مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ مَاتَ لَهُ وَاحِدٌ . باب: جس کا ایک بچہ فوت ہوا ہو
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهُ ابْنٌ يَرُوحُ إِذَا رَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَقَالَ : " أَتُحِبُّهُ ؟ " فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ نَعَمْ ، فَأَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ . فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَشَدُّ لِي حُبًّا مِنْكَ لَهُ " . فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَ ابْنُهُ ذَاكَ ، فَرَاحَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَقْبَلَ عَلَيْهِ ابْنُهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجَزِعْتَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ يَكُونَ ابْنُكَ مَعَ ابْنِي إِبْرَاهِيمَ يُلَاعِبُهُ تَحْتَ ظِلِّ الْعَرْشِ ؟ " . قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، فَإِنْ كَانَ إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ فَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، الظَّاهِرُ أَنَّهُ هُوَ وَلَمْ أَجِدْ مِنِ اسْمِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عُبَيْدٍ فِي التَّابِعِينَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا ایک بیٹا تھا وہ شخص جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا ، تو وہ بچہ بھی ساتھ آتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا : کیا تم اس بچے سے محبت رکھتے ہو ؟ اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! جی ہاں اللہ تعالیٰ بھی آپ سے اسی طرح محبت رکھے جس طرح میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس سے جتنی محبت رکھتے ہو اللہ تعالیٰ مجھ سے اس سے زیادہ محبت رکھتا ہے اس کے کچھ عرصے بعد اس بچے کا انتقال ہو گیا وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا حالانکہ پہلے وہ اپنے بیٹے کو ساتھ لے کے آیا کرتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے آہ وفغاں کی تھی اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہارا بیٹا میرے بیٹے ابراہیم کے ساتھ ہو ، اور وہ عرش کے سائے کے نیچے اس کے ساتھ کھیل رہا ہو اس شخص نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابراہیم بن عبید کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اگر تو ابراہیم نامی یہ راوی ابراہیم بن عبید بن رفاعہ ہے ، تو پھر یہ ” صحیح “ کے رجال میں سے ایک ہے ، اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ وہی ہے کیونکہ میں نے تابعین میں ایسا کوئی شخص نہیں پایا جس کا نام ابراہیم بن عبید ہو یہ راوی ضعیف ہے ، اور اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔