مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ مَاتَ لَهُ وَاحِدٌ . باب: جس کا ایک بچہ فوت ہوا ہو
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا مَرِيضٌ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَ ابْنِي هَذَا . قَالَ : فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ لَكِ فَرَطٌ " . قَالَتْ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ فِي الْإِسْلَامِ ؟ " . قَالَتْ : بَلْ فِي الْإِسْلَامِ . قَالَ : " جُنَّةٌ حَصِينَةٌ جُنَّةٌ حَصِينَةٌ ، [جُنَّةٌ حَصِينَةٌ ] " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ النَّاجِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا جو بیمار تھا اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ میرے اس بیٹے کو شفاء نصیب کرے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا : کیا تمہارا کوئی بچہ فوت ہو چکا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : زمانہ جاہلیت میں ہوا تھا یا زمانہ اسلام میں ہوا تھا ؟ اس نے عرض کی : زمانہ اسلام میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ مضبوط ڈھال ہے یہ مضبوط ڈھال ہے یہ مضبوط ڈھال ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ ناجی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔