حدیث نمبر: 3980
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاتَ لِي وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ : " مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا " ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَقِيَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ : فَقَالَ لِي : أَنْتَ الَّذِي قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سَلَّمَ فِي الْوَلَدَيْنِ مَا قَالَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . فَقَالَ : لَأَنْ يَكُونَ قَالَهُ لِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا غُلِّقَتْ عَلَيْهِ حِمْصُ وَفِلَسْطِينُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسلام میں میرے دو بچے انتقال کر گئے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام میں جس شخص کے دو بچے فوت ہو جائیں اللہ تعالیٰ ان دونوں بچوں پر اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے اس شخص کو جنت میں داخل کر دے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد میری ملاقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے دریافت کیا : تم ہی وہ شخص ہو جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بچوں کے بارے میں وہ بات ارشاد فرمائی تھی ؟ میں نے جواب دیا جی ہاں تو انہوں نے فرمایا : اگر یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں ارشاد فرمائی ہوتی ، تو یہ میرے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہوتا جس پر حمص اور فلسطین کے دروازے بند ہوتے ہیں ( یعنی ان شہروں میں جتنا ساز و سامان ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3981
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَاحْتَسَبَهُمْ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاثْنَانِ ؟ قَالَ : " وَاثْنَانِ " . قَالَ مَحْمُودٌ : فَقُلْتُ لِجَابِرٍ : أُرَاكُمْ لَوْ قُلْتُمْ وَاحِدًا لَقَالَ : وَاحِدًا . قَالَ : وَأَنَا وَاللَّهِ أَظُنُّ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان کے حوالے سے ثواب کی امید رکھے وہ جنت میں داخل ہو گا راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر دو ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر دو ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) “ ۔ محمود نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ لوگوں کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اگر آپ یہ کہہ دیتے کہ اگر ایک ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرما دینا تھا کہ اگر ایک ہو ( تو بھی یہ اجر و ثواب حاصل ہو گا ) تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم میرا بھی یہی گمان ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3982
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْجَبَ ذُو ثَلَاثَةٍ " . فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ : وَذُو الِاثْنَيْنِ ؟ فَقَالَ : " وَذُو الِاثْنَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ : أَوْ وَاحِدٍ ؟ قَالَ : " وَوَاحِدٍ " . ¤ وَيَأْتِي فِي الْبَابِ الْآتِي ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ وَفِيهِ أَبُو رَمْلَةَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَّحَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین والا واجب کر دیتا ہے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : دو والا بھی آپ نے ارشاد فرمایا : دو والا بھی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور ایک والا بھی ؟ آپ نے فرمایا : اور ایک والا بھی “ ۔
یہ روایت آگے چل کر آگے والے باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا اس کی سند میں ایک راوی ابورملہ ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق یا جرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور ایک والا بھی ؟ آپ نے فرمایا : اور ایک والا بھی “ ۔
یہ روایت آگے چل کر آگے والے باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا اس کی سند میں ایک راوی ابورملہ ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق یا جرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 3983
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ أُقَيْشٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا أَرْبَعَةُ أَوْلَادٍ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَثَلَاثَةٌ ؟ قَالَ : " وَثَلَاثَةٌ " . قَالُوا : وَاثْنَانِ ؟ قَالَ : " وَاثْنَانِ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن اقیش رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جن بھی دو مسلمان ( میاں بیوی ) کی چار اولادیں انتقال کر جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی فضل کی وجہ سے ان دونوں ( میاں بیوی ) کو جنت میں داخل کرے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر تین ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تین ( انتقال کر چکی ہوں تو بھی یہ اجر و ثواب حاصل ہو گا ) لوگوں نے عرض کی : اگر دو ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر دو ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا“ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3984
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ أُقَيْشٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي بَرْزَةَ فَحَدَّثَ لَيْلَتَئِذٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا أَرْبَعَةُ أَفْرَاطٍ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَثَلَاثَةٌ ؟ قَالَ : " وَثَلَاثَةٌ " . قَالُوا : وَاثْنَانِ ؟ قَالَ : " وَاثْنَانِ " . قَالَ : " وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يُعَظَّمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ أَحَدَ زَوَايَاهَا ، وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ مِثْلُ مُضَرَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَرْزَةِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن اقیش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے انہوں نے ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جن بھی دو مسلمان ( میاں بیوی ) کے چار بچے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے ان دونوں ( میاں بیوی ) کو جنت میں داخل کرے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر تین ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تین ( بچے انتقال کر چکے ہوں تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) لوگوں نے عرض کی : اگر دو ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر دو ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا “ ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کا ایک شخص جہنم میں اتنا بڑا ہو گا کہ وہ جہنم کے ایک گوشے میں پورا آ جائے گا میری امت کا ایک فرد ایسا بھی ہو گا کہ اس کی شفاعت کی وجہ سے مضر قبیلے ( کے افراد کی تعداد جتنے لوگ ) جنت میں داخل ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3985
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ابْنَةِ مِلْحَانَ ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ " ، قَالَهَا ثَلَاثًا . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاثْنَانِ ؟ قَالَ : " وَاثْنَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْصَارِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَّحَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جن بھی ( دو میاں بیوئی ) کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے انتقال کر جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے ان دونوں ( میاں بیوی ) کو جنت میں داخل کرے گا “ ۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر دو ہوں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اگر دو ہوئے ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عاصم انصاری ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق یا جرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور اس کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عاصم انصاری ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق یا جرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور اس کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3986
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ مَاتَ ابْنٌ لَهَا فَجَزِعَتْ عَلَيْهِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ ، فَلَمَّا بَلَغَ بَابَ الْمَرْأَةِ قِيلَ لِلْمَرْأَةِ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ يُعَزِّيهَا ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَمَا أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكِ جَزِعْتِ عَلَى ابْنِكِ ! ! " قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا لِيَ لَا أَجْزَعُ وَأَنَا رَقُوبٌ لَا يَعِيشُ لِي وَلَدٌ ! ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الرَّقُوبُ الَّذِي يَعِيشُ وَلَدُهَا ، إِنَّهُ لَا يَمُوتُ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَوِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ نَسَمَةٌ - أَوْ قَالَ : ثَلَاثَةٌ مِنْ وَلَدِهِ - يَحْتَسِبُهُمْ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " ، فَقَالَ عُمَرُ وَهُوَ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِأَبِي وَأُمِّي ، وَاثْنَيْنِ ؟ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاثْنَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ کو یہ اطلاع ملی کہ انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا بیٹا فوت ہو گیا ہے ، اور وہ اس پر رو رہی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے ، جب آپ اس خاتون کے دروازے پر پہنچے تو اس خاتون کو بتایا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تعزیت کے لئے تشریف لانے لگے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ تم اپنے بیٹے پر رو رہی ہو ؟ اس خاتون نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں کیوں نہ روؤں جبکہ میں ایک ایسی رقوب عورت ہوں کہ میرا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رقوب وہ ہوتی ہے ، جس کا بچہ زندہ رہ جائے جس بھی مسلمان عورت یا مسلمان مرد کا ایک بچہ فوت ہو جائے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کی اولاد میں سے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان پر ثواب کی امید رکھے تو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف موجود تھے انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ قربان ہوں اگر دو ( بچے فوت ہوئے ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر دو ہوئے ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3987
وَعَنْ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ مَاتَ لِي ابْنَانِ سِوَى هَذَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدِ احْتَظَرْتِ مِنْ دُونِ النَّارِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زہیر بن ابوعلقمہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بچے کے علاوہ میرے دو بیٹے فوت ہو چکے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے جہنم سے بچاؤ کے لئے مضبوط رکاوٹ حاصل کر لی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3988
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ : تُوُفِّيَ لِي وَلَدَانِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُوُفِّيَ لِي وَلَدَانِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدَانِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " ، فَلَقِيَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ : أَنْتَ الَّذِي حَدَّثَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوَلَدَيْنِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : لَأَنْ تَكُونَ حَدَّثْتَنِي بِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا غُلِّقَتْ عَلَيْهِ فِلَسْطِينُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفَرَّقَهُمَا جَعَلَ الْأَشْجَعِيَّ الَّذِي تَقَدَّمَ غَيْرَ هَذَا - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے دو بچے فوت ہو گئے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے دو بچے فوت ہو چکے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کے دو بچے فوت ہوئے ہوں اللہ تعالیٰ ان ( بچوں ) پر اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی انہوں نے دریافت کیا : کیا تم ہی وہ شخص ہو جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بچوں کے بارے میں حدیث ارشاد فرمائی تھی ؟ میں نے کہا: جی ہاں ۔ تو انہوں نے فرمایا : تم خود مجھے یہ حدیث بیان کر دو یہ میرے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہو گا جس پر فلسطین کا دروازہ بند ہوتا ہے ( یعنی اس شہر میں جتنا مال و اسباب پایا جاتا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے ان دونوں میں فرق کیا ہے ، انہوں نے یہ بیان کیا ہے وہ اشجعی جو اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ وہ ان کے علاوہ ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے ان دونوں میں فرق کیا ہے ، انہوں نے یہ بیان کیا ہے وہ اشجعی جو اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ وہ ان کے علاوہ ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3989
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ قَدَّمَ شَيْئًا مِنْ وَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا حَجَبُوهُ بِإِذْنِ اللَّهِ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ أَحَادِيثُ حِسَانٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس کا بچہ فوت ہو جائے اور وہ صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے تو وہ بچے اللہ کے حکم تحت اسے آگ سے بچا لیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی تیمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے حسن احادیث منقول ہیں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی تیمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے حسن احادیث منقول ہیں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3990
وَعَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ ، مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثَةُ أَفْرَاطٍ مِنْ وَلَدِهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " ، وَكَانَتْ أُمُّ مُبَشِّرٍ تَطْبُخُ طَبِيخًا قَالَتْ : وَفَرَطَانِ ؟ فَقَالَ : " أَوْ فَرَطَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے ام مبشر جس کے تین بچے فوت ہو جائیں اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہ اس وقت کچھ پکا رہی تھیں انہوں نے عرض کی : اگر دو ہوں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر دو ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔ (
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مثنی بن صباح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔