ اس کے لئے مخصوص ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔