مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ مَاتَ لَهُ وَاحِدٌ . باب: جس کا ایک بچہ فوت ہوا ہو
وَعَنْ حَسَّانَ بْنِ كُرَيْبٍ أَنْ غُلَامًا مِنْهُمْ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ أَبَوَاهُ أَشَدَّ الْوَجْدِ ، فَقَالَ حَوْشَبٌ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ ابْنِكَ ؟ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ كَانَ لَهُ ابْنٌ قَدْ أَدَبَّ أَوْ دَبَّ ، وَكَانَ يَأْتِي مَعَ أَبِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ أَبُوهُ قَرِيبًا مِنْ سِتَّةِ أَيَّامٍ لَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَرَى فُلَانًا ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا فُلَانُ ، أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ اِلْآنَ كَأَنْشَطِ الصِّبْيَانِ نَشَاطًا ؟ أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ أَجْرَأُ الْغِلْمَانِ جَرَاءَةً ؟ أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ كَهْلًا كَأَفْضَلِ الْكُهُولِ ؟ أَوْ يُقَالُ لَكَ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ثَوَابَ مَا أُخِذَ مِنْكَ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤حسان بن کریب بیان کرتے ہیں : ان کا ایک بچہ فوت ہو گیا بچے کے ماں باپ کو بہت شدید صدمہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا حوشب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو وہ بیان کروں ؟ جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، تمہارے بیٹے کی طرح ایک بچے کے فوت ہونے پر آپ نے وہ بات ارشاد فرمائی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کا ایک بیٹا تھا جو گھٹنوں کے بل چلتا تھا ، وہ اپنے والد کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا پھر اس بچے کا انتقال ہو گیا اس بچے کے انتقال کے غم کی وجہ سے وہ صاحب چھ دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں فلاں شخص کو نہیں دیکھ رہا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے ، تو وہ اس کے حوالے سے غمگین ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا : اے فلاں ! کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہارا بچہ اس وقت تمہارے پاس موجود ہوتا اور سب سے زیادہ چاک و چوبند ہوتا یا پھر تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہارا بیٹا تمہارے پاس ہوتا اور وہ سب سے زیادہ جرات والا بچہ ہوتا ، کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہارا بیٹا تمہارے پاس ہوتا اور سب سے زیادہ ادھیڑ عمری تک پہنچتا ، یا پھر یہ ہے کہ تم سے یہ کہا: جائے : تم سے جو چیز واپس لی گئی ہے ، اس کے ثواب میں تم جنت میں داخل ہو جاؤ“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔